Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

اَلشَّهْرُ الْحَـرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَـرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌۗ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ

اَلشَّهْرُ
ماہ
الْحَرَامُ
حرام
بِالشَّهْرِ
بدلے ماہ
الْحَرَامِ
حرام کے
وَالْحُرُمٰتُ
اور حرمتوں کا
قِصَاصٌ ۭ
بدلہ ہے
فَمَنِ
تو جو کوئی
اعْتَدٰى
زیادتی کرے
عَلَيْكُمْ
تم پر
فَاعْتَدُوْا
تو زیادتی کرو
عَلَيْهِ
اس پر
بِمِثْلِ
مانند اس کے
مَا
جو
اعْتَدٰى
زیادتی کی اس نے
عَلَيْكُمْ ۠
تم پر
وَاتَّقُوا
اور ڈرو
اللّٰهَ
اللہ سے
وَاعْلَمُوْٓا
اور جان لو
اَنَّ
بیشک
اللّٰهَ
اللہ
مَعَ
ساتھ ہے
الْمُتَّقِيْنَ
تقویٰ کرنے والوں کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں

ابوالاعلی مودودی

ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں

احمد رضا خان

ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے،

احمد علی

حرمت واے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور سب قابلِ تعظیم باتوں کا بدلہ ہے پھر جو تم پر زیادتی کرےتم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی کہ اس نے تم پر زیادتی کی اور الله سے ڈرو اور جان لو کہ الله پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

جالندہری

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

محمد جوناگڑھی

حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

محمد حسین نجفی

حرمت والے مہینہ کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور حرمتوں میں بھی قصاص (ادلا بدلا) ہے لہٰذا جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور سمجھ لو کہ اللہ یقینا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

علامہ جوادی

شہر حرام کا جواب شہر حرام ہے اور حرمات کا بھی قصاص ہے لہٰذا جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویسا ہی برتاؤ کرو جیسی زیادتی اس نے کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ خدا پرہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے

طاہر القادری

حرمت والے مہینے کے بدلے حرمت والا مہینہ ہے اور (دیگر) حرمت والی چیزیں ایک دوسرے کا بدل ہیں، پس اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو مگر اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی، اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اﷲ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے،

تفسير ابن كثير

بیعت رضوان
ذوالقعدہ سن\0\06ہجری میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرے کے لئے صحابہ کرام سمیت مکہ کو تشریف لے چلے لیکن مشرکین نے آپ کو حدیبیہ والے میدان میں روک لیا بالآخر اس بات پر صلح ہوئی کہ آئندہ سال آپ عمرہ کریں اور اس سال واپس تشریف لے جائیں چونکہ ذی القعدہ کا مہینہ بھی حرمت والا مہینہ ہے اس لئے یہ آیت نازل ہوئی مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرمت والے مہینوں میں جنگ نہیں کرتے تھے ہاں اگر کوئی آپ پر چڑھائی کرے تو اور بات ہے بلکہ جنگ کرتے ہوئے اگر حرمت والے مہینے آجاتے تو آپ لڑائی موقوف کردیتے، حدیبیہ کے میدان میں بھی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمان کو مشرکین نے قتل کردیا جو کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام لے کر مکہ شریف میں گئے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چودہ سو صحابہ سے ایک درخت تلے مشرکوں سے جہاد کرنے کی بیعت لی پھر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط ہے تو آپ نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا اور صلح کی طرف مائل ہوگئے۔ پھر جو واقعہ ہوا وہ ہوا۔ اسی طرح جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوازن کی لڑائی سے حنین والے دن فارغ ہوئے اور مشرکین طائف میں جا کر قلعہ بند ہوگئے تو آپ نے اس کا محاصرہ کرلیا چالیس دن تک یہ محاصرہ رہا بالآخر کچھ صحابہ کی شہادت کے بعد محاصرہ اٹھا کر آپ مکہ کی طرف لوٹ گئے اور جعرانہ سے آپ نے عمرے کا احرام باندھا یہیں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور یہ عمرہ آپ کا ذوالقعدہ میں ہوا یہ سن\0\08ہجری کا واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر درود وسلام بھیجے۔ پھر فرماتا ہے جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرلو، یعنی مشرکین سے بھی عدل کا خیال رکھو، یہاں بھی زیادتی کے بدلے کو زیادتی سے تعبیر کرنا ویسا ہی ہے جیسے اور جگہ عذاب وسزا کے بدلے میں برائی کے لفظ سے بیان کیا گیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ آیت مکہ شریف میں اتری جہاں مسلمانوں میں کوئی شوکت وشان نہ تھی نہ جہاد کا حکم تھا پھر یہ آیت مدینہ شریف میں جہاد کے حکم سے منسوخ ہوگئی، لیکن امام ابن جریر (رح) نے اس بات کی تردید کی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے عمرہ قضا کے بعد نازل ہوئی ہے حضرت مجاہد کا قول بھی یہی ہے۔ ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیزگاری اختیار کرو اور اسے جان لو کہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت رہتی ہے۔