Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَلَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ

وَ
اور
لَقَدْ
نازل کیں ہم نے
اَنْزَلْنَآ
طرف آپ کے
اِلَيْكَ
آیات
اٰيٰتٍ
روشن
بَيِّنٰتٍ
اور
وَ
نہیں
مَا
کفر کرتے
يَكْفُرُ
ساتھ ان کے
بِهَآ
مگر
اِلَّا
وہ جو فاسق ہیں
الْفٰسِقُوْنَ
وہ جو فاسق ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کر نے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں، جو فاسق ہیں

ابوالاعلی مودودی

ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کر نے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں، جو فاسق ہیں

احمد رضا خان

اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ -

احمد علی

اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان سے انکاری نہیں مگر فاسق

جالندہری

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں

محمد جوناگڑھی

اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا

محمد حسین نجفی

(اے رسول(ص)) بالیقین ہم نے تمہاری طرف واضح آیتیں نازل کی ہیں اور ان کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو فاسق (نافرمان) ہیں۔

علامہ جوادی

ہم نے آپ کی طرف روشن نشانیاں نازل کی ہیں اور ان کا انکار فاسقوں کے سوا کوئی نہ کرے گا

طاہر القادری

اور بیشک ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان (نشانیوں) کا سوائے نافرمانوں کے کوئی انکار نہیں کر سکتا،

تفسير ابن كثير

سلیمان (علیہ السلام) جادوگر نہیں تھے
یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے ایسی نشانیاں جو آپ کی نبوت کی صریح دلیل بن سکیں نازل فرما دی ہیں یہودیوں کی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ان کی کتاب کی پوشیدہ باتیں ان کی تحریف و تبدیل احکام وغیرہ سب ہم نے اپنی معجزہ نما کتاب قرآن کریم میں بیان فرما دیئے ہیں جنہیں سن کر ہر زندہ ضمیر آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ یہودیوں کو ان کا حسد و بغض روک دے ورنہ ہر شخص جان سکتا ہے کہ ایک امی شخص سے ایسا پاکیزہ خوبیوں والا حکمتوں والا کلام کہا نہیں جاسکتا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابن صوریا قطوبنی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ بطور نبوت کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس سے ہم پہچان لیں نہ آپ کے پاس کوئی ایسی خاص روشن دلیلیں ہیں اس پر یہ آیت پاک نازل ہوئی چونکہ یہودیوں نے اس بات سے انکار کردیا تھا کہ ہم سے پیغمبر آخر الزمان کی بابت کوئی عہد لیا گیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو ان کی عادت ہی ہے کہ عہد کیا اور توڑا بلکہ ان کے اکثریت تو ایمان سے بالکل خالی ہے نبذ کا معنی پھینک دینا ہے چونکہ ان لوگوں نے کتاب اللہ کو اور عہد باری کو اس طرح چھوڑ رکھا تھا گویا پھینک دیا تھا اس لئے ان کی مذمت میں یہی لفظ لایا گیا دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت (يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ) 7 ۔ الاعراف ;157) یعنی یہ لوگ توراۃ و انجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہمارے پیغمبر ان کے پاس آیا تو ان کے ایک فریق نے اللہ رب العزت کی کتاب سے بےپرواہی برت کر اس طرح اسے چھوڑ دیا جیسے کوئی علم ہی نہیں۔ بلکہ جادو کے پیچھے پڑگئے اور خود حضور پر جادو کیا جس کی اطلاع آپ کو جناب باری تعالیٰ نے دی اور اس کا اثر زائل ہوا اور آپ کو شفا ملی۔ توراۃ سے تو حضور کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اس لئے کہ وہ تو اس کی تصدیق والی تھی تو اسے چھوڑ کر دوسری کتابوں کی پیروی کرنے لگے اور اللہ کی کتاب کو اس طرح چھوڑ دیا کہ گویا کبھی جانتے ہی نہ تھے نفسانی خواہشیں سامنے رکھ لیں اور کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ راگ باجے کھیل تماشے اور اللہ کے ذکر سے روکنے والی ہر چیز آیت (ماتتلوا الشیاطین) میں داخل ہے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک انگوٹھی تھی جب آپ بیت الخلاء جاتے تو اپنی بیوی حضرت جرادہ کو دے جاتے جب حضرت سلیمان کی آزمائش کا وقت آیا اس وقت ایک شیطان جن آپ کی صورت میں آپ کی بیوی صاحبہ کے پاس آیا اور انگوٹھی طلب کی جو دے دی گئی اس نے پہن لی اور تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا تمام جنات وغیرہ حاضر خدمت ہوگئے حکومت کرنے لگا ادھر جب حضرت سلیمان واپس آئے اور انگوٹھی طلب کی تو جواب ملا تو جھوٹا ہے انگوٹھی تو حضرت سلیمان لے گئے آپ نے سجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ان دنوں میں شیاطین نے جادو، نجوم، کہانت، شعر و اشعار اور غیب کی جھوٹی سچی خبروں کی کتابیں لکھ لکھ کر حضرت سلیمان کی کرسی تلے دفن کرنی شروع کردیں آپ کی آزمائش کا یہ زمانہ ختم ہوگیا آپ پھر تخت و تاج کے مالک ہوئے عمر طبعی کو پہنچ کر جب رحلت فرمائی تو شیاطین نے انسانوں سے کہنا شروع کیا کہ حضرت سلیمان کا خزانہ اور وہ کتابیں جن کے ذریعہ سے وہ ہواؤں اور جنات پر حکمرانی کرتے تھے ان کی کرسی تلے دفن ہیں چونکہ جنات اس کرسی کے پاس نہیں جاسکتے تھے اس لئے انسانوں نے اسے کھودا تو وہ کتابیں برآمد ہوئیں بس ان کا چرچا ہوگیا اور ہر شخص کی زبان پر چڑھ گیا کہ حضرت سلیمان کی حکومت کا راز یہی تھا بلکہ لوگ حضرت سلیمان کی نبوت سے منکر ہوگئے اور آپ کو جادوگر کہنے لگے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو عقدہ کشائی کی اور فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ جادوگری کا یہ کفر تو شیاطین کا پھیلایا ہوا ہے حضرت سلیمان اس سے بری الذمہ ہیں حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص آیا آپ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا عراق سے ! فرمایا عراق کے کس شہر سے ؟ اس نے کا کوفہ سے ! پوچھا وہاں کی کیا خبریں ہیں ؟ اس نے کہا وہاں باتیں ہو رہی ہیں کہ حضرت علی انتقال نہیں کر گئے بلکہ زندہ روپوش ہیں اور عنقرب آئیں گے آپ کانپ اٹھے اور فرمانے لگے اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے اور ان کی عورتیں اپنا دوسرا نکاح نہ کرتیں سنو شیاطین آسمانی باتیں چرا لایا کرتے تھے اور ان میں اپنی باتیں ملا کر لوگوں میں پھیلایا کرتے تھے، حضرت سلیمان نے یہ تمام کتابیں جمع کر کے اپنی کرسی تلے دفن کردیں۔ آپ کے انتقال کے بعد جنات نے وہ پھر نکال لیں وہی کتابیں عراقیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان ہی کتابوں کی باتیں وہ بیان کرتے اور پھیلاتے رہتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت آیت (واتبعوا) الخ میں ہے اس زمانہ میں یہ بھی مشہور ہوگیا تھا کہ شیاطین علم غیب جانتے ہیں حضرت سلیمان نے ان کتابوں کو صندوق میں بھر کر دفن کردینے کے بعد یہ حکم جاری کردیا کہ جو یہ کہے گا اس کی گردن ماری جائے گی بعض روایتوں میں ہے کہ جنات نے ان کتابوں کو حضرت سلیمان کے انتقال کے بعد آپ کی کرسی تلے دفن کیا تھا اور ان کے شروع صفحہ پر لکھ دیا تھا کہ یہ علمی خزانہ آصف بن برخیا کا جمع کیا ہوا ہے جو حضرت سلیمان بن داؤد کے وزیر اعظم مشیر خاص اور دلی دوست تھے یہودیوں میں مشہور تھا کہ حضرت سلیمان نبی نہ تھے بلکہ جادوگر تھے اس بنا پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اللہ کے سچے نبی نے ایک سچے نبی کی برات کی اور یہودیوں کے اس عقیدے کا ابطال کیا وہ حضرت سلیمان کا نام نبیوں کے زمرے میں سن کر بہت بدکتے تھے اس لئے تفصیل کیساتھ اس واقعہ کو بیان کردیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ حضرت سلیمان نے تمام موذی جانوروں سے عہد لیا تھا جب انہیں وہ عہد یاد کرایا جاتا تھا تو وہ ستاتے نہ تھے پھر لوگوں نے اپنی طرف سے عبارتیں بنا کر جادو کی قسم کے منتر تنتر بنا کر ان سب کو آپ کی طرف منسوب کردیا جس کا بطلان ان آیات کریمہ میں ہے یاد رہے کہ " علی " یہاں پر " فی " کے معنی میں ہے یا " تتلو " متضمن ہے تکذب کا، یہی اولی اور احسن ہے واللہ اعلم خواجہ حسن بصری کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادوگروں کا ہونا قرآن سے ثابت ہے اور حضرت سلیمان کا حضرت موسیٰ کے بعد ہونا بھی قرآن سے ظاہر ہے۔ داؤد اور جالوت کے قصے میں ہے من بعد موسیٰ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی پہلے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا تھا آیت (انما انت من المسحرین) یعنی تو جادو کئے گئے لوگوں میں سے ہے۔ پھر فرماتا ہے آیت (وما انزل) الخ بعض تو کہتے ہیں یہاں پر " ما نافیہ " ہے یعنی انکار کے معنی میں ہے اور اس کا عطف ماکفر سلیمان پر ہے یہودیوں کے اس دوسرے اعتقاد کی کہ جادو فرشتوں پر نازل ہوا ہے اس آیت میں تردید ہے، ہاروت، ماروت لفظ شیاطین کا بدل ہے تثنیہ پر بھی جمع کا اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت (ان کانا لہ اخوۃ) میں یا اس لئے جمع کیا گیا کہ ان کے ماننے والوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے اور ان کا نام ان کی زیادہ سرکشی کی وجہ سے سرفہرست دیا گیا ہے قرطبی تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا یہی ٹھیک مطلب ہے اس کے سوا کسی اور معنی کی طرف التفات بھی نہ کرنا چاہئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جادو اللہ عزوجل کا نازل کیا ہوا نہیں۔ ربیع بن انس فرماتے ہیں ان پر کوئی جادو نہیں اترا۔ اس بناء پر آیت کا ترجمہ اس طرح پر ہوگا کہ ان یہودیوں نے اس چیز کی تابعداری کی جو حضرت سلیمان کے زمانہ میں شیطان پڑھا کرتے تھے حضرت سلیمان نے کفر نہیں کیا نہ اللہ تعالیٰ نے جادو کو ان دو فرشتوں پر اتارا ہے (جیسے اے یہودیوں تمہارا خیال جبرائیل و میکائیل کی طرف ہے) بلکہ یہ کفر شیطانوں کا ہے جو بابل میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور ان کے سردار دو آدمی تھے جن کا نام ہاروت و ماروت تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی اسے اس طرح پڑھتے تھے آیت (وما انزل علی الملکین داود و سلیمان) یعنی داؤد و سلیمان دونوں بادشاہوں پر بھی جادو نہیں اتارا گیا یا یہ کہ وہ اس سے روکتے تھے کیونکہ یہ کفر ہے۔ امام ابن جریر نے اس کا زبردست رد کیا ہے وہ فرماتے ہیں " ما " معنی میں الذی کے ہے اور ہاروت ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے زمین کی طرف اتارا ہے اور اپنے بندوں کی آزمائش اور امتحان کے لئے انہیں جادو کی تعلیم دی ہے لہذا ہاروت ماروت اس فرمان باری تعالیٰ کو بجالا رہے ہیں۔ ایک غریب قول یہ بھی ہے کہ یہ جنوں کے دو قبیلے ہیں ملکینی یعنی دو بادشاہوں کی قرأت پر انزال خلق کے معنی میں ہوگا جیسے فرمایا آیت (وانزل لکم من الانعام ثمانیتہ ازواج) اور فرمایا آیت (وانزلنا الحدید) اور کہا آیت (وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ رِزْقًا) 40 ۔ غافر ;43) یعنی ہم نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا کئے، لوہا بنایا، آسمان سے روزیاں اتاریں۔ حدیث میں ہے دعا (ماانزل اللہ داء) یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ان سب کے علاج بھی پیدا کئے ہیں مثل مشہور ہے کہ بھلای برائی کا نازل کرنے والا اللہ ہے یہاں سب جگہ انزال یعنی پیدائش کے معنی میں ہے ایجاد یعنی لانے اور اتار نے کے معنی میں نہیں اسی طرح اس آیت میں بھی اکثر سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ دونوں فرشتے تھے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ مضمون بسط و طول کے ساتھ ہے جو ابھی بیان ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ فرشتے تو معصوم ہیں وہ گناہ کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ لوگوں کو جادو سکھائیں جو کفر ہے اس لئے کہ یہ دونوں بھی عام فرشتوں میں سے خاص ہوجائیں گے۔ جیسے کہ ابلیس کی بابت آپ آیت (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ) 2 ۔ البقرۃ ;34) کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں حضرت علی حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس حضرت ابن عمر کعب احبار، حضرت سدی، حضرت کلبی یہی فرماتے ہیں اب اس حدیث کو سنئے " رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جب آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا اور ان کی اولاد پھیلی اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہونے لگی تو فرشتوں نے کہا کہ دیکھو یہ کس قدر برے لوگ ہیں کیسے نافرمان اور سرکش ہیں ہم اگر ان کی جگہ ہوتے تو ہرگز ہرگز اللہ کی نافرمانی نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پسند کرلو میں ان میں انسانی خواہشات پیدا کرتا ہوں اور انہیں انسانوں میں بھیجتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کرتے ہیں چناچہ انہوں نے ہاروت و ماروت کو پیش کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانی طبیعت پیدا کی اور ان سے کہہ دیا کہ دیکھو بنی آدم کو تو میں نبیوں کے ذریعہ اپنے حکم احکام پہنچاتا ہوں لیکن تم سے بلاواسطہ خود کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا زنا نہ کرنا، شراب نہ پینا، اب یہ دونوں زمین پر اترے اور زہرہ کو ان کی آزمائش کے لئے حسین و شکیل عورت کی صورت میں ان کے پاس بھیجا جسے دیکھ کر یہ مفتوں ہوگئے اور اس سے زنا کرنا چاہا اس نے کہا اگر تم شرک کرو تو میں منظور کرتی ہوں انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہم سے نہ ہو سکے گا وہ چلی گئی پھر آئی اور کہنے لگی اچھا اس بچے کو قتل کر ڈالو تو مجھے تمہاری خواہش پوری کرنی منظور ہے انہوں نے اسے بھی نہ مانا وہ پھر آئی اور کہا کہ اچھا یہ شراب پی لو انہوں نے اسے ہلکا گناہ سمجھ کر اسے منظور کرلیا۔ اب نشہ میں مست ہو کر زنا کاری بھی کی اور اس بچے کو بھی قتل کر ڈالا جب ہوش حواس درست ہوئے تو اس عورت نے کہا جن جن کاموں کا تم پہلے انکار کرتے تھے سب تم نے کر ڈالے۔ یہ نادم ہوئے انہیں اختیار دیا گیا کہ یا تو عذاب دنیا کو اختیار کرو یا عذاب اخروی کو۔ انہوں نے دنیاے عذاب پسند کئے صحیح ابن حبان مسند احمد ابن مردویہ ابن جریر عبدالرزاق میں یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ مسند احمد کی یہ روایت غریب ہے اس میں ایک راوی موسیٰ بن جبیر انصاری سلمی کو ابن ابی حاتم نے مستور الحال لکھا ہے ابن مردویہ کی روایت میں یہی ہے کہ ایک رات کو اثناء سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے حضرت نافع سے پوچھا کہ کیا زہرہ تارا نکلا ؟ اس نے کہا نہیں دو تین مرتبہ سوال کے بعد کہا اب زہرہ طلوع ہوا تو فرمانے لگے اس سے نہ خوشی ہو نہ بھلائی ملے۔ حضرت نافع نے کہا حضرت ایک ستارہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلوع و غروب ہوتا ہے آپ اسے برا کہتے ہیں ؟ فرمایا میں وہی کہتا ہوں اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے پھر اس کے بعد مندرجہ بالا حدیث باختلاف الفاظ سنائی لیکن یہ بھی غریب ہے حضرت کعب والی روایت مرفوع سے زیادہ صحیح موقف ہے اور ممکن ہے کہ وہ نبی اسرائیل روایت ہو واللہ اعلم صحابہ اور تابعین سے بھی اس قسم کی روایتیں بہت کچھ منقول ہیں بعض میں ہے کہ زہرہ ایک عورت تھی اس نے ان فرشتوں سے یہ شرط کی تھی کہ تم مجھے وہ دعا سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمان پر چڑھ جاتے ہو انہوں نے سکھا دی یہ پڑھ کر چڑھ گئی اور وہاں تارے کی شکل میں بنادی گئی بعض مرفوع روایتوں میں بھی یہ ہے لیکن وہ منکر اور غیر صحیح ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو فرشتے صرف ایمان والوں کی بخشش کی دعا مانگتے تھے لیکن اس کے بعد تمام اہل زمین کے لئے دعا شروع کردی بعض روایتوں میں ہے کہ جب ان دونوں فرشتوں سے یہ نافرمانیاں سرزد ہوئیں تب اور فرشتوں نے اقرار کرلیا کہ بنی آدم جو اللہ تعالیٰ سے دور ہیں اور بن دیکھے ایمان لاتے ہیں جن سے خطاؤں کا سرزد ہوجانا کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں ان دونوں فرشتوں سے کہا گیا کہ اب یا تو دنیا کا عذاب پسند کرلو یا آخرت کے عذابوں کو اختیار کرلو۔ انہوں نے دنیا کا عذاب چن لیا چناچہ انہیں بابل میں عذاب ہو رہا ہے ایک روایت میں ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے تھے ان میں قتل سے اور مال حرام سے ممانعت بھی کی تھی اور یہ حکم بھی تھا کہ حکم عدل کے ساتھ کریں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ تین فرشتے تھے لیکن ایک نے آزمائش سے انکار کردیا اور واپس چلا گیا پھر دو کی آزمائش ہوئی ابن عباس فرماتے ہیں یہ واقعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا زمانہ کا ہے۔ یہاں بابل سے مراد بابل دنیاوند ہے اس عورت کا نام عربی میں زہرہ تھا اور لبطی زبان میں اس کا نام بیدخت تھا اور فارسی میں ناہید تھا۔ یہ عورت اپنے خاوند کے خلاف ایک مقدمہ لائی تھی جب انہوں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے کہا پہلے مجھے میرے خاند کے خلاف حکم دو تو مجھے منظور ہے انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس نے کہا مجھے یہ بھی بتادو کہ تم کیا پڑھ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہو اور کیا پڑھ کر اترتے ہو ؟ انہوں نے یہ بھی بتادیا چناچہ وہ اسے پڑھ کر آسمان پر چڑھ گئی اترنے کا وظیفہ بھول گئی اور وہیں ستارے کی صورت میں مسخ کردی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر جب کبھی زہرہ ستارے کو دیکھتے تو لعنت بھیجا کرتے تھے اب ان فرشتوں نے جب چڑھنا چاہا تو نہ چڑھ سکے سمجھ گئے کہ اب ہم ہلاک ہوئے حضرت مجاہد فرماتے ہیں پہلے پہل چند دنوں تک تو فرشتے ثابت قدم رہے صبح سے شام تک فیصلہ عدل کے ساتھ کرتے رہتے شام کو آسمان پر چڑھ جاتے پھر زہرہ کو دیکھ کر اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے زہرہ ستارے کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بھیجا الغرض ہاروت ماروت کا یہ قصہ تابعین میں سے بھی اکثر لوگوں نے بیان کیا ہے جیسے مجاہد، سدی، حسن بصری، قتادہ، ابو العالیہ، زہری، ربیع بن انس، مقتل بن حیان وغیرہ وغیرہ رحم اللہ اجمعین اور متقدمین اور متاخیرن مفسرین نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں اسے نقل کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر دار و مدار بنی اسرائیل کی کتابوں پر ہے کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث اس بات میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں اور نہ قرآن کریم میں اس قدر بسط و تفصیل ہے پس ہمارا ایمان ہے کہ جس قدر قرآن میں ہے صحیح اور درست ہے اور حقیقت حال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے (قرآن کریم کے ظاہری الفاظ مسند احمد ابن حبان بیہقی وغیرہ کی مرفوع حدیث حضرت علی حضرت ابن عباس بن مسعود وغیرہ کی موقوف روایات تابعین وغیرہ کی تفاسیر وغیرہ ملا کر اس واقعہ کی بہت کچھ تقویت ہوجاتی ہے نہ اس میں کوئی محال عقلی ہے نہ اس میں کسی اصول اسلامی کا خلاف ہے پھر ظاہر سے بےجا ہٹ اور تکلفات اٹھانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی واللہ اعلم) (فتح البیان) ابن جریر میں ایک غریب اثر اور ایک عجیب واقعہ ہے اسے بھی سنئے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ دومتہ الجندل کی ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال کے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد آپ کی تلاش میں آئی اور آپ کے انتقال کی خبر پا کر بےچین ہو کر رونے پیٹنے لگی میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے ؟ تو اس نے کہا کہ مجھ میں اور میرے شوہر میں ہمیشہ ناچاقی رہا کرتی تھی ایک مرتبہ وہ مجھے چھوڑ کر لاپتہ کہیں چلا گیا، ایک بڑھیا سے میں نے یہ سب ذکر کیا اس نے کہا جو میں کہوں وہ کر وہ خود بخود تیرے پاس آجائے گا میں تیار ہوگئی وہ رات کے وقت دو کتے لے کر میرے پاس آئی ایک پر وہ خود سوار ہوئی اور دوسرے پر میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں بابل پہنچ گئیں میں نے دیکھا کہ دو شخص ادھر لٹکے ہوئے ہیں اور لوہے میں جکڑے ہوئے ہیں اس عورت نے مجھ سے کہا ان کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ میں جادو سیکھنے آئی ہوں میں نے ان سے کہا انہوں نے کہا سن ہم تو آزمائش میں ہیں تو جادو نہ سیکھ اس کا سیکھنا کفر ہے میں نے کہا میں تو سیکھوں گی انہوں نے کہا اچھا پھر جا اور اس تنور میں پیشاب کر کے چلی آ میں گئی ارادہ کیا لیکن کچھ دہشت سی طاری ہوئی میں واپس آگئی اور کہا میں فارغ ہو آئی ہوں انہوں نے پوچھا کیا دیکھا ؟ میں نے کہا کچھ نہیں انہوں نے کہا تو غلط کہتی ہے ابھی تو کچھ نہیں بگڑا تیرا ایمان ثابت ہے اب بھی لوٹ جا اور کفر نہ کر میں نے کہا مجھے تو جادو سیکھنا ہے انہوں نے پھر کہا جا اور اس تنور میں پیشاب کر آ میں پھر گئی لیکن اب کی مرتبہ بھی دل نہ مانا واپس آئی پھر اسی طرح سوال جواب ہوئے میں تیسری مرتبہ پھر تنور کے پاس گئی اور دل کڑا کر کے پیشاب کرنے کو بیٹھ گئی میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے سوار منہ پر نقاب ڈالے نکلا اور آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ واپس چلی آئی ان سے ذکر کیا انہوں نے کہا ہاں اب کی مرتبہ تو سچ کہتی ہے وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ میں سے نکل گیا اب جا چلی جا میں آئی اور اس بڑھیا سے کہا انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں سکھایا اس نے کہا بس تجھے کچھ آگیا اب تو جو کہے گی ہوجائے گا میں نے آزمائش کے لئے ایک دانہ گیہوں کا لیا اسے زمین پر ڈال کر کہا اگ جا وہ فوراً اگ آیا میں نے کہا تجھ میں بال پیدا ہوجائے چناچہ ہوگئے میں نے کہا سوکھ جا وہ بال سوکھ گئے میں نے کہا الگ الگ دانہ ہوجا وہ بھی ہوگیا پھر میں نے کہا سوکھ جا تو سوکھ گیا پھر میں نے کہا آٹا بن جا تو آٹا بن گیا میں نے کہا روٹی پک جا تو روٹی پک گئی یہ دیکھتے ہی میرا دل نادم ہونے لگا اور مجھے اپنے بےایمان ہوجانے کا صدمہ ہونے لگا اے ام المومنین قسم اللہ کی نہ میں نے اس جادو سے کوئی کام لیا نہ کسی پر کیا میں یونہی روتی پیٹتی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہوں لیکن افسوس بدقستمی سے آپ کو بھی میں نے نہ پایا اب میں کیا کرو ؟ اتنا کہہ کر چپ ہوگئی سب کو اس پر ترس آنے لگا صحابہ کرام بھی متحیر تھے کہ اسے کیا فتویٰ دیں ؟ آخر بعض صحابہ نے کہا اب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ تم اس فعل کو نہ کرو توبہ استغفار کرو اور اپنے ماں باپ کی خدمت گزاری کرتی رہو یہاں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ صحابہ کرام فتویٰ دینے میں بہت احتیاط کرتے تھے کہ چھوٹی سی بات بتانے میں تامل ہوتا تھا آج ہم بڑی سے بڑی بات بھی اٹکل اور رائے قیاس سے گھڑ گھڑا کر بتانے میں بالکل نہیں رکتے اس کی اسناد بالکل صحیح ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ " عین " چیز جادو کے زور سے پلٹ جاتی ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں صرف دیکھنے والے کو ایسا خیال پڑتا ہے اصل چیز جیسی ہوتی ہے ویسی ہی رہتی ہے جیسے قرآن میں ہے آیت (سحروا اعین الناس) الخ یعنی انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور فرمایا آیت (یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی) حضرت موسیٰ کی طرف خیال ڈالا جاتا تھا کہ گویا وہ سانپ وغیرہ ان کے جادو کے زور سے چل پھر رہے ہیں اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ بابل سے مراد بابل عراق ہے بابل دنیاوند نہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) بابل کی زمین میں جا رہے تھے عصر کی نماز کا وقت آگیا لیکن آپ نے وہاں نماز ادا نہ کی بلکہ اس زمین کی سرحد سے نکل جانے کے بعد نماز پڑھی اور فرمایا میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور بابل کی زمین میں نماز پڑھنے سے بھی ممانعت فرمائی ہے یہ زمین ملعون ہے۔ ابو داؤد میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔ اور امام صاحب نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا اور جس حدیث کو حضرت امام ابو داؤد اپنی کتاب میں لائیں اور اس کی سند پر خاموشی کریں تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ بابل کی سر زمین میں نماز مکروہ ہے جیسے کہ ثمودیوں میں نہ جاؤ اگر اتفاقاً جانا پڑے تو خوف الہ سے روتے ہوئے جاؤ۔ ہئیت دانوں کا قول ہے کہ بابل کی دوری بحر غربی اوقیانوس سے ستر درجہ لمبی اور وسط زمین سے نوب کی جانب بخط استوا سے تئیس درجہ ہے واللہ اعلم۔ چونکہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شفر کفر و ایمان کا علم دے رکھا ہے اس لئے ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے ہیں اور ہر طرح روکتے ہیں جب نہیں مانتا تو وہ اسے کہہ دیتے ہیں اس کا نور ایمان جاتا رہتا ہے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے شیطان اس کا رفیق کار بن جاتا ہے ایمان کے نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا غضب اس کے روم روم میں گھس جاتا ہے ابن جریج فرماتے ہیں سوائے کافر کے اور کوئی جادو سیکھنے کی جرات نہیں کرتا۔ فتنہ کے معنی یہاں پر بلا آزمائش اور امتحان کے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول قرآن پاک میں مذکور ہے آیت (ان ھی الا فتنتک) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جادو سیکھنا کفر ہے حدیث میں بھی ہے جو شخص کسی کاہن یا جادوگر کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ سمجھے اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتری ہوئی وحی کے ساتھ کفر کیا (بزار) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی تائید میں اور حدیثیں بھی آئی ہیں پھر فرمایا کہ لوگ ہاروت ماروت سے جادو سیکھتے ہیں جس کے ذریعہ برے کام کرتے ہیں عورت مرد کی محبت اور موافقت کو بغض اور مخالفت سے بدل دیتے ہیں صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں شیطان اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بہکانے کے واسطے بھیجتا ہے سب سے زیادہ مرتبہ والا اس کے نزدیک وہ ہے جو فتنے میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔ یہ جب واپس آتے ہیں تو اپنے بدترین کاموں کا ذکر کرتے ہیں کوئی کہتا ہے میں نے فلاں کو اس طرح گمراہ کردیا۔ کوئی کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے یہ گناہ کرایا۔ شیطان ان سے کہتا ہے۔ کچھ نہیں یہ تو معمولی کام ہے یہاں تک کہ ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ڈال دیا یہاں تک کہ جدائی ہوگئی شیطان اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے ہاں تو نے بڑا کام کیا اسے اپنے پاس بٹھا لیتا ہے اور اس کا مرتبہ بڑھا دیتا ہے پس جادوگر بھی اپنے جادو سے وہ کام کرتا ہے جس سے میاں بیوی میں جدائی ہوجائے مثلاً اس کی شکل صورت اسے بری معلوم ہونے لگے یا اس کے عادات واطوار سے جو غیر شرعی نہ ہوں یہ نفرت کرنے لگے یا دل میں عداوت آجائے وغیرہ وغیرہ رفتہ رفتہ یہ باتیں بڑھتی جائیں اور آپس میں چھوٹ چھٹاؤ ہوجائے " مرا " کہتے ہیں اس کا مذکر مونث اور تثنیہ تو ہے جمع نہیں بنتا پھر فرمایا یہ کسی کو بھی بغیر اللہ کی مرضی کے ایذاء نہیں پہنچا سکتے یعنی اس کے اپنے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے ارادے کے ماتحت یہ نقصان بھی پہنچتا ہے اگر اللہ نہ چاہے تو اس کا جادو محض بےاثر اور بےفائدہ ہوجاتا ہے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جادو اسی شخص کو نقصان دیتا ہے جو اسے حاصل کرے اور اس میں داخل ہو پھر ارشاد ہوتا ہے وہ ایسا علم سیکھتے ہیں جو ان کے لئے سراسر نقصان دہ ہے جس میں کوئی نفع نہیں اور یہ یہودی جانتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تابعداری چھوڑ جادو کے پیچھے لگنے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان کی قدر و وقعت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے نہ وہ دیندار سمجھے جاتے ہیں پھر فرمایا اگر یہ اس کام کی برائی کو محسوس کرتے اور ایمان وتقویٰ برتتے تو یقینا ان کے لئے بہت ہی بہتر تھا مگر یہ بےعلم لوگ ہیں اور فرمایا کہ اہل علم نے کہا تم پر افسوس ہے اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ثواب ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے لیکن اسے صبر کرنے والے ہی پاسکتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی استدلال بزرگان دین نے کیا ہے کہ جادوگر کافر ہے کیونکہ آیت میں آیت (وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ) 2 ۔ البقرۃ ;103) فرمایا ہے حضرت امام احمد اور سلف کی ایک جماعت بھی جادو سیکھنے والے کو کافر کہتی ہے بعض کافر تو نہیں کہتے لیکن فرماتے ہیں کہ جادوگر کی حد یہ ہے کہ اسے قتل کردیا جائے بجالہ بن عبید کہتے ہیں حضرت عمر نے اپنے ایک فرمان میں لکھا تھا کہ ہر ایک جادوگر مرد عورت کو قتل کردو چناچہ ہم نے تین جادوگروں کی گردن ماری صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ام المومنین حضرت حفضہ (رض) پر ان کی ایک لونڈی نے جادو کیا جس پر اسے قتل کیا گیا۔ حضرت امام احمد حنبل (رح) فرماتے ہیں تین صحابیوں سے جادوگر کے قتل کا فتویٰ ثابت ہے ترمذی میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جادوگر کی حد تلوار سے قتل کردینا ہے اس حدیث کے ایک راوی اسمعیل بن مسلم ضعیف ہیں صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ غالباً یہ حدیث موقوف ہے لیکن طبرانی میں ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مرفوع مروی ہے واللہ اعلم۔ ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادوگر تھا جو اپنے کرتب بادشاہ کو دکھایا کرتا تھا بظاہر ایک شخص کا سر کاٹ لیتا پھر آواز دیتا تو سر جڑ جاتا اور وہ موجود ہوجاتا مہاجرین صحابہ میں سے ایک بزرگ صحابی نے یہ دیکھا اور دوسرے دن تلوار باندھے ہوئے آئے جب ساحر نے اپنا کھیل شروع کیا آپ نے اپنی تلوار سے خود اس کی گردن اڑا دی اور فرمایا لے اب اگر سچا ہے تو خود جی اٹھ پھر قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ کر لوگوں کو سنائی آیت (اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء ;3) کیا تم دیکھتے بھالتے جادو کے پاس جاتے ہو ؟ چونکہ اس بزرگ صحابی نے ولید کی اجازت اس کے قتل میں نہیں لی تھی اسلئے بادشاہ نے ناراض ہو کر انہیں قید کردیا پھر چھوڑ دیا امام شافعی نے حضرت عمر کے فرمان اور حضرت حفصہ کے واقعہ کے متعلق یہ کہا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب جادو شرکیہ الفاظ سے ہو۔ معتزلہ جادو کے وجود کے منکرین وہ کہتے ہیں جادو کوئی چیز نہیں بلکہ بعض لوگ تو بعض دفعہ اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ کہتے ہیں جو جادو کا وجود مانتا ہو وہ کافر ہے لیکن اہل سنت جادو کے وجود کے قائل ہیں یہ مانتے ہیں کہ جادوگر اپنے جادو کے زور سے ہوا پر اڑ سکتے ہیں اور انسان بظاہر گدھا اور گدھے کو بظاہر انسان بنا ڈالتے ہیں مگر کلمات اور منتر تنتر کے وقت ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے آسمان کو اور تاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا اہل سنت نہیں مانتے، فلسفے اور نجوم والے اور بےدین لوگ تو تاروں کو اور آسمان کو ہی اثر پیدا کرنے والا جانتے ہیں اہل سنت کی ایک دلیل تو آیت (وما ھم بضارین) ہے اور دوسری دلیل خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا جانا اور آپ پر اس کا اثر ہونا ہے تیسرے اس عورت کا واقعہ جسے حضرت عائشہ نے بیان فرمایا ہے جو اوپر ابھی ابھی گزرا ہے اور بھی بیسیوں ایسے ہی واقعات وغیرہ ہیں۔ رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جادو کا حاصل کرنا برا نہیں محققین کا یہی قول ہے اس لئے کہ وہ بھی ایک علم ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر ;9) یعنی علم والے اور بےعلم برابر نہیں ہوتے اور اس لئے کہ یہ علم ہوگا تو اس سے معجزے اور جادو میں فرق پوری طرح واضح ہوجائے گا اور معجزے کا علم واجب ہے اور وہ موقوف ہے جادو کے سیکھنے پر جس سے فرق معلوم ہو پس جادو کا سیکھنا بھی واجب ہوا رازی کا یہ قول سرتاپا غلط ہے اگر عقلاً وہ اسے برا نہ بتائیں تو معتزلہ موجود ہیں جو عقلاً بھی اس کی برائی کے قائل ہیں اور اگر شرعاً برا نہ بتاتے ہوں تو قرآن کی یہ آیت شرعی برائی بتانے کے لئے کافی ہے صحیح حدیث میں ہے جو کسی شخص کسی جادوگر یا کاہن کے پاس جائے وہ کافر ہوجائے گا۔