Skip to main content

وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَــكَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّىۗ

وَلَوْلَا
اور اگر نہ
كَلِمَةٌ
ایک بات ہوتی
سَبَقَتْ
جو گزر چکی
مِن
سے
رَّبِّكَ
تیرے رب کی طرف (سے)
لَكَانَ
البتہ ہوتا
لِزَامًا
چمٹنے والا۔ لازم ہونے والا
وَأَجَلٌ
اور ایک وقت
مُّسَمًّى
مقرر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی تو ضرور عذاب انھیں لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی اور معیاد معین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوتا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شدہ اور وقت معین کردہ نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا (١)۔

١٢٩۔١ یعنی یہ مکذبین اور مشرکین مکہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، جن کے جانشین ہیں اور ان کی رہائش گاہوں سے گزر کر آگے جاتے ہیں انہیں ہم اسکے جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کر چکے ہیں، جن کے عبرت ناک انجام میں اہل عقل و دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، لیکن اہل مکہ ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے انہی کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر اللہ تعالٰی نے پہلے سے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا کہ وہ تمام حجت کے بغیر اور اس مدت کے آنے سے پہلے جو وہ مہلت کے لئے کسی قوم کو عطا فرماتا ہے، کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ تو فورا! انہیں عذاب الٰہی آ چمٹتا اور یہ ہلاکت سے دو چار ہو چکے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب رسالت کے باوجود اگر ان پر اب تک عذاب نہیں آیا تو یہ سمجھیں کہ آئندہ بھی نہیں آئے گا بلکہ ابھی ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے، جیسا کہ وہ ہر قوم کو دیتا ہے۔ مہلت عمل ختم ہو جانے کے بعد ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (اے رسول(ص)) اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور ایک (مہلت کی) مدت معین نہ ہو چکی ہوتی تو (عذاب) لازمی طور پر آچکا ہوتا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے بات طے نہ ہوچکی ہوتی اور وقت مقرر نہ ہوتا تو عذاب لازمی طور پر آچکا ہوتا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی اور (ان کے عذاب کے لئے قیامت کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو (ان پر عذاب کا ابھی اترنا) لازم ہو جاتا،