Skip to main content

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَاۤءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِىْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ ۗ اِنَّمَا تَقْضِىْ هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا ۗ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
لَن
ہرگز نہ
نُّؤْثِرَكَ
ہم ترجیح دیں گے تجھ
عَلَىٰ
اوپر
مَا
اس کے جو
جَآءَنَا
آگیا ہمارے پاس
مِنَ
سے
ٱلْبَيِّنَٰتِ
کھلی نشانیوں میں سے
وَٱلَّذِى
اور وہ ذات
فَطَرَنَاۖ
جس نے پیدا کیا ہم کو
فَٱقْضِ
تو تو فیصلہ کردے
مَآ
جو
أَنتَ
تو
قَاضٍۖ
فیصلہ کرنے والا ہے
إِنَّمَا
بیشک
تَقْضِى
تو فیصلہ کرسکتا ہے
هَٰذِهِ
اس
ٱلْحَيَوٰةَ
دنیا کی
ٱلدُّنْيَآ
زندگی کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جادوگروں نے جواب دیا "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جادوگروں نے جواب دیا "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا

احمد علی Ahmed Ali

کہا ہم تجھے ہرگزترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آ چکی ہیں اورنہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سو تو کر گزر جو تجھے کرنا ہے تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنےآ چکیں ہیں، اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے (١) اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی (۲) میں ہی ہے۔

٧٢۔١یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب والذی فطرنا کا عطف ما جاءنا پر ہو اور یہ بھی صحیح ہے تاہم بعض مفسرین نے اسے قسم قرار دیا ہے۔ یعنی قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہم تجھے ان دلیلوں پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے سامنے آ چکیں۔
۷۲۔۲ یعنی تیرے بس میں جو کچھ ہے وہ کر لے ہمیں معلوم ہے کہ تیرا بس صرف اس دنیا میں ہی چل سکتا ہے جب کہ ہم جس پروردگار پر ایمان لائے ہیں اس کی حکمرانی تو دنیا وآخرت دونوں جگہوں پر ہے مرنے کے بعد ہم تیری حکمرانی اور تیرے ظلم وستم سے تو بچ جائیں گے کیونکہ جسموں سے روح کے نکل جانے کے بعد تیرا اختیار ختم ہو جائے گا لیکن اگر ہم اپنے رب کے نافرمان رہے تو ہم مرنے کے بعد بھی رب کے اختیار سے باہر نہیں نکل سکتے وہ ہمیں سخت عذاب دینے پر قادر ہے رب پر ایمان لانے کے بعد ایک مومن کی زندگی میں جو عظیم انقلاب آنا اور دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی دائمی زندگی پر جس طرح یقین ہونا چاہیے اور پھر اس عقیدہ وایمان پر جو تکلیفیں آئیں انہیں جس حوصلہ وصبر اور عزم و استقامت سے برداشت کرنا چاہیے جادو گروں نے اس کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا کہ ایمان لانے سے قبل کس طرح وہ فرعون سے انعامات اور دنیاوی جاہ ومنصب کے طالب تھے لیکن ایمان لانے کے بعد کوئی ترغیب وتحریض انہیں متزلزل کر سکی نہ تشدید وتعذیب کی دھمکیاں انہیں ایمان سے منحرف کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جادوگروں نے کہا ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں ہم ان پر اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ کبھی تجھے ترجیح نہیں دیں گے بےشک تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے وہ تو (زیادہ سے زیادہ) اسی دنیاوی زندگی (کے ختم کرنے) کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے ہم اس پر تیری بات کو مقدم نہیں کرسکتے اب تجھے جو فیصلہ کرنا ہو کرلے تو فقط اس زندگانی دنیا ہی تک فیصلہ کرسکتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(جادوگروں نے) کہا: ہم تمہیں ہرگز ان واضح دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آچکے ہیں، اس (رب) کی قسم جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے! تو جو حکم کرنے والا ہے کر لے، تُو فقط (اس چند روزہ) دنیوی زندگی ہی سے متعلق فیصلہ کر سکتا ہے،