Skip to main content

قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَاۡ لَـكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۚ

قُلْ
کہہ دیجیے
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّاسُ
لوگو
إِنَّمَآ
بیشک
أَنَا۠
میں
لَكُمْ
تمہارے لیے
نَذِيرٌ
ڈرانے والا ہوں
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، کہہ دو کہ "لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، کہہ دو کہ "لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (برا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرمادو کہ اے لوگو! میں تو یہی تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو اے لوگو میں تو صرف تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے والا ہی ہوں (١)۔

٤٩۔١ یہ کفار و مشرکین کے مطالبہ پر کہا جا رہا ہے کہ میرا کام تو عذاب بھیجنا، یہ اللہ کا کام ہے، وہ جلدی گرفت فرما لے یا اس میں تاخیر کرے، وہ اپنی حسب و مشیت و مصلحت یہ کام کرتا ہے۔ جس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس خطاب کے اصل مخاطب اگرچہ اہل مکہ ہیں۔ لیکن چونکہ آپ پوری نوح انسانی کے لئے رہبر اور رسول بن کر آئے تھے، اس لئے خطاب یَا اَیُّھَا لنَّاسُ! کے الفاظ سے کیا گیا، اس میں قیامت تک ہونے والے وہ کفار و مشرکین آگئے جو اہل مکہ کا سا رویہ اختیار کریں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! اے لوگو! میں تو صرف تمہیں ایک کھلا ہوا (عذاب خدا سے) ڈرانے والا ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ انسانو ! میں تمہارے لئے صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: اے لوگو! میں تو محض تمہارے لئے (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنانے والا ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر
چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ ایسے کفار کو انکے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں۔