Skip to main content

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۤءِ مَاۤءً ۖ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّة ً ۗاِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ ۚ

أَلَمْ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
أَنَّ
کہ بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
أَنزَلَ
اس نے اتارا
مِنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
مَآءً
پانی
فَتُصْبِحُ
تو ہوجاتی ہے
ٱلْأَرْضُ
زمین
مُخْضَرَّةًۗ
خوب سبز
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَطِيفٌ
باریک بین ہے
خَبِيرٌ
خبر رکھنے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی، بیشک اللہ پاک خبردار ہے،

احمد علی Ahmed Ali

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ الله نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے بے شک الله مہربان خبردار ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالٰی آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سر سبز ہو جاتی ہے، بیشک اللہ تعالٰی مہربان اور باخبر ہے۔

٦٣۔١ لَطِیْف (باریک بین) ہے، اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو محیط ہے یا لطف کرنے والا یعنی اپنے بندوں کو روزی پہنچانے میں لطف و کرم سے کام لیتا ہے۔ خَیْر وہ ان باتوں سے باخبر ہے جن میں اس کے بندوں کے معاملات کی تدبیر اور اصلاح ہے۔ یا ان کی ضروریات و حاجات سے آگاہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بےشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ مہربان اور باخبر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے تو (خشک) زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بےشک اللہ بڑا لطف و کرم کرنے والا (اور) بڑا خبر رکھنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین سرسبز وشاداب ہوجاتی ہے یقینا اللہ بہت زیادہ مہربان اور حالات کی خبر رکھنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بیشک اﷲ مہربان (اور) بڑا خبردار ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر " ف " تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی " ف " آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے حضرت لقمان (رح) کے قول میں ہے کہ اے بچے ! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو چاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے۔ ایک اور آیت میں ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا۔ ایک آیت میں ہے، ہر پتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے۔ ایک اور آیت میں کوئی ذرہ آسمان وز میں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر (
وقولا لہ من ینبت الحب فی الثری فیصبح منہ البقل یہترہ رابیا
ویخرج منہ حبہ فی روسہ ففی ذاک ایات لمن کان داعیا)
" اے میرے دونوں پیغمبرو ! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے ؟ عقل مند کے لئے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔ تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بےنیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لئے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لئے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل وکرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال و متاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لئے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گرپڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آرہے اور تم سب ہلاک ہوجاؤ۔ انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رافت وشفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝) 13 ۔ الرعد ;6) ، لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بیشک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے۔ " اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت ( كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀) 2 ۔ البقرة ;28) تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کردے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے " ایک اور آیت میں ہے ( قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 26؀ ) 45 ۔ الجاثية ;26) اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا۔ اور جگہ فرمایا " وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو ؟ دوسروں کی عبادت اسکے ساتھ کیسے کرتے ہو ؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک و مختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بےقدرا ہے