Skip to main content

ثُمَّ اَنْشَأْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَۗ

ثُمَّ
پھر
أَنشَأْنَا
اٹھایا ہم نے
مِنۢ
سے
بَعْدِهِمْ
ان کے بعد
قُرُونًا
امتوں کو
ءَاخَرِينَ
کچھ دوسری

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگتیں (قومیں) پیدا کیں

احمد علی Ahmed Ali

پھر ہم نے ان کے بعد اوربہت سے دور پیدا کیے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں (١)

٤٢۔١ اس سے مراد حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام کی قومیں ہیں، کیونکہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اسی ترتیب سے ان کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کے نزدیک بنو اسرائیل مراد ہیں۔ قرون، قرن کی جمع ہے اور یہاں بمعنی امت استعمال ہوا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر اس کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو ایجاد کیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر ہم نے ان کے بعد (یکے بعد دیگرے) دوسری امتوں کو پیدا فرمایا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اکثریت ہمشہ بدکاروں کی رہی
ان کے بعد بھی بہت سی امتیں اور مخلوق آئی جو ہماری پیدا کردہ تھی۔ ان کی پیدائش سے پہلے ان کی اجل جو قدرت نے مقرر کی تھی، اسے اس نے پورا کیا نہ تقدیم ہوئی نہ تاخیر۔ پھر ہم نے پے درپے لگاتار رسول بھیجے۔ ہر امت میں پیغمبر آیا اس نے لوگوں کو پیغام الٰہی پہنچایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے ماسوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ بعض راہ راست پر آگئے اور بعض پر کلمہ عذاب راست آگیا۔ تمام امتوں کی اکثریت نبیوں کی منکر رہی جیسے سورة یاسین میں فرمایا آیت ( يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 30؀) 36 ۔ يس ;30) افسوس ہے بندوں پر ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اسے مذاق میں اڑایا۔ ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو غارت اور فنا کردیا آیت ( وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ ۭوَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا 17؀) 17 ۔ الإسراء ;17) نوح (علیہ السلام) کے بعد بھی ہم نے کئی ایک بستیاں تباہ کردیں۔ انہیں ہم نے پرانے افسانے بنادیا وہ نیست ونابود ہوگئے اور قصے ان کے باقی رہ گئے۔ بےایمانوں کے لئے رحمت سے دوری ہے۔