Skip to main content

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ

And We made
وَجَعَلْنَا
اور بنایا ہم نے
(the) son
ٱبْنَ
ابن
(of) Maryam
مَرْيَمَ
مریم کو
and his mother
وَأُمَّهُۥٓ
اور اس کی ماں کو
a Sign
ءَايَةً
ایک نشانی
and We sheltered them
وَءَاوَيْنَٰهُمَآ
اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو
to
إِلَىٰ
طرف
a high ground
رَبْوَةٍ
بلند جگہ کے
of tranquility
ذَاتِ
والی
of tranquility
قَرَارٍ
قرار والی۔ رہنے والی
and water springs
وَمَعِينٍ
اور بہتے چشمے والی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے

English Sahih:

And We made the son of Mary and his mother a sign and sheltered them within a high ground having level [areas] and flowing water.

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین جہاں بسنے کا مقام اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی،

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو نشانی بنایا تھا اور انہیں ایک ٹیلہ پر جگہ دی جہاں ٹھیرےنے کا موقع اور پانی جاری تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا (١) اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی (٢) والی جگہ میں پناہ دی۔

٥٠۔١ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی، جو رب کی قدرت کی ایک نشانی ہے، جس طرح آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے اور ہوا کو بغیر مادہ کے حضرت آدم علیہ السلام سے اور دیگر تمام انسانوں کو ماں اور باپ سے پیدا کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔
٥٠۔٢ رَبْوَۃٍ (بلند جگہ) سے بیت المقدس اور مَعِیْنٍ (چشمہ جاری) سے وہ چشمہ مراد ہے جو ایک قول کے مطابق ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت اللہ نے بطور معجزہ، حضرت مریم کے پیروں کے نیچے سے جاری فرمایا تھا۔ جیسا سورہ مریم میں گزرا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہم نے ابن مریم اور اس کی والده کو ایک نشانی بنایا اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناه دی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو (اپنی قدرت کی) نشانی بنایا اور ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل بھی تھا اور جہاں چشمے جاری تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو بھی اپنی نشانی قرار دیا اور انہیں ایک بلندی پر جہاں ٹھہرنے کی جگہ بھی تھی اور چشمہ بھی تھا پناہ دی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہم نے ابن مریم (عیسٰی علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو اپنی (زبردست) نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک (ایسی) بلند زمین میں سکونت بخشی جو بآسائش و آرام رہنے کے قابل (بھی) تھی اور وہاں آنکھوں کے (نظارے کے) لئے بہتے پانی (یعنی نہریں، آبشاریں اور چشمے بھی) تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ربوہ کے معنی
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کی ایک زبردست نشانی بنایا آدم کو مرد و عورت کے بغیر پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کیا۔ بقیہ تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا۔ ربوہ کہتے ہیں بلند زمین کو جو ہری اور پیداوار کے قابل ہو وہ جگہ گھاس پانی والی تروتازہ اور ہری بھری تھی۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس غلام اور نبی کو اور انکی صدیقہ والدہ کو جو اللہ کی بندی اور لونڈی تھیں جگہ دی تھی۔ وہ جاری پانی والی صاف ستھری ہموار زمین تھی۔ کہتے ہیں یہ ٹکڑا مصر کا تھا یا دمشق کا یا فلسطین کا۔ ربوۃ ریتلی زمین کو بھی کہتے ہیں۔ چناچہ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی صحابی (رض) سے فرمایا تھا کہ تیرا انتقال ربوہ میں ہوگا۔ وہ ریتلی زمین میں فوت ہوئے۔ ان تمام اقوال میں زیادہ قریب قول وہ ہے کہ مراد اس سے نہر ہے جیسے اور آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے آیت ( قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا 24؀) 19 ۔ مریم ;24) تیرے رب نے تیرے قدموں تلے ایک جاری نہر بہادی ہے۔ پس یہ مقام بیت المقدس کا مقام ہے تو گویا اس آیت کی تفسیر یہ آیت ہے اور قرآن کی تفسیر اولاً قرآن سے پھر حدیث سے پھر آثار سے کرنی چاہے۔