النور آية ۱۱
اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۤءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ ۗ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّـكُمْ ۗ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّـكُمْ ۗ لِكُلِّ امْرِىٴٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ۚ وَالَّذِىْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ
طاہر القادری:
بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے٭ ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) میں سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے زبردست عذاب ہے، ٭ (کیونکہ تمہیں اسی حوالے سے احکامِ شریعت مل گئے اور عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا کی پاک دامنی کا گواہ خود اللہ بن گیا جس سے تمہیں ان کی شان کا پتہ چل گیا۔)
English Sahih:
Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather, it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof – for him is a great punishment [i.e., Hellfire].
1 Abul A'ala Maududi
جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے
2 Ahmed Raza Khan
تو تمہارا پردہ کھول دیتا بیشک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں تمہیں میں کی ایک جماعت ہے اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں ہر شخص کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا اور ان میں وہ جس نے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
3 Ahmed Ali
بے شک جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں تم ہی میں سے ایک گروہ ہے تم سے اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں سے ہر ایک کے لیے بقدرِ عمل گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے
4 Ahsanul Bayan
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں (١) یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ہے (٢) تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے (٣) ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہے (٤)۔
١١۔١ اِ فَک سے مراد وہ واقع افک ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دامن عفت و عزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ کی حرمت میں آیت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کر دیا۔ اِفْک کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقع میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا کر دیا تھا یعنی حضرت عائشہ تو ثنا تعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔
١١۔٢ ایک گروہ اور جماعت کو عَصْبَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصیبت کا باعث ہوتے ہیں۔
١١۔٣ کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ کی حرمت میں ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف و فضل نمایاں تر ہوگیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت ونصیحت کے اور کئی پہلو ہیں۔
١١۔ ٤ اس سے مراد عبد اللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
6 Muhammad Junagarhi
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
بےشک جو لوگ جھوٹا بہتان گھڑ کر لائے ہیں وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ تم اسے اپنے حق میں برا نہ سمجھو۔ بلکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس (گروہ) میں سے ہر آدمی کیلئے اتنا حصہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا ہے۔ اور جو ان میں سے اس (گناہ) کے بڑے حصہ کا ذمہ دار ہے اس کیلئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
بیشک جن لوگوں نے زنا کی تہمت لگائی وہ تم ہی میں سے ایک گروہ تھا تم اسے اپنے حق میں شر نہ سمجھو یہ تمہارے حق میں خیر ہے اور ہر شخص کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جو اس نے خود کمایا ہے اور ان میں سے جس نے بڑا حصہّ لیا ہے اس کے لئے بڑا عذاب ہے
9 Tafsir Jalalayn
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بڑا بہتان باندھا ہے یعنی ام المومنین حضرت عائشہ (رض) پر بہتان لگا کر بدترین جھوٹ بولا ہے تم ہی میں کی ایک جماعت ہے یعنی مومنین کی ایک جماعت ہے (اہل افک کی تعیین میں) حضرت عائشہ (رض) صدیقہ نے فرمایا وہ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی اور مسطح اور حمنہ بنت جحش ہیں، بہتان تراشنے والوں کی جماعت کے علاوہ اے مومنو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض اجر عطا فرمائے گا اور حضرت عائشہ (رض) صدیقہ اور ان کے ہمراہ آنے والے یعنی صفوان (ابن معطل) کی تہمت سے برآۃ ظاہر کر دے گا، حضرت عائشہ (رض) نے (واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا کہ میں ایک غزوہ میں نزول حجاب کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھی، چناچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ سے فارغ ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے اور رات کو کوچ کرنے کا اعلان کردیا تو میں قضائے حاجت کے لئے چلی گئی اور حاجت سے فراغت کے بعد کجاوہ کی طرف متوجہ ہوئی تو اچانک مجھے معلوم ہوا کہ میرا ہار ٹوٹ کر (کہیں) گرگیا ہے عِقْدٌ عین مہملہ کے کسرہ کے ساتھ ہار کو کہتے ہیں تو میں ہار تلاش کرنے کیلئے واپس چلی گئی، حال یہ ہے کہ لوگوں نے میرا ہودج یہ سمجھتے ہوئے کہ میں ہودج میں موجود ہوں میرے اونٹ پر رکھدیا، ہودج اس کجاوہ کو کہتے ہیں جس میں سوار ہوا جاتا ہے اور عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں اس لئے کہ کھانا کم کھاتی تھیں، عُلْقہ عین مہملہ کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ قلیل کھانے کو کہتے ہیں (ادھر یہ ہوا) کہ میرا ہار مل کیا، اور اہل قافلہ کے روانہ جانے کے بعد میں (اپنی جگہ) واپس آئی، چناچہ میں اسی جگہ (آکر) بیٹھ گئی جہاں تھی اور مجھے اس بات کا گمان غالب تھا کہ جب لوگ مجھ کو نہ پائیں گے تو میری طرف واپس آئیں گے، چناچہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا جس کی وجہ سے میں سوگئی، اور صفوان ابن معطل لشکر کے پیچھے آخر شب میں قیام کرتے تھے چناچہ (صفوان) رات کے آخری حصہ میں روانہ ہوئے تو صبح کے وقت میری منزل پر پہنچے، قولہ : عَرَّسَ اور الدَّلَجَ را اور دال کے تشدید کے ساتھ ہے (عَرَّسَ کے معنی آخر شب میں استراحت کیلئے قیام کرنا اِدّلَجَ بمعنی روانہ ہونا) تو اس نے ایک سوتے ہوئے شخص کا جثہ دیکھا چناچہ مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اس لئے کہ اس نے مجھے حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے دیکھا تھا، چناچہ مجھے پہچاننے کے وقت ان کے استرجاع یعنی اِنَّا للہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کی وجہ سے میں بیدا ہوئی تو میں نے اپنی چادر سے اپنا چہرہ چھپالیا، واللہ نہ تو اس نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے اس سے سوائے استرجاع کے کوئی بات سنی، اس نے اپنی اونٹنی بٹھا دی اور اس کا ہاتھ دبا لیا (تاکہ جلدی کھڑی نہ ہوجائے) جب میں اس پر سوار ہوگئی تو وہ میری اونٹنی کی نکیل پکڑ کرلیکر چلے حتی کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے، بعد اس کے کہ وہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت شدید گرمی میں داخل ہوتے ہوئے فرد کش ہوچکے تھے موغرین اَوْغَرَ سے مشتق یعنی سخت گرمی کے وقت گرم جگہ میں فرد کش ہونے والے تھے، چناچہ میرے بارے میں جس کو ہلاک ہونا تھا ہلاک ہوا اور وہ شخص جس نے اس معاملہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا، حضرت عائشہ (رض) کا کلام پورا ہوا، روایت کیا ہے اس کو شیخان نے، قال اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا کچھ اس نے اس معاملہ میں کیا اور اس شخص کیلئے جس نے ان میں سے (اس معاملہ میں) سب سے زیادہ حصہ لیا یعنی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بایں طور کہ اس معاملہ میں کھود کر ید کی اور اس کو شہرت دی، وہ عبد الہہ بن ابی ہے اس کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں آگ ہے جب لوگوں نے بہتان تراشی کو سنا تھا تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے آپس میں ایک دوسرے کیلئے اچھا گمان کیوں نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح جھوٹ ہے ؟ اس میں خطاب سے (غیبت کی طرف) التفات ہے (ظن المؤمنون الخ) ظننتم وقلتم ایھا العصبۃ کے معنی میں ہے اور ان لوگوں نے اس بہتان پر چار گواہ عینی کیوں پیش نہیں کئے ؟ جب یہ لوگ گواہ پیش نہ کرسکے تو یہ لوگ اللہ کے نزدیک یعنی اس کے حکم میں اس معاملہ میں جھوٹے ہیں اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا دنیا و آخرت میں فضل و کرم نہ ہوتا تو جس شغل میں تم پڑے تھے یعنی کھود کرید کر رہے تھے اس کی وجہ سے تم کو آخرت میں سخت عذاب لاحق ہوتا جب کہ تم اس بہتان کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے یعنی ایک دوسرے سے روایت کر رہے تھے، فعل (یعنی تلقونہ) سے دو تاؤں میں سے ایک تا کو حذف کردیا گیا ہے اور اِذ مَسَّکُمْ یا اَفَضْتُمْ کی وجہ سے منصوب ہے اور تم اپنے منہ سے ایسی بات نکال رہے تھے کہ جس کے بارے میں تم کو مطلق علم نہیں تھا اور تم اس کو ایک معمولی بات کہ اس میں کوئی گناہ ہی نہ ہو سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک گناہ کے اعتبار سے بڑی بھاری بات تھی اور جب تم نے اس کو سنا تھا تو یوں نہ کہا کہ ہم کو زیبا نہیں کہ ایسی بات منہ سے بھی نکالیں معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے سُبْحَانکَ تعجب کیلئے ہے، اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے یعنی منع کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسی حرکت مت کرنا اگر تم مومن ہو تو اس سے نصیحت قبول کرو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے امر و نہی کے ساف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا حکم کرتا ہے اور جس سے منع کرتا ہے اس کے بارے میں بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کا چرچا ہو اس بےحیائی کو ان کی طرف منسوب کرکے (اور ان چرچا کرنے والوں کی) ایک چھوٹی سی جماعت ہے، ان لوگوں کیلئے دنیا میں حد قذف کا اور آخرت میں نار کا حق اللہ ہونے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے اللہ تعالیٰ ان سے بےحیائی کے التفاء کو بخوبی جانتا ہے اور (اے تہمت لگانے والی) جماعت تم اس بےحیائی کے وجود کو ان میں نہیں جانتے اور اگر اے لوگو ! تم پر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو وہ حقیقت حال کو ظاہر کردیتا اور مستحق سزا پر مواخذہ کرنے میں جلدی کرتا بیشک اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں اور اس کے علاوہ میں توبہ قبول کرنے کی وجہ سے بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے اور اس حکم میں جو اس نے اس معاملہ میں اور اس کے علاوہ میں کیا حکمت والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد
ان الذین جاؤا بالإفک یہاں سے افک سے متعلق اٹھارہ آیتوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے اِفْک لغت میں پلٹ دینے اور بدل دینے کو کہتے ہیں بدترین جھوٹ جو حق کو باطل سے اور باطل کو حق سے بدل دے، پاکباز متقی کو فاسق اور فاسق کو متقی و پرہیزگار بنا دے اسی جھوٹ کو افک کہتے ہیں عُصبۃ مختصر جماعت کو کہتے ہیں تعداد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ قولہ : لاتحسبوہ اس کے مخاطب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر، عائشہ و صفوان ہیں مقصد ان حضرات کو تسلی دینا۔ قولہ : مَنْ جاء مِنہٗ مَنْ سے صفوان ابن معطل السمیِّ مراد ہیں اور مِنْہُ کی ض (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یر کا مرجع افک ہے اور جار مجرور برأۃ سے متعلق ہے۔
قولہ : فی غزوۃٍ مراد غزوہ بنی مصطلق ہے جس کو مریسیع بھی کہا جاتا ہے صحیح اور راجح قول کے مطابق 5 ھ میں پیش آیا تھا۔
قولہ : بعد ما انزل الحجاب حجاب سے مراد آیت حجاب یعنی وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ متَاعًا فاسئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابِ ہے۔
قولہ : قد عَرَّسَ تعریس، النزول فی آخر اللیل للاستراحۃ۔ قولہ : اِدَّلَجَ واِدَّلاجً آخر شب میں سفر کرنا۔ قولہ : ھُما بتشدید الراءِ والدالِ عَرَّسَ وَاِدَّلَجَ کے بارے میں لف و نشر کے طور پر اشارہ کردیا کہ عَرَّس میں را اور اِدَّلَجَ میں دال دونوں مشدد ہیں۔
قولہ : ای نزل مِن آخر اللیل للاستراحۃ یہ عرّس کی تفسیر ہے اور قولہ : فَسَارَ منہ اِدّلَجَ کی تفسیر ہے مِنْہٗ ای آخر اللیل ادَّلَجَ مِنہ ای ساَر مِن آخر اللیل حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے الفاظ کی تشریح کیلئے مفسر علام نے درمیان میں تشریحی الفاظ کا اضافہ فرمایا ہے ورنہ تو اصل عبارت اس طرح ہے کان صفوان قد عَرَّس مِن وراء الجیش فادَّلَجَ منہٗ فاصبَحَ فی منزلی۔
قولہ : موغرینَ یہ وَغرٌ سے مشتق ہے وغرٌ شدید گرمی کو کہتے ہیں۔ قولہ : بالملأۃ وہ چادر جو جسم کو چھپالے مُوغِرِین ای داخلین فی شدۃ الحر۔ قولہ : فی نحر الظھیرۃ ٹھیک دوپہر کے وقت قولہ : سلُول یہ عبداللہ ابن اَبَیّ کی ماں کا نام ہے۔ قولہ : لکلِّ امرئ مفسر علام نے علیہ سے تفسیر کرکے اشارہ کردیا کہ لام بمعنی علیٰ ہے۔ قولہ : لَوْ لاَ ھَلاَّ اِذْ سَمِعْتمُوہ یہ لولا توبیخیہ ہے اس لئے کہ ماضی پر داخل ہے، لولا تین قسم کا ہوتا ہے (1) جب ماضی پر داخل ہو تو توبیخیہ ہوتا ہے اور جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو تحضیضیہ ہوتا ہے اور جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے تو امتناعیہ ہوتا ہے، یہاں لولا چھ جگہ استعمال ہوا ہے اول، ثانی اور رابع توبیخیہ ہے اس لئے جواب کی ضرورت نہیں اور تیسرا اور پانچواں اور چھٹا شرطیہ (امتناعیہ ہے) تیسرے اور چھٹے مقام پر جواب مذکور ہے اور پانچویں مقام پر جواب محذوف ہے (صاوی) ۔ قولہ : بانفسھم ای ابناء جنسھم فی الایمان یعنی اپنے ایمانی بھائیوں کے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا ؟ فیہ التفات عن الخطاب الی الغیبۃ اِذ سمِعْتمُوہ کے مطابق ظنّ المومنون اور قالوا کے بجائے ظننتم اور قلتم ہونا چاہیے، مذکورہ دونوں صیغوں میں دو قسم کا التفات ہوا ہے اول تو حاضر سے غائب کی جانب اور دوسرے ضمیر سے اسم ظاہر کی جانب، اس التفات کا مقصد توبیخ میں مبالغہ کرنا ہے، اس طریقہ پر ایمان کا تقاضہ یہ تھا کہ تم اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ثہ جائیکہ تم لوگوں نے طعنہ زنی اور عیب چینی شروع کردی تم کو تو اپنے بھائیوں کا اسی طرح دفاع کرنا چاہیے تھا جس طرح تم خود اپنا دفاع کرتے ہو، تقدیر عبارت یہ ہے لولا اِذ سمعتُموہُ ظننتم ایّھا المومنوں والمومنات باخوانھم خیراً وھلاّ قلتُم ھٰذا افکٌ مبینٌ۔
قولہ : لولا ھلاَّ جاؤا علیہ (الآیہ) یہ کلام سابق کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے یعنی مومنین اور مومنات نے افتراء کرنے والوں اے افتراء پر چار گواہوں کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ یعنی بہتان کو سننے کے بعد جس طرح آپس میں حسن ظن ضروری تھا اسی طرح افتراء پردازوں سے چار گواہوں کا مطالبہ ضروری تھا ای وقالوا ھلاَّ جاؤا الخائضون باریعۃ شھداء علی ما قالوا دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لولا جاؤا (الآیہ) جملہ استینافیہ ہو، اس صورت میں قالوا محذوف ماننے کی ضرورت نہ ہوگی۔ قولہ : ای فی حکمہٖ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے، شبہ یہ ہے کہ افتراء پردازوں کو عند اللہ اس لئے کاذب کہا گیا ہے کہ وہ چار عینی شاہد پیش نہیں کرسکے حالانکہ اگر وہ چار عینی شاہد پیش بھی کردیتے تب بھی کاذب ہی تھے، جواب یہ ہے کہ گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں کہ بحکم شرع کاذب تھے اور اگر وہ چار گواہ پیش کردیتے تو اس وقت حکم شرعی میں بظاہر صادق ہوتے، اللہ تعالیٰ کو چونکہ ان کی ظاہراً اور باطناً تکذیب منظور تھی اس لئے چار گواہوں کا مطالبہ کیا تاکہ ان کا کذب خوب ظاہر ہوجائے۔ قولہ : لولا فضل اللہ علیکم میں لولا امتناعیہ ہے اس کا جواب لمَسَّکُمْ ہے۔ قولہ : فیما اَفَضْتُمْ فی بمعنی سبب ہے ای بسبب ما اَفَضْتُمْ اور ما موصولہ ہے مراد حدیث افک ہے ای لَمَسَّکُمْ بسبب الذی خُضْتُمْ فیہ وھو الإفک اور ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ای لَمسَّکُمْ بسبب خوضکم فیہ ای الافک۔ قولہ : وَلَوْلاَ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ اِذْ ، قُلْتُمْ کا ظرف مقدم ہے، یعنی تمہارے لئے یہ مناسب تھا کہ بہتان کو سنتے ہی کہ دیتے کہ ایسی باتیں کرنا ہمارے لئے ہرگز مناسب نہیں۔
قولہ : یَنْھَاکُمْ اَنْ تَعُوْدُوْا الخ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یَعِظُکُم فعل متعدی بعن کے معنی کو متضمن ہے پھر عن کو حذف کردیا گیا ای یَنْھَاکُمْ عن العود أن مصدریہ ہے جس کی وجہ تَعُوْدُوْا بمعنی عَوْدٌ ہے۔ قولہ : تتعِظونَ بذٰلک یہ جملہ مومنین کی صفت ہے یعنی اگر تم نصیحت قبول کرنے والے مومن ہو تو ایسی حرکت دوبارہ نہ کرو گے، جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم مومنین فلا تعودوْا لمثلہٖ ۔ قولہ : باللسان اس کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ افترا پردازوں کو یہ بات پسند تھی کہ فحش بات کا زبانی چرچا ہو نہ کہ حقیقت میں فحش کی اشاعت ہو۔ قولہ : بِنِسبتِھا الیھم، الیھم سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت صفوان ہیں اور وھم عصبۃ مراد وہ لوگ جو فحش بات کی اشاعت پسند کرتے تھے۔ قولہ : لھم عذابٌ الیمٌ انّ کی خبر ہے۔ قولہ : وَانَّ اللہَ رَؤفٗ رَّحِیْمٌ کا عطف فضل اللہ پر ہے اور لَعَاجَلَکُمْ لولا کا جواب ہے، معطوف و معطوف علیہ سے ملکر مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے اور وہ موجودان ہے۔
تفسیر و تشریح
ان الذین۔۔۔ (الآیہ) یہاں سے اس طوفان کا ذکر ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر اٹھایا گیا تھا، واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی کہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے مدینہ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے بہت سی فوج جمع کی ہے، یہ غزوہ راجح قول کے مطابق 2 شعبان بروز دو شنبہ 5 ھ میں پیش آیا تھا (سیرۃ مصطفیٰ ) غزوہ بنی مصطلق کو غزوہ مریسیع بھی کہتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خبر کی تصدیق کیلئے بریدہ بن حُصَیْب کو بھیجا، حضرت بریدہ نے آکر خبر کی تصدیق کی آپ نے صحابہ کو خروج کا حکم فرمایا مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا ازواج مطہرات میں سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) آپ کے ہمراہ تھیں، ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ بھی ساتھ تھیں، اس غزوہ میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا جن میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں شامل تھیں، دو گھرانے قید ہوئے قیدیوں میں بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی صاحبزادی جویریہ بھی تھیں جو کہ تقسیم مال غنیمت کے وقت حضرت ثابت بن قیس (رض) کے حصہ میں آئیں، حضرت ثابت (رض) نے ان کو مکاتب بنادیا تھا، بدل کتابت کے سلسلہ میں جویریہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اس سے بہتر چیز بتلاتا ہوں اگر تم پسند کرو، وہ یہ کہ میں تمہاری طرف سے بدل کتابت ادا کرکے تم کو آزاد کر دوں اور اپنی زوجیت میں لے لوں، جویریہ نے عرض کیا میں اس پر راضی ہوں چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ (رواہ ابو داؤد)
واپسی پر آپ ایک منزل ہر فرد کش ہوئے، لشکر میں کوچ کرنے کا اعلان کرا دیا گیا تاکہ لوگ اپنی ضروریات سے فارغ ہوجائیں، چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بھی قضائے حاجت کیلئے لشکر سے دور چلی گئیں، جب واپس ہونے لگیں تو ہار ٹوٹ گیا جو یمانی نگینوں کا تھا، ان کے جمع کرنے میں دیر ہوگئی قافلہ تیار تھا، حجاب کا حکم چونکہ نازل ہوچکا تھا جس کی وجہ سے حضرت عائشہ ہودج میں سفر کر رہی تھیں اور ہودج پر پردے پڑے ہوئے تھے، ہودج برداروں نے یہ سمجھ کر کہ ام المومنین ہودج میں ہیں ہودج کو انٹ پر رکھ دیا اور اونٹ کو ہانک دیا، اس وقت عورتیں عموماً دبلی پتلی ہوتی تھیں خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ (رض) چونکہ صغیر السن تھیں اس وجہ سے بھی دبلی پتلی تھیں ادھر ہودج اٹھانے والے کئی افراد تھے جس کی وجہ سے ہودج کے خالی ہونے کا احساس نہ ہوسکا، حضرت عائشہ (رض) جب ہار لیکر لشکر گاہ واپس آئیں تو لشکر روانہ ہوچکا تھا وہاں کوئی نہیں تھا، یہ خیال کرکے کہ جب آئندہ مقام پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ میری تلاش کیلئے کسی کو روانہ فرمائیں گے، اسی جگہ چادر لپیٹ کرلیٹ گئیں، اور نیند آگئی، حضرت صفوان بن معطل (رض) گرے پڑے کی خبر گیری کے لئے لشکر کے پیچھے رہا کرتے تھے، وہ صبح کے وقت اس مقام پر پہنچے جہاں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سو رہی تھیں دیکھا کہ کوئی پڑا سو رہا ہے جب قریب آکر دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ تو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ہیں اور زور سے اِنَّا للہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا حضرت عائشہ (رض) کی اس آواز سے آنکھ کھل گئی اور چادر سے منہ ڈھانپ لیا، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں وَاللہِ ما کلمنی کلمۃ ولا سمعت منہ کلمۃ غیر استرجاعہٖ خدا کی قسم صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ان کی زبان سے سوائے اِنَّاللہِ کے میں نے کوئی کلمہ سنا، حضرت صفوان (رض) نے اپنا اونٹ قریب لاکر بٹھا دیا حضرت عائشہ (رض) اونٹ پر سوار ہوگئیں اور حضرت صفوان (رض) اونٹ کی نکیل پکڑ کر پاپیادہ روانہ ہوگئے اور ٹھیک دوپہر کے وقت قافلہ سے جا ملے، عبداللہ بن ابی بڑا خبیث بد باطن اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دشمن تھا، اسے ایک بات ہاتھ لگ لگئی اور بدبخت نے واہی تباہی بکنا شروع کردیا اور بعض بھولے بھالے مسلمان بھی مثلاً مردوں میں حضرت حسان حضرت مسطح اور عورتوں میں حضرت حمنہ بنت جحش منافقوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس قسم کے افسوس ناک تذکرے کرنے لگے، تمام مسلمانوں کو اور خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان چرچوں سے بیحد صدمہ تھا، تقریباً ایک مہینہ تک یہی چرچہ رہا، مگر حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اس سے بالکل بیخبر تھیں، اسی دوران حضرت عائشہ (رض) بیمار ہوگئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاتے اور مزاج پرسی کرکے تشریف لے جاتے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس تلطف میں کمی آجانے کی وجہ سے جو سابقہ بیماریوں میں مبذول رہی دل کو خلجان اور تردد تھا کہ کیا بات ہے کہ آپ گھر میں تشریف لاتے ہیں اور دوسروں سے میرا حال دریافت کرکے واپس تشریف لیجاتے ہیں مجھ سے دریافت نہیں فرماتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس بےالتفاتی کی وجہ سے میری تکلیف میں اور اضافہ ہوتا ہے، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک روز رات کو میں اور ام مسطح قضائے حاجت کیلئے جنگل کی طرف چلے، عرب کا قدیم دستور یہی تھا کہ بدبو کی وجہ سے گھروں میں بیت الخلاء نہیں بناتے تھے، راستہ میں ام مسطح کا پیر چادر میں الجھ گیا جس کی وجہ سے وہ گرگئیں اس وقت ام مسطح کے منہ سے نکلا تَعِسَ مسطح مسطح ہلاک ہو، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا آپ ایسے شخص کو کیوں برا کہتی ہیں جو بددری ہے، ام مسطح نے کہا اے بھولی بھالی لڑکی تم کو قصہ کی خبر نہیں حضرت عائشہ (رض) نے معلوم کیا کہ قصہ کیا ہے ؟ مسطح نے پورا سنایا یہ سنتے ہی مرض میں اور شدت آگئی رات دن روتی رہتی تھیں، ایک لمحہ کیلئے بھی آنسو نہ تھمتے تھے، ہشام بن عروہ کی روایت کے مطابق بغیر قضائے حاجت کے واپس آگئیں، حضرت عائشہ (رض) فرماتی کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے آپ سے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت چاہی تاکہ ماں باپ کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیق کروں، آپ نے اجازت دیدی، میں اپنے والدین کے یہاں آگئی اور اپنی والدہ سے کہا اے اماں تم کو معلوم ہے کہ لوگ میری بابت کیا کہتے ہیں، ماں نے کہا اے بیٹی تو رنج نہ کر دنیا کا قاعدہ ہی یہ ہے کہ جو عورت خوبصورت اور خوب سیرت اور اپنے شوہر کے نزدیک بلند مرتبت ہوتی ہے تو حس کرنے والی عورتیں اس کے ضرر کے درپے ہوجاتی ہیں، جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) اور اسامہ سے مشورہ کیا حضرت اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ آپ کے اہل ہیں جو آپ کی شایان شان اور منصب نبوت و رسالت کے مناسب ہیں ان کی عصمت و عفت کا پوچھنا ہی کیا ہے آپ کے حرم محترم کی طہارت و نزاہت تو اظہر من الشمس ہے اس میں رائے مشورہ کی کیا ضرورت ہے اور اگر آپ ہمارا ہی خیال معلوم کرنا چاہتے ہیں تو عرض یہ ہے وَمَا نعلم اِلاَّ خیراً ہمارے علم کے اعتبار سے آپ کے اہل میں خیر کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت علی (رض) نھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رنج و غم کے خیال سے یہ عرض کیا یَا رسُولَ اللہِ لَمْ یضیق اللہ علیک وَالنِّساء سواھا کثیرٌ واِنْ تسأل الجَاریَۃَ تصدقک یا رسول اللہ ! اللہ نے آپ پر تنگی نہیں فرمائی عورتیں اس کے سوا بہت ہیں آپ اگر گھر کی باندی سے دریافت فرمائیں تو وہ سچ سچ بتادے گی، غرض کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بریرہ (رض) کو بلوایا اور صورت حال معلوم کی، حضرت بریرہ (رض) نے عرض کیا ” قوم اس ذات پاک کی جس نے آپ کو حق دیکر بھیجا میں نے عائشہ کی کوئی بات معیوب اور قابل گرفت کبھی نہیں دیکھی “ الاّ یہ کہ وہ ایک کمسن لڑکی ہے، آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر سو جاتی ہے بکری کا بچہ آکر اسے کھا جاتا ہے یعنی وہ تو اس قدر بیخبر اور بھولی بھالی ہے کہ اسے تو آٹے دال کی بھی خبر نہیں وہ دنیا کی ان چالاکیوں کو کیسے جان سکتی ہے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بریرہ (رض) کی بات سن کر مسجد میں تشریف لے گئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اول خدا کی حمد بیان فرمائی بعد
ازاں عبداللہ بن ابی کا ذکر کرے یہ ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مسلمین کون ہے جو میری اس شخص کے مقابلہ میں مدد کرے جس نے مجھ کو میرے اہل بیت کے بارے میں ایذاء پہنچائی ہے، خدا کی قسم میں نے اپنے اہل سے سوائے نیکی اور پاک دامنی کے کچھ نہیں دیکھا اور علیٰ ھٰذا جس شخص کا ان لوگوں نے نام لیا ہے اس سے بھی سوائے خیر کے کچھ نہیں دیکھا “ (سیرت مصطفیٰ ملخصاً )
آخر کار حضرت صدیقہ کی برأت میں خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورة نور کی یہ آیتیں اِنَ الَّذِیْنَ جَاؤا بِالإفکِ الخ نازل فرمائیں جس پر حضرت عائشہ صدیقہ فخر کیا کرتے تھی مزید تفصیل کیلئے بخاری شریف کی طرف رجوع کریں۔
قولہ : لِکُلِّ امْرِءٍ مِنْھُمْ ای علیہ لکل میں لام بمعنی علی ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے یعنی تہمت لگانے والی جماعت کے ہر فرد کیلئے اس کے جرم کی مقدار سزا ملے گی اوپر کی آیت میں خائضین فی الإفک کا بیان تھا، اس آیت میں ان کو نو طریقہ سے تعبیر اور توبیخ فرمائی ہے، ان میں پہلا لَولَا اِذْ سمِعْتُمُوْہُ ہے اور نواں یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطٰنِ الخ ہے، لَوْ لاَ توبیخیہ ہے اور اِذْ ظَنَّ کا ظرف ہے۔ قولہ : ای ظَنَنْتُمْ اَیُّھَا العصبۃ وقلتم اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آیت میں خطاب سے غیبت کی جانب التفات ہے اور ظَنَّ بمعنی ظَنَنْتُمْ اور قالوا بمعنی قُلْتُمْ ہے۔ قولہ : لَوْ لاَ ھَلاَّ جاؤا اس میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ یہ جملہ مستانفہ ہے تب تو ماقبل سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا اور اگر یہ کلام ما قبل کا تتمہ ہے تو لولا کے تحت میں داخل ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ اس افتراء اور بہتان کو سنتے ہی بہتر گمان کرنا چاہیے تھا اور اس افتراء پر چار عینی شاہدوں کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔
قولہ : لَوْ لاَ فَضْلُ اللہِ علَیْکُمْ یعنی یہ طوفان تو ایسا اٹھا تھا کہ نہ معلوم کون کون اس طوفان کی زد میں آتے لیکن اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے تم میں سے تائبین کی توبہ کو قبول فرمایا اور بعض کو حد شرعی جاری کرکے پاک کیا اور جو زیادہ خبیث تھے ان کو ایک گونہ مہلت دی ان کیلئے آخرت میں شدید عذاب ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصہء افک کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔
اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گرگیا ، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انہیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس پر سوار کرایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر اچکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔
پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بض مخلص مومن بھی دھوکہ کھاگئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طویل مدت تک وحی ناز ل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انہیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ﴾ ” وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں۔“ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا۔ ﴿عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ﴾ اے مومنو ! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمہاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ﴾ ” تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ وہ تمہارے بہتر ہے۔“ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کردیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پر عیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد و احد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب نہ لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیر خواہی کا نہ ہونا ہے۔
﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ﴾ ” ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔“ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنہوں نے حضرت عائشہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تھا اور انہیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حد جاری فرمائی ﴿وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ ﴾ ” جس نے اس کے بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے۔“ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی ابن سلول (لَعَنَهُ اللّٰهُ) ﴿ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾ اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔“ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی کہ جب وہ اس قسم کی بات سنیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔
11 Mufti Taqi Usmani
yaqeen jano kay jo log yeh jhooti tohmat gharr ker laye hain , woh tumharay andar hi ka aik tola hai . tum iss baat ko apney liye bura naa samjho , balkay yeh tumharay liye behtar hi behtar hai . inn logon mein say her aik kay hissay mein apney kiye ka gunah aaya hai . aur inn mein say jiss shaks ney iss ( bohtan ) ka bara hissa apney sar liya hai , uss kay liye to zabardast azab hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
ام المومنین عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی کی شہادت
اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک رٹی تھی۔ اس لعنی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بےایمان نے ایک ایک کان میں بنابناکر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چناچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آگئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضاء حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جاکر میں نے قضاء حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آکر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا۔ اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی۔ الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے۔ مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی۔ اتفاق سے حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی (رض) جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا۔ غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنالیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بیخبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے ؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے طبیعت کیسی ہے ! اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی۔ اب سنئے اس وقت تک گھروں میں پاخانے نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضاء حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں پاخانے بنانے سے عام طور پر نفرت تھی۔ حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح میرے والد صاحب (رض) کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو حضرت ام مسطح کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ اس وقت ام مسطح (رض) نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم ؟ میں نے کہا کیا بات ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہوگئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کردیا، جوں توں کرکے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جاکر اور اچھی طرح معلوم تو کرلوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے ؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے ؟ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں ؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ مجھے الگ کردیں یا کیا ؟ حضرت اسامہ (رض) نے تو صاف کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔ ہاں حضرت علی (رض) نے جواب دیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے آپ پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی وقت گھر کی خادمہ حضرت بریرہ (رض) کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ عائشہ کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ۔ بریرہ نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سو جاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔ چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لئے اسی دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا کون ہے ؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا۔ یہ سنتے ہی حضرت سعد بن معاذ (رض) کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ (رض) کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر حضرت سعد بن معاذ (رض) سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر (رض) کھڑے ہوگئے یہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آگیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑپڑیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔ میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کردیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشیرف لائے اور سلام کرکے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہوسکے۔ آپ نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر اما بعد فرما کر فرمایا کہ اے عائشہ ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کرکے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ آپ اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔ میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ ہی جواب دیجئے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا جواب دوں ؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دیجئے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں ؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بےگناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل حضرت ابو یوسف (علیہ السلام) کا یہ قول ہے آیت (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیرلی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برات اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میری برات دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا عائشہ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات نازل فرما دی۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑی ہوجاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برات اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت (ان الذین جاء و بالافک) سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔ ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں حضرت مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت (ولا یاتل اولوالفضل الخ) ، نازل ہوئی یعنی تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے ؟ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر (رض) نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔ چناچہ اسی وقت حضرت مسطح (رض) کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب بنت جحش (رض) سے بھی جو آپ کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تو سوائے بہتری کے عائشہ (رض) کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا اس میں ہے کہ سعد بن معاذ (رض) کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح کو کو سا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کو سا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کو سا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غلام کردیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا ! آج کیسے آنا ہوا ؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔ اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک بھی یہ بات پہنچی ہے ؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہوگیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب (رض) کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چناچہ میں واپس چلی گئی۔ یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بیخبر ی سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتادے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ( رض ) ۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بےشرمی کی بات ہے ؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں ؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد وثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہرچند حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا اور حدیث میں ہے کہ میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش کو۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ کے والد اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوچکا ہے تو آپ بیہوش ہو کر گرپڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے پوچھا یہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہوگیا ہوگا ؟ جب آپ کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ نے انہیں سن کر فرمایا کہ یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ کے فضل سے۔ تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کہتی ہو ؟ صدیقہ (رض) نے فرمایا ہاں۔ اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر (رض) اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لئے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ حضرت عائشہ کی برات قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب حضرت ابن عباس (رض) اماں صاحبہ (رض) کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ام المومنین آپ خوش ہوجائیے کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ رہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محبت سے پیش آتے رہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی برات آسمان سے نازل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت زینب اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو حضرت زینب (رض) نے فرمایا میرا نکاح آسمان سے اترا۔ اور حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل (رض) مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔ حضرت زینب نے پوچھا یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے ؟ آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل اس پر وہ بول اٹھیں کہ تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔ پھر فرمایا جس جس نے پاک دامن صدیقہ پر تہمت لگائی ہے ہر ایک کو بڑا عذاب ہوگا۔ اور جس نے اس کی ابتدا اٹھائی ہے، جو اسے ادھر ادھر پھیلاتا رہا ہے اس کیلئے سخت تر عذاب ہیں۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے۔ ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے حسان ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لئے ہم نے اسے یہاں بیان کردیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ حضرت حسان (رض) بڑے بزرگ صحابہ میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔ یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ " تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل (علیہ السلام) تمہارے ساتھ ہیں۔ " حضرت مسروق (رض) کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس تھا کہ حضرت حسان بن ثابت (رض) آئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو ، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ انہیں کیوں آنے دیتی ہیں ؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے تو ام المومنین نے فرمایا اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا یہ نابینا ہوگئے تھے۔ تو فرمایا شاید یہی عذاب عظیم ہو۔ پھر فرمایا تمہیں نہیں خبر ؟ یہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسان (رض) نے اس وقت حضرت عائشہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ نے فرمایا تم تو ایسے نہ تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں مجھے حضرت حسان (رض) کے شعروں سے زیادہ اچھے اشعار نظر نہیں آتے اور میں جب کبھی ان شعروں کو پڑھتی ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ حسان جنتی ہیں۔ وہ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کو خطاب کرکے اپنے شعروں میں فرماتے ہیں تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی ہے، جس کا میں جواب دیتا ہوں اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے پاؤں گا۔ میرے باپ دادا اور میری عزت آبرو سب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان ہے، میں ان سب کو فنا کرکے بھی تمہاری بدزبانیوں کے مقابلے سے ہٹ نہیں سکتا۔ تجھ جیسا شخص جو میرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کف پا کی ہمسری بھی نہیں کرسکتا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کرے ؟ یاد رکھو کہ تم جیسے بد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے نیک پر فدا ہیں۔ جب تم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی ہے تو اب میری زبان سے جو تیز دھار اور بےعیب تلوار سے بھی تیز ہے۔ بچ کر تم کہاں جاؤ گے ؟ ام المومنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے ؟ فرمایا ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں ؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے حضرت صفوان رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔