Skip to main content

وَاِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَـقُّ يَأْتُوْۤا اِلَيْهِ مُذْعِنِيْنَۗ

وَإِن
اور اگر
يَكُن
ہو
لَّهُمُ
ان کے لیے
ٱلْحَقُّ
حق
يَأْتُوٓا۟
وہ آئیں گے
إِلَيْهِ
اس کی طرف
مُذْعِنِينَ
مطیع ہوکر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر ان میں ڈگری ہو (ان کے حق میں فیصلہ ہو) تو اس کی طرف آئیں مانتے ہوئے

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر انہیں حق پہنچتا ہو تو اس کی طرف گردن جھکائے آتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہاں اگر انہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع و فرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں (١)

٤٩۔١ کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ عدالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو فیصلہ صادر ہوگا، اس میں کسی کی رو رعایت نہیں ہوگی، اس لئے وہاں اپنا مقدمہ لے جانے سے ہی گریز کرتے ہیں۔ ہاں اگر وہ جانتے ہیں کہ مقدمے میں وہ حق پر ہیں اور ان ہی کے حق میں فیصلہ ہونے کا غالب امکان ہے تو پھر خوشی خوشی وہاں آتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہاں اگر ان ہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع وفرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اگر حق ان کے موافق ہو (اس میں ان کا فائدہ) تو پھر سر تسلیم خم کئے اس (رسول) کی طرف آجاتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

حالانکہ اگر حق ان کے ساتھ ہوتا تو یہ سر جھکائے ہوئے چلے آتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر وہ حق والے ہوتے تو وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مطیع ہو کر تیزی سے چلے آتے،