Skip to main content

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ِلْمُرْسَلِيْنَ ۚ

كَذَّبَتْ
جھٹلایا
قَوْمُ
قوم
نُوحٍ
نوح نے
ٱلْمُرْسَلِينَ
رسولوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

احمد علی Ahmed Ali

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا (١)

٠٥۔١ قوم نوح علیہ السلام نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اس لئے فرمایا کہ قوم نوح علیہ السلام نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

نوح(ع) کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور نوح کی قوم نے بھی مرسلین کی تکذیب کی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بت پرستی کا اغاز
زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح (علیہ السلام) کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔