Skip to main content

وَاِنَّهٗ لَفِىْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ

وَإِنَّهُۥ
اور بیشک وہ
لَفِى
البتہ میں ہے
زُبُرِ
صحیفوں
ٱلْأَوَّلِينَ
، پہلوں کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور البتہ اس کی خبر پہلوں کی کتابوں میں بھی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکرہ ہے (١)

١٩٦۔١ یعنی جس طرح پیغمبر آخری زمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعث کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی طرح اس قرآن کے نزول کی خوشخبری بھی سابقہ آسمانی کتابوں میں دی گئی تھی۔ ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ یہ قرآن مجید، بہ اعتبار ان احکام کے، جن پر شریعتوں کا اتفاق رہا ہے، پچھلی کتابوں میں بھی موجود رہا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں (بھی) ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اس کا ذکر سابقین کی کتابوں میں بھی موجود ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بشارت و تصدیق یافتہ کتاب
فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت ( وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52؀) 54 ۔ القمر ;52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) ، حضرت سلمان فارسی (رض) اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔