Skip to main content

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۗ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۗ

أَمَّن
یا کون ہے جس نے
جَعَلَ
بنایا
ٱلْأَرْضَ
زمین کو
قَرَارًا
جائے قرار
وَجَعَلَ
اور بنایا
خِلَٰلَهَآ
اس کے درمیان
أَنْهَٰرًا
نہروں کو
وَجَعَلَ
اور بنائے
لَهَا
اس کے لئے
رَوَٰسِىَ
پہاڑ
وَجَعَلَ
اور بنایا
بَيْنَ
درمیان
ٱلْبَحْرَيْنِ
دو سمندروں کے
حَاجِزًاۗ
ایک پردہ
أَءِلَٰهٌ
کیا کوئی الٰہ ہے
مَّعَ
ساتھ
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
بَلْ
بلکہ
أَكْثَرُهُمْ
ان میں سے اکثر
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں، بلکہ اِن میں سے اکثر لوگ نادان ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں، بلکہ اِن میں سے اکثر لوگ نادان ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں

احمد علی Ahmed Ali

بھلا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ کس نے بنایا اور اس میں ندیاں جاری کیں اور زمین کے لنگر بنائے اور دو دریاؤں میں پردہ رکھا کیا الله کے ساتھ کوئی اوربھی معبود ہے بلکہ اکثر ان میں بے سمجھ ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا (١) اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی (٢) کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں۔

٦١۔١ یعنی ساکن اور ثابت، نہ ہلتی ہے، نہ ڈولتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین پر رہنا ممکن ہی نہ ہوتا زمین پر بڑے بڑے پہاڑ بنانے کا مقصد بھی زمین کو حرکت کرنے سے اور ڈولنے سے روکنا ہی ہے۔
٦١۔٢ اس کی تشریح کے لئے دیکھیں (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا) 25۔ الفرقان;53) کا حاشیہ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا وه جس نے زمین کو قرار گاه بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرارگاہ بنایا؟ اور اس کے درمیان نہریں (ندیاں) جاری کیں اور اس کیلئے بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور پھر اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل قرار دی کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ہرگز نہیں اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بلکہ وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس کے لئے بھاری پہاڑ بنائے۔ اور (کھاری اور شیریں) دو سمندروں کے درمیان آڑ بنائی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ ان (کفار) میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی صداقت٭٭
زمین کو اللہ تعالیٰ نے ٹھہری ہوئی اور ساکن بنایا تاکہ دنیا آرام سے اپنی زندگی بسر کرسکے اور اس پھیلے ہوئے فرش پر راحت پاسکے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (اللہ الذی جعل لکم الأرض قرارا الخ) ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی ساکن بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے زمین پر پانی کے دریا بہادئیے جو ادھر ادھربہتے رہتے ہیں اور ملک ملک پہنچ کر زمین کو سیراب کرتے ہیں تاکہ زمین سے کھیت باغ وغیرہ اگیں۔ اس نے زمین کی مضبوطی کے لئے اس پر پہاڑوں کی میخیں گاڑھ دیں تاکہ وہ تمہیں متزلزل نہ کرسکے ٹھہری رہے۔ اسکی قدرت دیکھو کہ ایک کھاری سمندر ہے اور دوسرا میٹھا ہے۔ دونوں بہہ رہے ہیں بیچ میں کوئی روک آڑ پردہ حجاب نہیں لیکن قدرت نے ایک کو ایک سے الگ کر رکھا ہے اور نہ کڑوا میٹھے میں مل سکے نہ میٹھاکرڑوے میں۔ کھاری اپنے فوائد پہنچاتا رہے میٹھا اپنے فوائد دیتا رہے اس کا نتھرا ہوا خوش ذائقہ مسرورکن خوش ہضم پانی لوگ پئیں اپنے جانوروں کو پلائیں کھتیاں باڑیاں باغات وغیرہ میں یہ پانی پہنچائیں نہائیں دھوئیں وغیرہ۔ کھاری پانی اپنی فوائد سے لوگوں کو سود مند کرے یہ ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے تاکہ ہوا خراب نہ ہو۔ اور اس آیت میں بھی ہے ان دونوں کا بیان موجود ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 53؀) 25 ۔ الفرقان ;53) یعنی ان دونوں سمندروں کا جاری کرنے والا اللہ ہی ہے اور اسی لئے ان دونوں کے درمیاں حد فاصل قائم کر رکھی ہے۔ یہاں یہ قدرتیں اپنی جتاکر۔ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے یہ کام کئے ہوں یا کرسکتا ہو ؟ تاکہ وہ بھی لائق عبادت سمجھا جائے۔ اکثر لوگ محض بےعلمی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادتوں کے لائق صرف وہی ایک ہے۔