Skip to main content

وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِىْ الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِىْ السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۤءَ اللّٰهُۗ وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ

وَيَوْمَ
اور جس دن
يُنفَخُ
پھونکا جائے گا
فِى
میں
ٱلصُّورِ
صور(میں)
فَفَزِعَ
تو ڈر جائیں گے
مَن
جو
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں (میں) ہیں
وَمَن
اور جو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں) ہیں
إِلَّا
مگر
مَن
جس کو
شَآءَ
چاہے
ٱللَّهُۚ
اللہ
وَكُلٌّ
اور سب کے سب
أَتَوْهُ
آئیں گے اس کے پاس
دَٰخِرِينَ
ذلیل ہوکر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا، اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا، اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے

احمد علی Ahmed Ali

اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جوکوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب ہی گھبرائیں گے مگر جسے الله چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے (١) مگر جسے اللہ تعالٰی چاہے (٢) اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہونگے۔

٨٧۔١ صور سے مراد وہی قرن ہے جس میں اسرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے پہلی پھونک میں ساری دنیا گھبرا کر بےہوش اور دوسری پھونک میں موت سے ہم کنار ہو جائے گی اور تیسری پھونک میں سب لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونگے جس سے سب لوگ میدان محشر میں اکھٹے ہو جائیں گے۔ یہاں کون سا نفحہ مراد ہے؟ امام ابن کثیر کے نزدیک یہ پہلا نفحہ اور امام شوکانی کے نزدیک تیسرا نفحہ ہے جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔
٨٧۔٢ یہ مشتثنٰی لوگ کون ہونگے۔ بعض کے نزدیک انبیاء و شہدا، بعض کے نزدیک فرشتے اور بعض کے نزدیک سب اہل ایمان ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تمام مذکورین ہی اس میں شامل ہوں کیونکہ اہل ایمان حقیقی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جس دن صور پھونکا جائے گا۔ تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے سوائے ان کے جن کو خدا (بچانا) چاہے گا اور سب ذلت وعاجزی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان میں جو بھی ہے سب لرز جائیں گے علاوہ ان کے جن کو خدا چاہے اور سب اس کی بارگاہ میں سر جھکائے حاضر ہوں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جس دن صُور پھونکا جائے گا تو وہ (سب لوگ) گھبرا جائیں گے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں مگر جنہیں اللہ چاہے گا (نہیں گھبرائیں گے)، اور سب اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جب صور پھونکا جائے گا
اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل (علیہ السلام) بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود (رض) جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت ( يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀ ) 17 ۔ الإسراء ;52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔