Skip to main content

وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَـكُمْ اَعْمَالُـكُمْۖ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْۖ لَا نَبْتَغِى الْجٰهِلِيْنَ

وَإِذَا
اور جب
سَمِعُوا۟
انہوں نے سنا
ٱللَّغْوَ
بےہودہ بات کو
أَعْرَضُوا۟
کنارہ کش ہوگئے
عَنْهُ
اس سے
وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
لَنَآ
ہمارے لئے
أَعْمَٰلُنَا
ہمارے اعمال ہیں
وَلَكُمْ
اور تمہارے لئے
أَعْمَٰلُكُمْ
تمہارے اعمال
سَلَٰمٌ
سلام ہو
عَلَيْكُمْ
تم پر
لَا
نہیں
نَبْتَغِى
ہم چاہتے
ٱلْجَٰهِلِينَ
جاہلوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ "ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ "ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں

احمد علی Ahmed Ali

اورجب بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال تم پر سلام ہو ہم بے سمجھوں کو نہیں چاہتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جب بیہودہ بات (١) کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم پر سلام ہو (٢) ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔

۵۵۔۱ یہاں لغو سے مراد وہ سب و شتم اور دین کے ساتھ استہزاء ہے جو مشرکین کرتے تھے۔
٥٥۔٢ یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں، جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں جاہلوں کو دور ہی سے سلام، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک بول چال اور آمنا سامنا ہی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اس سے روگردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے! تم کو سلام! ہم جاہلوں کو پسند نہیں کرتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب لغو بات سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اورجب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، تم پر سلامتی ہو ہم جاہلوں (کے فکر و عمل) کو (اپنانا) نہیں چاہتے (گویا ان کی برائی کے عوض ہم اپنی اچھائی کیوں چھوڑیں)،