Skip to main content

قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَاۤءِ الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا ۚ اَغْوَيْنٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۚ تَبَـرَّأْنَاۤ اِلَيْكَ مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ

قَالَ
کہیں گے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
حَقَّ
سچ ہوگئی
عَلَيْهِمُ
ان پر
ٱلْقَوْلُ
بات
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
هَٰٓؤُلَآءِ
یہ ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
أَغْوَيْنَآ
جن کو گمراہ کیا ہم نے
أَغْوَيْنَٰهُمْ
گمراہ کیا ہم نے ان کو
كَمَا
جیسا کہ
غَوَيْنَاۖ
ہم خود گمراہ ہوئے
تَبَرَّأْنَآ
بےزاری کی ہم نے
إِلَيْكَۖ
تیرے سامنے
مَا
نہ
كَانُوٓا۟
تھے وہ
إِيَّانَا
صرف ہماری
يَعْبُدُونَ
وہ عبادت کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے

احمد علی Ahmed Ali

جن پر الزام قائم ہو گا وہ کہیں گے اے رب ہمارے! وہ یہی ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا انہیں ہم نے گمرا کیا تھا جیسا کہ ہم گمراہ تھے ہم تیرے رو برو بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جن پر بات آچکی وہ جواب دیں گے (١) کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وہ ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا (٢) تھا ہم نے انہیں اس طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے ہم تیری سرکار میں اپنی دست برادری کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے

۔ ٦٣۔١ یعنی جو عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا چکے ہوں گے، مثلاً سرکش شیاطین اور دعویٰ کفر و شرک وغیرہ وہ کہیں گے۔
٦ ۳۔٢ یہ جاہل عوام کی طرف اشارہ ہے جن کو دعویٰ کفر نے اور شیاطین نے گمراہ کیا تھا۔
٦ ۳۔۳ یعنی ہم تو تھے ہی گمراہ لیکن ان کو بھی اپنے ساتھ گمراہ کئے رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر کوئی جبر نہیں کیا تھا، بس ہمارے ادنی سے اشارے پر ہماری طرح ہی انہوں نے بھی گمراہی احتیار کر لی۔
٦ ۳۔٤ یعنی ہم ان سے بیزار اور الگ ہیں، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہاں یہ تابع اور متبوع، چیلے اور گرو ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔
٦ ۳۔۵ بلکہ درحقیقت اپنی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔ یعنی وہ معبودین، جن کی لوگ دنیا میں عبادت کرتے تھے، اس بات سے ہی انکار کر دیں گے کہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جن پر بات آچکی وه جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وه ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا، ہم نے انہیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے، ہم تیری سرکار میں اپنی دست برداری کرتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جن پر خدا کا حکم (عذاب) نافذ ہو چکا ہوگا۔ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! یہ ہیں وہ لوگ جنہیں ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے انہیں اسی طرح گمراہ کیا تھا جیسے ہم خود گمراہ تھے (اب) ہم تیری بارگاہ میں (ان سے) برأت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو جن شرکائ پر عذاب ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ پروردگار یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا ہے اور اسی طرح گمراہ کیا ہے جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے لیکن اب ان سے برائت چاہتے ہیں یہ ہماری عبادت تو نہیں کررہے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ لوگ جن پر (عذاب کا) فرمان ثابت ہو چکا کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے انہیں (اسی طرح) گمراہ کیا تھا جس طرح ہم (خود) گمراہ ہوئے تھے، ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ (درحقیقت) ہماری پرستش نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے پجاری تھے)،