Skip to main content

مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِىْ هٰذِهِ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ ۗ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰـكِنْ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ

مَثَلُ
مثال
مَا
اس کی جو
يُنفِقُونَ
وہ خرچ کرتے ہیں
فِى
میں
هَٰذِهِ
اس
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
كَمَثَلِ
مانند مثال
رِيحٍ
ہوا کے ہے
فِيهَا
اس میں
صِرٌّ
پالا ہے
أَصَابَتْ
پہنچتی ہے
حَرْثَ
کھیتی کو
قَوْمٍ
ایک قوم کی
ظَلَمُوٓا۟
جنہوں نے ظلم کیا
أَنفُسَهُمْ
اپنے نفسوں پر
فَأَهْلَكَتْهُۚ
تو (ہوا نے) ہلاک کردیا اس کو
وَمَا
اور نہیں
ظَلَمَهُمُ
ظلم کیا ان پر
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَلَٰكِنْ
اور لیکن
أَنفُسَهُمْ
اپنے نفسوں پر
يَظْلِمُونَ
وہ ظلم کرتے تھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا در حقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا در حقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

اس دنیا کی زندگی میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک ہوا ہو جس میں تیز سردی ہو وہ ایسے لوگو ں کی کھیتی کو لگ جائے جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا پھر ا سکو برباد کر گئی اور الله نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنے او پر ظلم کرتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ کفار جو خرچ کریں اس کی مثال یہ ہے ایک تند ہوا چلی جس میں پالا تھا جو ظالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تہس نہس کر دیا (١) اللہ تعالٰی نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

١١٧۔١ قیامت والے دن کافروں کے نہ مال کچھ کام آئیں گے نہ اولاد، حتیٰ کے رفاہی اور بظاہر بھلائی کے کاموں پر جو بھی خرچ کرتے ہیں وہ بیکار جائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جو ہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے ظالم اسی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے اور اس سے نفع کی امید رکھے ہوتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا جب تک ایمان نہیں ہوگا، رفاہی کاموں پر رقم خرچ کرنے والوں کی چاہے دنیا میں کتنی ہی شہرت ہو جائے آخرت میں انہیں ان کا کوئی صلہ نہیں ملے گا، وہاں تو ان کے لئے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ کفار جو خرچ اخراجات کریں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک تند ہوا چلی جس سے پاﻻ تھا جو ﻇالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تہس نہس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ لوگ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ لوگ زندگانی دنیا میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی ہے جس میں بہت پالا ہو اور وہ اس قوم کے کھیتوں پر گر پڑے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے تباہ کردے اور یہ ظلم ان پر خدا نے نہیں کیا ہے بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(یہ لوگ) جو مال (بھی) اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالا ہو (اور) وہ ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہو اور وہ اسے تباہ کر دے، اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،