Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

تُوْلِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَـىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَـىِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاۤءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

تُولِجُ
تو داخل کرتا ہے
ٱلَّيْلَ
رات کو
فِى
میں
ٱلنَّهَارِ
دن
وَتُولِجُ
اور تو داخل کرتا ہے
ٱلنَّهَارَ
دن کو
فِى
میں
ٱلَّيْلِۖ
رات
وَتُخْرِجُ
اور تو نکالتا ہے
ٱلْحَىَّ
زندہ کو
مِنَ
سے
ٱلْمَيِّتِ
مردہ
وَتُخْرِجُ
او ر تو نکالتا ہے
ٱلْمَيِّتَ
مردہ کو
مِنَ
اور
ٱلْحَىِّۖ
زندہ سے
وَتَرْزُقُ
تو رزق دیتا ہے
مَن
جس کو تو
تَشَآءُ
چاہتا ہے
بِغَيْرِ
بغیر
حِسَابٍ
حساب کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے اور جسے چاہے بے گنتی دے،

احمد علی Ahmed Ali

تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سےنکالتا ہے اور جسے تو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے (١) تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے (٢) تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بیشمار روزی دیتا ہے۔

٢٧۔١ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہو جاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہو جاتی ہے یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کر دیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں۔
٢٧۔٢ جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکلتا ہے۔ پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے سے کافر پیدا فرماتا ہے بعض روایات میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آیت (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 3۔ آل عمران;26) پڑھا کرو یہ دعا کرو (رَحْمَانُ الدُنْیَا وَلْاآخِرَۃِو رحیمھما تعطی من تشاء منھما رتمنع من تشاء ارحمنی رحمۃ تغنینی بھا عن رحمۃ من سواک اللھم اغننی من الفقر واقض عنی الدین)۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ ایسی دعا ہے کہ تم پر احد پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تعالٰی اس کی ادائیگی کا تمہارے لئے انتظام فرما دے گا۔(مجمع الزوائد)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور توہی جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے، تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے شمار روزی دیتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو ہی رات کو (بڑھا کر) دن میں اور دن کو (بڑھا کر) رات میں داخل کرتا ہے اور تو جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا کرتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور مفِدہ کو زندہ سے اور زندہ کو مفِدہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے (اپنی نوازشات سے) بہرہ اندوز کرتا ہے،