Skip to main content

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۗ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۚ قَالَ يٰمَرْيَمُ اَنّٰى لَـكِ هٰذَا ۗ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِۗ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۤءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

فَتَقَبَّلَهَا
تو قبول کرلیا اس کو
رَبُّهَا
اس کے رب نے
بِقَبُولٍ
ساتھ قبولیت کے
حَسَنٍ
اچھی
وَأَنۢبَتَهَا
اور نشو و نما کی اس کی۔ پرورش کی اس کی۔ پروان چڑھایا اس کو
نَبَاتًا
پرورش
حَسَنًا
اچھی
وَكَفَّلَهَا
اور کفالت کی اس کی
زَكَرِيَّاۖ
زکریا نے
كُلَّمَا
جب کبھی
دَخَلَ
داخل ہوتے
عَلَيْهَا
اس پر
زَكَرِيَّا
زکریا
ٱلْمِحْرَابَ
محراب میں
وَجَدَ
پاتے
عِندَهَا
اس کے پاس
رِزْقًاۖ
رزق
قَالَ
کہا۔ وہ کہتے
يَٰمَرْيَمُ
اے مریم
أَنَّىٰ
کہاں سے ہے
لَكِ
تیرے لیے
هَٰذَاۖ
یہ
قَالَتْ
کہنے لگیں۔ وہ کہتیں
هُوَ
وہ
مِنْ
سے
عِندِ
کے پاس
ٱللَّهِۖ
اللہ کے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
يَرْزُقُ
رزق دیتا ہے
مَن
جس کو وہ
يَشَآءُ
چاہتا ہے
بِغَيْرِ
بغیر
حِسَابٍ
حساب کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریاؑ کوا س کا سرپرست بنا دیا زکریاؑ جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا پوچھتا مریمؑ! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریاؑ کوا س کا سرپرست بنا دیا زکریاؑ جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا پوچھتا مریمؑ! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے

احمد علی Ahmed Ali

پھر اسے اس کے رب نے اچھی طرح سے قبول کیا اور اسے اچھی طرح بڑھایا اور وہ زکریا کو سونپ دی جب زکریا اس کے پاس حجرہ میں آتے تو اس کے پاس کچھ کھانے کی چیز پاتے کہتے اے مریم! تیرے پاس یہ چیز کہاں سے آئی ہے وہ کہتی یہ الله کے ہاں سے آئی ہے الله جسے چاہے بے قیاس رزق دیتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس اسے اس کے پرورگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے والا زکریا علیہ السلام کو بنایا (١) جب کبھی زکریا علیہ السلام ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے (٢) وہ پوچھتے اے مریم یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی وہ جواب دیتیں یہ اللہ تعالٰی کے پاس سے ہے، بیشک اللہ تعالٰی جسے چاہے بیشمار روزی دے۔

٣٧۔١ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم علیہا السلام کی مادی ضروریات اور علمی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کر سکتے تھے۔
٣٧۔٢ محرابُ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام رہائش پذیر تھیں رزق سے مراد پھل یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا علیہ السلام یا اور کوئی شخص لا کر دینے والا نہیں تھا اس لئے حضرت زکریا علیہ السلام نے ازراہ تعجب و حیرت سے پوچھا یہ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔ گویا یہ حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت تھی۔ معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہر اسباب کے خلاف ہو۔ یہ کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے یہ دونوں برحق ہیں۔ تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ معجزہ اور کرامت جب چاہے صادر کر دے۔ اس لیے معجزہ اور کرامت اس بات کی تو دلیل ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اہل بدعت اولیاء کی کرامتوں سے عوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کر دیتے ہیں اس کی مزید وضاحت بعض معجزات کے ضمن میں آئے گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے واﻻ زکریا (علیہ السلام) کو بنایا، جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے، وه پوچھتے اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وه جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزی دے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو اس کے پروردگار نے اس لڑکی (مریم) کو احسن طریقہ سے قبول فرما لیا۔ اور اچھی طرح اس کی نشوونما کا انتظام کیا (یعنی) جناب زکریا کو اس کا کفیل (اور سرپرست) بنایا۔ جب بھی زکریا محرابِ عبادت میں اس (مریم) کے پاس آتے تھے تو اس کے پاس کھانے کی کوئی چیز موجود پاتے۔ (اور) پوچھتے: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی۔ یہ خدا کے یہاں سے آیا ہے۔ بے شک خدا جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو خدا نے اسے بہترین انداز سے قبول کرلیا اور اس کی بہترین نشوونما کا انتظام فرمادیا اور زکریا علیھ السّلام نے اس کی کفالت کی کہ جب زکریا علیھ السّلاممحراب هعبادت میں داخل ہوتے تو مریم کے پاس رزق دیکھتے اور پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا اور مریم جواب دیتیں کہ یہ سب خدا کی طرف ہے- وہ جسے چاہتا ہے رزق بے حساب عطا کردیتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو اس کے رب نے اس (مریم) کو اچھی قبولیت کے ساتھ قبول فرما لیا اور اسے اچھی پرورش کے ساتھ پروان چڑھایا اور اس کی نگہبانی زکریا (علیہ السلام) کے سپرد کر دی، جب بھی زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو وہ اس کے پاس (نئی سے نئی) کھانے کی چیزیں موجود پاتے، انہوں نے پوچھا: اے مریم! یہ چیزیں تمہارے لئے کہاں سے آتی ہیں؟ اس نے کہا: یہ (رزق) اﷲ کے پاس سے آتا ہے، بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

زکریا (علیہ السلام) کا تعارف
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حضرت حفصہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کردیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنادیا ابن اسحاق تو فرماتے ہیں یہ اس لئے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) یتیم ہوگئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ حضرت زکریا نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہوسکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں واللہ اعلم، حضرت ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں، ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ حضرت مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ حضرت جعفر بن ابو طالب (رض) کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے، اب اللہ تعالیٰ حضرت مریم کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بےموسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔ حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت ابو الشعشاء، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت ضحاک، حضرت قتادہ، حضرت ربیع بن انس، حضرت عطیہ عوفی، حضرت سدی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں، حضرت مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیں لیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے، اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے ؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے، مسند حافظ ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے ؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے باپ صدقے ہوں کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے نکلے ہی تھے کہ حضرت فاطمہ کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت حضرت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گذار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کو دوں گی، پھر حضرت حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لئے، آپ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے، آپ نے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہوگئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہوگئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کردیا آپ نے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا ؟ جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بےحساب روزی دے، آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کردیا، انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا اور آپ نے حضرت علی نے اور حضرت فاطمہ نے اور حضرت حسین نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔