Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَىْءٌ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَاۤءِ ۗ

اِنَّ
بیشک
اللّٰهَ
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَخْفٰى
پوشیدہ۔ چھپی
عَلَيْهِ
اس پر
شَيْءٌ
کوئی چیز
فِي الْاَرْضِ
زمین میں
وَ
اور
لَا
نہ
فِي
آسمان (آسمان میں)
السَّمَاۗءِ
آسمان (آسمان میں)

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں

ابوالاعلی مودودی

زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں

احمد رضا خان

اللہ پر کچھ چھپا ہوا نہیں زمین میں نہ آسمان میں،

احمد علی

الله پر زمین اور آسمان میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں

جالندہری

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

محمد جوناگڑھی

یقیناً اللہ تعالیٰ پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیده نہیں

محمد حسین نجفی

بے شک خدا پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمان میں۔

علامہ جوادی

خدا کے لئے آسمان و زمین کی کوئی شے مخفی نہیں ہے

طاہر القادری

یقینا اﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں،

تفسير ابن كثير

خالقِ کل
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو ؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے ؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ) 39 ۔ الزمر ;6) وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔