Skip to main content

يٰۤـاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَاۤجُّوْنَ فِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَمَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰٮةُ وَالْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖۗ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ

يَٰٓأَهْلَ
اے اہل
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
لِمَ
کیوں
تُحَآجُّونَ
تم جھگڑا کرتے ہو
فِىٓ
بارے میں
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم کے
وَمَآ
حالانکہ
أُنزِلَتِ
اتاری گئی
ٱلتَّوْرَىٰةُ
توارت
وَٱلْإِنجِيلُ
اور انجیل
إِلَّا
مگر
مِنۢ
اس کے
بَعْدِهِۦٓۚ
بعد
أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
تَعْقِلُونَ
تم عقل رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے اہل کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے اہل کتاب! تم ابراہیمؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں

احمد علی Ahmed Ali

اے اہلِ کتاب! ابراھیم کے معاملہ میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو اس کے بعد اتری ہیں کیا تم یہ نہیں سجحھتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔

٦٥۔١ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی دونوں دعویٰ کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے دین پر تھے حالانکہ تورات جس پر یہودی ایمان رکھتے تھے اور انجیل جسے عیسائی مانتے تھے دونوں حضرت ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کے سینکڑوں برس بعد نازل ہوئیں پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا عیسائی کس طرح ہو سکتے ہیں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا حضرت ابراہیم و عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ تھا (قرطبی)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت کیوں جھگڑتے ہو حاﻻنکہ تورات وانجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں (ہم سے) حجت بازی کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں کیا تم میں اتنی بھی عقل (سمجھ) نہیں ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اے اہلِ کتاب آخر ابراہیم علیھ السّلام کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو جب کہ توریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہے کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے اہلِ کتاب! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو (یعنی انہیں یہودی یا نصرانی کیوں ٹھہراتے ہو) حالانکہ تورات اور انجیل (جن پر تمہارے دونوں مذہبوں کی بنیاد ہے) تو نازل ہی ان کے بعد کی گئی تھیں، کیا تم (اتنی بھی) عقل نہیں رکھتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق یہودی اور نصرانی دعوے کی تردید
یہودی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے اور نصرانی بھی حضرت ابراہیم کو اپنے میں سے کہتے تھے اور آپس میں اس پر بحث مباحثے کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دونوں کے دعوے کی تردید کرتا ہے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نجران کے نصرانیوں کے پاس یہودیوں کے علماء آئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان کا جھگڑا شروع ہوگیا، ہر فریق اس بات کا مدعی تھا کہ حضرت خلیل اللہ ہم میں سے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ اے یہودیو تم خلیل اللہ کو اپنے میں سے کیسے بتاتے ہو ؟ حالانکہ ان کے زمانے میں نہ موسیٰ تھے نہ توراۃ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور کتاب تورات شریف تو خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بعد آئے، اسی طرح اے نصرانیو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نصرانی کیسے کہہ سکتے ہو ؟ حالانکہ نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد ظہور میں آئی کیا تم اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل بھی نہیں رکھتے ؟ پھر ان دونوں فرقوں کی اس بےعلمی کے جھگڑے پر رب دو عالم انہیں ملامت کرتا ہے اگر تم بحث و مباحثہ دینی امور میں جو تمہارے پاس ہیں کرتے تو بھی خیر ایک بات تھی تم تو اس بارے میں گفتگو کرتے ہو جس کا دونوں کو مطلق علم ہی نہیں، تمہیں چاہئے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اسے اس علیم اللہ کے حوالے کرو جو ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے اور چھپی کھلی تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے، اسی لئے فرمایا اللہ جانتا ہے اور تم محض بیخبر ہو۔ دراصل اللہ کے خلیل اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے وہ شرک سے بیزار مشرکوں سے الگ صحیح اور کامل ایمان کے مالک تھے اور ہرگز مشرک نہ تھے، یہ آیت اس آیت کی مثل ہے جو سورة بقرہ میں گذر چکی آیت ( وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا) 2 ۔ البقرۃ ;135) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی بننے میں ہدایت ہے۔ پھر فرمایا کہ سب سے زیادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تابعداری کے حقدار ان کے دین پر ان کے زمانے میں چلنے والے تھے اور اب یہ نبی محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کے ساتھ کے ایمانداروں کی جماعت جو مہاجرین و انصار ہیں اور پھر جو بھی ان کی پیروی کرتے رہیں قیامت تک، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ہر نبی کے ولی دوست نبیوں میں سے ہوتے ہیں میرے ولی دوست انبیاء میں سے میرے باپ اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (ترمذی وغیرہ) پھر فرمایا جو بھی اللہ کے رسول پر ایمان رکھے وہی ان کا ولی اللہ ہے۔