Skip to main content

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَٮِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ

فَأَقِمْ
تو جما دو
وَجْهَكَ
اپنے چہرے کو۔ اپنے رخ کو
لِلدِّينِ
دین کے لیے
ٱلْقَيِّمِ
درست
مِن
اس سے
قَبْلِ
پہلے
أَن
کہ
يَأْتِىَ
آجائے
يَوْمٌ
وہ دن
لَّا
نہیں
مَرَدَّ
ٹلنا۔ پھیرا جانا
لَهُۥ
اس کے لیے
مِنَ
طرف سے
ٱللَّهِۖ
اللہ کی
يَوْمَئِذٍ
اس دن
يَصَّدَّعُونَ
وہ متفرق ہوجائیں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پس (اے نبیؐ) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن لوگ پھَٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں اس دن الگ پھٹ جائیں گے

احمد علی Ahmed Ali

سو تو اپنا منہ سیدھی راہ پرسیدھا رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آ پہنچے جسے الله کی طرف سے پھرنا نہیں اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ہی نہیں (١) اس دن سب متفرق (٢) ہوجائیں گے۔

٤٣۔١ یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لئے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرلیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔
٤٣۔٢ یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس (اے رسول(ص)) آپ اپنا رخ دینِ مستقیم کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس کیلئے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہ ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو آپ اپنا رُخِ (انور) سیدھے دین کے لئے قائم رکھیئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جسے اﷲ کی طرف سے (قطعاً) نہیں پھرنا ہے۔ اس دن سب لوگ جدا جدا ہو جائیں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ کے دین میں مستحکم ہوجاؤ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے۔ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔ اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہوچکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی جماعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ لوگ اپنے کئے ہوئے نیک اعمال بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش وخرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کرکے دے رہا ہوگا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کرکے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔