Skip to main content

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهٖۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ

أَلَمْ
کیا تم نے
تَرَ
دیکھا نہیں
أَنَّ
بیشک
ٱلْفُلْكَ
کشتیاں
تَجْرِى
چلتی ہیں
فِى
میں
ٱلْبَحْرِ
سمندر
بِنِعْمَتِ
ساتھ نعمت کے
ٱللَّهِ
اللہ کی
لِيُرِيَكُم
تاکہ وہ دکھائے تم کو
مِّنْ
میں سے
ءَايَٰتِهِۦٓۚ
اپنی نشانیوں
إِنَّ
یقینا
فِى
اس میں
ذَٰلِكَ
البتہ
لَءَايَٰتٍ
نشانیاں ہیں
لِّكُلِّ
واسطے ہر ایک
صَبَّارٍ
بہت صبر کرنے والے
شَكُورٍ
بہت شکر گزار کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے تاکہ تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو

احمد علی Ahmed Ali

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ الله ہی کے فضل سے دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے بے شک اس میں ہر ایک صابر شاکر کےلیے نشانیاں ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے، (١) یقیناً اس میں ہر ایک صبر و شکر کرنے والے (٢) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

٣١۔١ یعنی سمندر میں کشتیوں کا چلنا، یہ بھی اس کے لطف و کرم کا ایک مظہر اور اس کی قدرت تسخیر کا ایک نمونہ ہے، اس نے ہوا اور پانی کو ایسے مناسب انداز سے رکھا کہ سمندر کی سطح پر کشتیاں چل سکیں،
ورنہ وہ چاہے تو ہوا کی تندی اور موجوں کی طغیانی سے کشتیوں کا چلنا ناممکن ہو جائے۔
٣١۔٢ تکلیفوں میں صبر کرنے والے، راحت اور خوشی میں اللہ کا شکر کرنے والے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ محض اللہ کے فضل سے سمندر میں کشتی چلتی ہے۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر و شکر کرنے والے کیلئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نعمت خدا ہی سے کشتیاں دریا میں چل رہی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے کہ اس میں تمام صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اﷲ کی نعمت سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

طوفان میں کون یاد آتا ہے ؟
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں ؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہیں اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ 67؀) 17 ۔ الإسراء ;67) ، دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو۔ اور آیت میں ہے ( فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ 65؀ۙ ) 29 ۔ العنکبوت ;65) ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کردیا تو تھوڑے سے کافر ہوجاتے ہیں۔ مجاہد نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت (اذاھم یشرکون) لفظی معنی یہ ہیں کہ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ابن زید یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ 32؀ۭ ) 35 ۔ فاطر ;32) ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ ختار کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ ختر کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ کفور کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہوجائے شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔