Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
مَتَىٰ
کب ہوگا
هَٰذَا
یہ
ٱلْفَتْحُ
فیصلہ
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
صَٰدِقِينَ
سچے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو

احمد علی Ahmed Ali

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ۔

۲۸۔١اس فیصلے (فتح) سے مراد اللہ تعالٰی کا وہ عذاب ہے جو کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ فی الحال تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تجھ پر ایمان لانے والے چھپے پھرتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ)

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ فتح (فیصلہ) کب ہوگا؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ آخر وہ فتح کا دن کب آئے گا اگر آپ لوگ سچےّ ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ (کا دن) کب ہوگا اگر تم سچے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے
کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت ( فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 83؀) 40 ۔ غافر ;83) یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے، پوری دو آیتوں تک۔ اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریبا دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔ اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہے تھا کہ اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانامقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت ( فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ\011\08 ) 26 ۔ الشعراء ;118) ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت ( قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26؀) 34 ۔ سبأ ;26) یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا اور آیت میں ہے ( وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15 ۝ ۙ ) 14 ۔ ابراھیم ;15) یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے آیت (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 89؀) 2 ۔ البقرة ;89) اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے اور آیت میں فرمان باری ہے آیت ( اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 19؀ ) 8 ۔ الانفال ;19) اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی۔ پھر فرماتا ہے آپ ان مشرکین سے بےپرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ پھر فرمایا تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اسکی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بےسود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کردئیے جائیں ؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی ( نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہہ دو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔