Skip to main content

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَـكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِىْۤ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَـكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّاۤ اَفَاۤءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِىْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ۗ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِىُّ اَنْ يَّسْتَـنْكِحَهَا خَالِصَةً لَّـكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَـكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنَّآ
بیشک
أَحْلَلْنَا
حلال کردیں ہم نے
لَكَ
آپ کے لیے
أَزْوَٰجَكَ
آپ کی بیویاں
ٱلَّٰتِىٓ
وہ جو
ءَاتَيْتَ
دیے آپ نے
أُجُورَهُنَّ
ان کے مہر
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتْ
مالک ہے
يَمِينُكَ
آپ کا دایاں ہاتھ
مِمَّآ
اس میں سے جو
أَفَآءَ
لوٹایا
ٱللَّهُ
اللہ نے
عَلَيْكَ
آپ پر
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمِّكَ
آپ کے چچا کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمَّٰتِكَ
آپ کی پھوپھیوں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَالِكَ
آپ کے ماموں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَٰلَٰتِكَ
آپ کی خالاؤں کی
ٱلَّٰتِى
وہ
هَاجَرْنَ
جنہوں نے ہجرت کی
مَعَكَ
تیرے ساتھ
وَٱمْرَأَةً
اور کوئی عورت
مُّؤْمِنَةً
مومن
إِن
اگر
وَهَبَتْ
ہبہ کردے
نَفْسَهَا
اپنے نفس کو
لِلنَّبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنْ
اگر
أَرَادَ
ارادہ کریں
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَن
کہ
يَسْتَنكِحَهَا
نکاح کرنا چاہیں اس سے
خَالِصَةً
خالصتا
لَّكَ
آپ کے لیے ہے
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱلْمُؤْمِنِينَۗ
مومنوں کے
قَدْ
تحقیق
عَلِمْنَا
جان لیا ہم نے
مَا
جو
فَرَضْنَا
فرض کیا ہم نے
عَلَيْهِمْ
ان پر
فِىٓ
معاملے میں
أَزْوَٰجِهِمْ
ان کی بیویوں کے (معاملے میں)
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتْ
مالک ہیں
أَيْمَٰنُهُمْ
ان کے دائیں ہاتھ
لِكَيْلَا
تاکہ نہ
يَكُونَ
ہو
عَلَيْكَ
آپ پر
حَرَجٌۗ
کوئی تنگی
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رَّحِيمًا
رحیم

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں یہ خصوصیت تمہاری اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،

احمد علی Ahmed Ali

اے نبی ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں حلال کر دیں جن کے آپ مہر ادا کر چکے ہیں اور وہ عورتیں جو تمہاری مملومکہ ہیں جو الله نے آپ کو غنیمت میں دلوادی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کے خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلاعوض اپنے کوپیغمبر کو دے دے بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہے یہ خالص آپ کے لیے ہے نہ اور مسلمانوں کے لیے ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے مسلمانو ں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کیا ہے تاکہ آپ پر کوئی دِقت نہ رہے اور الله معاف کرنے والا مہربان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے نبی! ہم نے تیرے لئے وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے (۱) اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ تعالٰی نے غنیمت میں تجھے دی ہیں (۲) اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خلاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے (۳) اور وہ با ایمان عورتیں جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے (٤) یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں (۵) ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں ( ٦ ) یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو (۷) اللہ تعالٰی بہت بخشنے والا اور بڑے رحم والا ہے۔

٥٠۔١بعض احکام شرعیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلا اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا اور جویریہ رضی اللہ عنھا کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔
۵۰۔۲چنانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنھا اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کرلیا اور رحانہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔
۵۰۔۳ اس کامطلب ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔
۵۰۔٤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آپ ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس اپنے نکاح میں رکھنا جائز ہے۔
٥٠۔۵ یہ اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے (دیگر مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق مہر ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔
٥٠۔ ٦ یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلا چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آجکل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔
٥٠۔۷ اس کا تعلق اِ نَّا اَ حْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت اس لئے ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی تنگی محسوس نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کے نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے نبی(ص)! ہم نے آپ کیلئے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیئے ہیں اور وہ مملوکہ کنیزیں جو اللہ نے بطورِ غنیمت آپ کو عطا کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے (یہ سب بھی حلال ہیں) اور اس مؤمن عورت کو بھی (حلال کیا ہے) اگر وہ اپنا نفس نبی(ص) کو ھبہ کر دے بشرطیکہ نبی(ص) بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں یہ (اجازت) صرف آپ کیلئے ہے دوسرے مؤمنوں کیلئے نہیں ہے ہم جانتے ہیں جو (احکام) ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور مملوکہ کنیزوں کے بارے میں مقرر کئے ہیں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اے پیغمبر ہم نے آپ کے لئے آپ کی بیویوں کو جن کا مہر دے دیا ہے اور کنیزوں کو جنہیں خدا نے جنگ کے بغیر عطا کردیا ہے اور آپ کے چچا کی بیٹیوں کو اور آپ کی پھوپھی کی بیٹیوں کو اور آپ کے ماموں کی بیٹیوں کو اور آپ کی خالہ کی بیٹیوں کو جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اس مومنہ عورت کو جو اپنا نفس نبی کو بخش دے اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے تو حلال کردیا ہے لیکن یہ صرف آپ کے لئے ہے باقی مومنین کے لئے نہیں ہے. ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے ان لوگوں پر ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں کیا فریضہ قرار دیا ہے تاکہ آپ کے لئے کوئی زحمت اور مشقّت نہ ہو اوراللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

حق مہر اور بصورت علیحدگی کے احکامات۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی جن بیویوں کو مہر ادا کیا ہے وہ سب آپ پر حلال ہیں۔ آپ کی تمام ازواج مطہرات کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام المومنین حضرت حبیبہ بنت ابی سفیان عنہا کا مہر حضرت نجاشی (رح) نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ اور اسی طرح ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی (رض) کا مہر صرف ان کی آزادی تھی۔ خیبر کے قیدیوں میں آپ بھی تھیں پھر آپ نے انہیں آزاد کردیا اور اور اسی آزادی کو مہر قرار دیا اور نکاح کرلیا۔ اور حضرت جویریہ بنت حارث مصطلقیہ نے جتنی رقم پر مکاتبہ کیا تھا وہ پوری رقم آپ نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس کو ادا کر کے ان سے عقد باندھا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام ازواج مطہرات پر اپنی رضامندی نازل فرمائے۔ اسی طرح جو لونڈیاں غنیمت میں آپ کے قبضے میں آئیں وہ بھی آپ پر حلال ہیں۔ صفیہ اور جویریہ کے مالک آپ ہوگئے تھے پھر آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ ریحانہ بنت شمعون نصریہ اور ماریہ قبطیہ (رض) بھی آپ کی ملکیت میں آئی تھیں۔ حضرت ماریہ (رض) سے آپ کو فرزند بھی ہوا۔ جن کا نام حضرت ابراہیم تھا۔ چونکہ نکاح کے بارے میں نصرانیوں نے افراط اور یہودیوں نے تفریط سے کام لیا تھا اس لئے اس عدل و انصاف والی سہل اور صاف شریعت نے درمیانہ راہ حق کو ظاہر کردیا۔ نصرانی تو سات پشتوں تک جس عورت مرد کا نسب نہ ملتا ہو۔ ان کا نکاح جائز جانتے تھے اور یہودی بہن اور بھائی کی لڑکی سے بھی نکاح کرلیتے تھے۔ پس اسلام نے بھانجی بھتیجی سے نکاح کرنے کو روکا۔ اور چچا کی لڑکی پھوپھی کی لڑکی ماموں کی لڑکی اور خالہ کی لڑکی سے نکاح کو مباح قرار دیا۔ اس آیت کے الفاظ کی خوبی پر نظر ڈالئے کہ عم اور خال چچا اور ماموں کے لفظ کو تو واحد لائے اور عمات اور خلات یعنی پھوپھی اور خالہ کے لفظ کو جمع لائے۔ جس میں مردوں کی ایک قسم کی فضیلت عورتوں پر ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے (يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ\025\07ۧ) 2 ۔ البقرة ;257) اور جیسے ( وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ۝) 6 ۔ الانعام ;1) یہاں بھی چونکہ ظلمات اور نور یعنی اندھیرے اور اجالے کا ذکر تھا اور اجالے کو اندھیرے پر فضیلت ہے اس لئے وہ لفظ ظلمات جمع لائے۔ اور لفظ نور مفرد لائے۔ اس کی اور بھی بہت سی نظیریں دی جاسکتی ہیں، پھر فرمایا جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے۔ حضرت ام ہانی (رض) فرماتی ہیں میرے پاس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مانگا آیا تو میں نے اپنی معذوری ظاہر کی جسے آپ نے تسلیم کرلیا۔ اور یہ آیت اتری میں ہجرت کرنے والیوں میں نہ تھی بلکہ فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والیوں میں تھی۔ مفسرین نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد ہے کہ جنہوں نے مدینے کی طرف آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ قتادہ سے ایک روایت میں اس سے مراد اسلام لانا بھی مروی ہے۔ ابن مسعود کی قرائت میں (وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا للنَّبِيِّ اِنْ اَرَاد النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50؀) 33 ۔ الأحزاب ;50) پھر فرمایا اور وہ مومنہ عورت جو اپنا نفس اپنے نبی کے لئے ہبہ کردیے۔ اور نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں۔ تو بغیر مہر دیے اسے نکاح میں لاسکتے ہیں۔ پس یہ حکم دو شرطوں کے ساتھ ہے جیسے آیت ( وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ ۭ هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 34؀ۭ ) 11 ۔ ھود ;34) میں۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم سے فرماتے ہیں اگر میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں اور اگر اللہ تمہیں اس نصیحت سے مفید کرنا نہ چاہے تو میری نصیحت تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتی۔ اور جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس فرمان میں (يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ 84؀) 10 ۔ یونس ;84) یعنی اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔ اور اگر تم مسلمان ہوگئے ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ پس جیسے ان آیتوں میں دو دو شرائط ہیں اسی طرح اس آیت میں بھی دو شرائط ہیں۔ ایک تو اس کا اپنا نفس ہبہ کرنا دوسرے آپ کا بھی اسے اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کرنا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں اپنا نفس آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ تو ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ ان سے نکاح کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو میرے نکاح میں دے دیجئے۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ جو انہیں مہر میں دیں ؟ جواب دیا کہ اس تہمد کی سوا اور کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا یہ اگر تم انہیں دے دو گے تو خود بغیر تہمد کے رہ جاؤ گے کچھ اور تلاش کرو۔ اس نے کہا میں اور کچھ نہیں پاتا۔ آپ نے فرمایا تلاش تو کرو گو لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے۔ انہوں نے ہرچند دیکھ بھال کی لیکن کچھ نہ پایا۔ آپ نے فرمایا قرآن کی کچھ سورتیں بھی تمہیں یاد ہیں ؟ اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا بس انہی سورتوں پر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی۔ حضرت انس جب یہ واقعہ بیان کرنے لگے تو ان کی صاحبزادی بھی سن رہی تھیں۔ کہنے لگیں اس عورت میں بہت ہی کم حیا تھی۔ تو آپ نے فرمایا تم سے وہ بہتر تھیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی رغبت کر رہی تھیں اور آپ پر اپنا نفس پیش کر رہی تھیں (بخاری) مسند احمد میں ہے کہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کی بہت سی تعریفیں کر کے کہنے لگیں کے حضور میری مراد یہ ہے کہ آپ اس سے نکاح کرلیں۔ آپ نے قبول فرما لیا اور وہ پھر بھی تعریف کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ کہا حضور نہ وہ کبھی وہ بیمار پڑیں نہ سر میں درد ہوا یہ سن کر آپ نے فرمایا پھر مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی بیوی صاحبہ حضرت خولہ بنت حکیم (رض) تھیں۔ اور روایت میں ہے یہ قبلہ بنو سلیم میں سے تھیں۔ اور روایت میں ہے یہ بڑی نیک بخت عورت تھیں۔ ممکن ہے ام سلیم ہی حضرت خولہ ہوں (رض) ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دوسری کوئی عورت ہوں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے چھ تو قریشی تھیں۔ خدیجہ، عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ و ام سلمہ (رض) اجمعین اور تین بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلے میں سے تھیں اور دو عورتیں قبیلہ بنوہلال بن عامر میں سے تھیں اور حضرت میمونہ بنت حارث (رض) ۔ یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس رسول اللہ کو ہبہ کیا تھا اور حضرت زینب (رض) جن کی کنیت ام المساکین تھی۔ اور ایک عورت بنو ابی بکرین کلاب سے۔ یہ وہی ہے جس نے دنیا کو اختیار کیا تھا اور بنو جون میں سے ایک عورت جس نے پناہ طلب کی تھی، اور ایک عورت اسدیہ جن کا نام زینب بنت جحش ہے (رض) ۔ دو کنزیں تھیں۔ صفیہ بنت حی بن اخطب اور جویریہ بنت حارث بن عمرو بن مصطلق خزاعیہ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت حضرت میمونہ بنت حارث تھیں لیکن اس میں انقطاع ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ یہ مشہور بات ہے کہ حضرت زینب جن کی کنیت ام المساکین تھی، یہ زینب بنت خزیمہ تھیں، فبیلہ انصار میں سے تھیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں ہی انتقال کر گئیں۔ (رض) ۔ واللہ اعلم، مقصد یہ ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے اپنے نفس کا اختیار آپ کو دیا تھا چناچہ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر غیرت کیا کرتی تھی جو اپنا نفس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کردیتی تھیں اور مجھے بڑا تعجب معلوم ہوتا تھا کہ عورتیں اپنا نفس ہبہ کرتی ہیں۔ جب یہ آیت اتری کہ ( تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51؀) 33 ۔ الأحزاب ;51) الخ، تو ان میں سے جسے چاہے اس سے نہ کر اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے اور جن سے تو نے یکسوئی کرلی ہے انہیں بھی اگر تم لے آؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ تو میں نے کہا بس اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر خوب وسعت و کشادگی کردی۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ کوئی عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ تھی جس نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا ہو۔ حضرت یونس بن بکیر فرماتے ہیں گو آپ کے لئے یہ مباح تھا کہ جو عورت اپنے تئیں آپ کو سونپ دے آپ اسے اپنے گھر میں رکھ لیں لیکن آپ نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ یہ امر آپ کی مرضی پر رکھا گیا تھا۔ یہ بات کسی اور کے لئے جائز نہیں ہاں مہر ادا کر دے تو بیشک جائز ہے۔ چناچہ حضرت بروع بنت واشق کے بارے میں جنہوں نے اپنا نفس سونپ دیا تھا جب ان کے شوہر انتقال کر گئے تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان کی اور عورتوں کے مثل انہیں مہر دیا جائے۔ جس طرح موت مہر کو مقرر کردیتی ہے اسی طرح صرف دخول سے بھی مہر و اجب ہوجاتا ہے۔ ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حکم سے مستثنیٰ تھے۔ ایسی عورتوں کو کچھ دینا آپ پر واجب نہ تھا گو اسے شرف بھی حاصل ہوچکا ہو۔ اس لئے کہ آپ کو بغیر مہر کے اور بغیر ولی کے اور بغیر گواہوں کے نکاح کرلینے کا اختیار تھا جیسا کہ حضرت زینب بنت جحش (رض) کے قصے میں ہے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ اپنے آپ کو بغیر ولی اور بغیر مہر کے کسی کے نکاح میں دے دے۔ ہاں صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ تھا۔ اور مومنوں پر جو ہم نے مقرر کردیا ہے اسے ہم خوب جانتے ہیں یعنی وہ چار سے زیادہ بیویاں ایک ساتھ رکھ نہیں سکتے۔ ہاں ان کے علاوہ لونڈیاں رکھ سکتے ہیں۔ اور ان کی کوئی تعداد مقرر نہیں۔ اسی طرح ولی کی مہر کی گواہوں کی بھی شرط ہے۔ پس امت کا تو یہ حکم ہے اور آپ پر اس کی پابندیاں نہیں۔ تاکہ آپ کو کوئی حرج نہ ہو۔ اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔