Skip to main content

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ وَمَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ

فَقَالُوا۟
تو انہوں نے کہا
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
بَٰعِدْ
دوری پیدا کردے
بَيْنَ
درمیان
أَسْفَارِنَا
ہمارے سفروں کے
وَظَلَمُوٓا۟
اور انہوں نے ظلم کیا
أَنفُسَهُمْ
اپنی جانوں پر
فَجَعَلْنَٰهُمْ
تو بنادیا ہم نے ان کو
أَحَادِيثَ
افسانے۔ باتیں
وَمَزَّقْنَٰهُمْ
اور منتشر کردیا ہم نے ان کو۔ تتر بتر کردیا ہم نے ان کو
كُلَّ
ہر طرح
مُمَزَّقٍۚ
منتشر کرنا
إِنَّ
یقینا
فِى
میں
ذَٰلِكَ
اس (میں)
لَءَايَٰتٍ
البتہ نشانیاں ہیں
لِّكُلِّ
واسطے ہر
صَبَّارٍ
بہت صبر کرنے والے
شَكُورٍ
شکر گزار کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے

احمد علی Ahmed Ali

پھر انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہماری منزلوں کو دور دور کردےا ور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا سو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور ہم نے انہیں پورے طور پر پارہ پارہ کر دیا بے شک اس میں ہر ایک صبر شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

لیکن انہوں نے پھر کہا اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کر دے (۱) چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گذشتہ) افسانوں کی صورت میں کر دیا (۲) اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے (۳) بلاشبہ ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں۔

۱۹۔۱یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں، خطرات اور موسم کی شدتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر بھی اسی طرح دور دور کردے مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان و ویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گزرنا پڑے گرمیوں میں دھوب کی شدت اور سردیوں میں بیخ بستہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستے میں بھوک اور پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے زاد راہ کا بھی انتظام کرنا پڑے ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دیگر سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعا تھی۔
١٩۔۲ یعنی انہیں اس طرح ناپید کیا کہ ان کی ہلاکت کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا۔ اور مجلسوں اور محفلوں کا موضوع گفتگو بن گیا۔
١٩۔۳ یعنی انہیں متفرق اور منتشر کر دیا، چنانچہ سبا میں آباد مشہور قبیلے مختلف جگہوں پر جا آباد ہوئے، کوئی یثرب و مکہ آگیا، کوئی شام کے علاقے میں چلا گیا کوئی کہیں اور کوئی کہی

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(مگر) انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں (ان کی مسافتوں) کو دور دراز کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ہم نے انہیں (برباد) کرکے افسانہ بنا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے (اور) بہت شکر کرنے والے کیلئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو انہوں نے اس پر بھی یہ کہا کہ پروردگار ہمارے سفر دور دراز بنادے اوراس طرح اپنے نفس پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانی بناکر چھوڑ دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ یقینا اس میں صبر و شکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تو وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کر دے، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں (عبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیں،