Skip to main content

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِىْ بَيْنَ يَدَيْهِۗ وَلَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۖ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ ِ لْقَوْلَۚ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْلَاۤ اَنْـتُمْ لَـكُـنَّا مُؤْمِنِيْنَ

وَقَالَ
اور کہتے ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَن
ہرگز نہیں
نُّؤْمِنَ
ہم ایمان لائیں گے
بِهَٰذَا
ساتھ اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن کے
وَلَا
اور نہ
بِٱلَّذِى
اس چیز پر
بَيْنَ
جو پہلے ہے
يَدَيْهِۗ
جو پہلے ہے اس کے
وَلَوْ
اور کاش
تَرَىٰٓ
تم دیکھتے
إِذِ
جب
ٱلظَّٰلِمُونَ
ظالم لوگ
مَوْقُوفُونَ
کھڑے ہوں گے
عِندَ
پاس
رَبِّهِمْ
اپنے رب کے
يَرْجِعُ
پھیریں گے
بَعْضُهُمْ
ان میں سے بعض
إِلَىٰ
طرف
بَعْضٍ
بعض کی
ٱلْقَوْلَ
بات کو
يَقُولُ
کہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ٱسْتُضْعِفُوا۟
جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے
لِلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ٱسْتَكْبَرُوا۟
جنہوں نے تکبر کیا
لَوْلَآ
اگر نہ
أَنتُمْ
ہوتے تم
لَكُنَّا
البتہ ہوتے ہم
مُؤْمِنِينَ
مومن

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے،

احمد علی Ahmed Ali

اور کافر کہتے ہیں ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے موجود ہے اورکاش آپ دیکھتے جب کہ ظالم اپنے رب کے حضور میں کھڑے کیے جائیں گے ایک ان میں سے دوسرے کی بات کو رد کر رہا ہوگا جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان دار ہوتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کافروں نے کہا ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! (١) اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ظالموں کو اس وقت دیکھتا جبکہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام لگا رہے ہونگے (٢) کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (٣) اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومنوں میں سے ہوتے (٤)۔

٣١۔١ جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔
٣١۔٢ یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے۔
٣١۔٣ یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔
٣١۔٤ یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں کے پیچھے چلنے سے روکا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقینا ایمان والے ہوتے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے نازل شدہ کتابوں پر (یا نہ اس پر جو اس کے آگے ہے یعنی قیامت اور اس کے عذاب پر)۔ (اے پیغمبر(ص)) کاش تم دیکھتے جب ظالم لوگ اپنے پروردگار کے حضور (سوال و جواب کیلئے) کھڑے کئے جائیں گے (اور) ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا چنانچہ وہ لوگ جو دنیا میں کمزور سمجھے جاتے تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کفاّر یہ کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے والی کتابوں پر تو کاش آپ دیکھتے جب ان ظالموں کو پروردگار کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور ہر ایک بات کو دوسرے کی طرف پلٹائے گا اور جن لوگوں کو کمزور سمجھ لیا گیا ہے وہ اونچے بن جانے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم درمیان میں نہ آگئے ہوتے تو ہم صاحب هایمان ہوگئے ہوتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس (وحی) پر جو اس سے پہلے اتر چکی، اور اگر آپ دیکھیں جب ظالم لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے (تو کیا منظر ہوگا) کہ ان میں سے ہر ایک (اپنی) بات پھیر کر دوسرے پر ڈال رہا ہوگا، کمزور لوگ متکبّروں سے کہیں گے: اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کافروں کی سرکشی۔
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی ؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی، تم خود شہوت پرست تھے، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو ؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے، پرانے دین کے نہ بدلنے، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا، ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برات بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آپڑے گا۔ (ابن ابی حاتم) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہوگا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہوجائیں۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ اللھم سلم اللھم سلم