Skip to main content

وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۙ

وَمَا
اور نہیں
يَسْتَوِى
برابر ہوسکتے
ٱلْأَعْمَىٰ
اندھا
وَٱلْبَصِيرُ
اور دیکھنے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور برابر نہیں اندھا اور انکھیارا

احمد علی Ahmed Ali

اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اندھا اور آنکھوں واﻻ برابر نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اندھے اور بینا برابر نہیں ہوسکتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ایک موازنہ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایمان دار اور بےایمان میں بھی بےانتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا ( اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ\012\02 ) 6 ۔ الانعام ;122) ، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کردیا اور اسے نور دیا جسے لئے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور آیت میں ہے ( مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 24؀ ) 11 ۔ ھود ;24) ، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔ یعنی جس طرح کوئی مرنے کے بعد قبر میں دفنا دیا جائے تو اسے پکارنا بےسود ہے۔ اسی طرح کفار ہیں کہ ہدایت و دعوت ان کے لئے بیکار ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر بدبختی چھاگئی ہے اور ان کی ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تو انہیں کسی طرح ہدایت پر نہیں لاسکتا تو صرف آگاہ کردینے والا ہے۔ تیرے ذمے صرف تبلیغ ہے۔ ہدایت و ضلالت من جانب اللہ ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک ہر امت میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتا رہا۔ تاکہ ان کا عذر باقی نہ رہ جائے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ۝ۧ) 13 ۔ الرعد ;7) اور جیسے فرمان ہے ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 36؀) 16 ۔ النحل ;36) ، وغیرہ، ان کا تجھے جھوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ہے۔ جو بڑے بڑے معجزات، کھلی کھلی دلیلیں، صاف صاف آیتیں لے کر آئے تھے اور نورانی صحیفے ان کے ہاتھوں میں تھے، آخر ان کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے انہیں عذاب و سزا میں گرفتار کرلیا۔ دیکھ لے کہ میرے انکار کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کس طرح تباہ و برباد ہوئے ؟ واللہ اعلم