وَلَوْ يُـؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَاۤ بَّةٍ وَّلٰـكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىۚ فَاِذَا جَاۤءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا
تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:
اگر کہیں وہ لوگوں کو اُن کے کیے کرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے پھر جب ان کا وقت آن پورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا
English Sahih:
And if Allah were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon it [i.e., the earth] any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allah has ever been, of His servants, Seeing.
ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi
اگر کہیں وہ لوگوں کو اُن کے کیے کرتوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مہلت دے رہا ہے پھر جب ان کا وقت آن پورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا
احمد رضا خان Ahmed Raza Khan
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں
احمد علی Ahmed Ali
اور اگر الله لوگوں سے ان کے اعمال پر گرفت کرتا تو سطح زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے پس جب ا نکا وقت مقرر آجائے گا تو بے شک الله اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے
أحسن البيان Ahsanul Bayan
اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا (۱) لیکن اللہ تعالٰی ان کو میعاد معین تک مہلت دے (۲) رہا ہے سو جب ان کی میعاد آپہنچے گی اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا۔ (۳)
٤۵۔۱ انسانوں کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جانوروں کو انسانوں کی نحوست کی وجہ سے یا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل زمین کو ہلاک کردیتا، انسانوں کو بھی اور جن جانوروں اور روزیوں کے وہ مالک ہیں ان کو بھی یا مطلب ہے کہ آسمان سے بارشوں کا سلسلہ منقطع فرمادیتا ہے جس سے زمین پر چلنے والے سب دابتہ مرجاتے ہیں۔
٤٥۔١ یہ میعاد معین دنیا میں بھی ہوسکتی ہے اور یوم قیامت تو ہے ہی۔
٤۵۔۳ یعنی اس دن ان کا محسابہ کرے گا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کا پورا بدلہ دے گا اہل ایمان واطاعت کو اجرو ثواب اور اہل کفر ومعصیت کو عتاب وعقاب۔ اس میں مومنوں کے لیے تسلی ہے اور کافروں کے لیے وعید۔
جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi
اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے، سو جب ان کی وه میعاد آپہنچے گی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا
محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi
اور اگر خدا لوگوں کا ان کے (برے) اعمال کی پاداش میں جلدی مواخذہ کرتا (پکڑتا) تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا لیکن ان کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے تو جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا (نگران) ہے۔
علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور اگراللہ تمام انسانوں سے ان کے اعمال کا مواخذہ کرلیتا تو روئے زمین پر ایک رینگنے والے کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مخصوص اور معین مدّت تک ڈھیل دیتا ہے اس کے بعد جب وہ وقت آجائے گا تو پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں خوب بصیرت رکھنے والا ہے
طاہر القادری Tahir ul Qadri
اور اگر اﷲ لوگوں کو اُن اعمالِ (بد) کے بدلے جو انہوں نے کما رکھے ہیں (عذاب کی) گرفت میں لینے لگے تو وہ اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑے لیکن وہ انہیں مقررہ مدّت تک مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو بیشک اﷲ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے،