Skip to main content

اَ لَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۗ وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَهُمْ
ان کے لیے
عَذَابٌ
عذاب ہے
شَدِيدٌۖ
سخت
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
لَهُم
ان کے لیے
مَّغْفِرَةٌ
بخشش ہے
وَأَجْرٌ
اجر ہے
كَبِيرٌ
بہت بڑا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو لوگ کفر کریں گے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو لوگ کفر کریں گے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کافروں کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

احمد علی Ahmed Ali

جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اورنیک عمل کیے انہیں کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر (١)۔

٧۔١ یہاں بھی اللہ تعالٰی نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ، عمل صالح بیان کر کے اس کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جو لوگ کافر ہوئے ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے بخشش ہے اور (بہت) بڑا اجر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کیلئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کافر لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا ثواب ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اوپر بیان گذرا تھا کہ شیطان کے تابعداروں کی جگہ جہنم ہے۔ اس لئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ کفار کے لئے سخت عذاب ہے۔ اس لئے کہ یہ شیطان کے تابع اور رحمان کے نافرمان ہیں۔ مومنوں سے جو گناہ بھی ہوجائیں بہت ممکن ہے کہ اللہ انہیں معاف فرما دے اور جو نیکیاں ان کی ہیں ان پر انہیں بڑا بھاری اجر وثواب ملے گا، کافر اور بدکار لوگ اپنی بد اعمالیوں کو نیکیاں سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے گمراہ لوگوں پر تیرا کیا بس ہے ؟ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے۔ پس تجھے ان پر غمگین نہ ہونا چاہئے۔ مقدرات اللہ جاری ہوچکے ہیں۔ مصلحت مالک الملوک کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہدایت و ضلالت میں بھی اس کی حکمت ہے کوئی کام اس سچے حکیم کا حکمت سے خالی نہیں۔ لوگوں کے تمام افعال اس پر واضح ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس پر وہ نور پڑگیا وہ دنیا میں آ کر سیدھی راہ چلا اور جسے اس دن وہ نور نہ ملا وہ دنیا میں آ کر بھی ہدایت سے بہرہ ورہ نہ ہوسکا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل کر خشک ہوگیا۔ (ابن ابی حاتم) اور روایت میں ہے کہ ہمارے پاس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور فرمایا اللہ کے لئے ہر تعریف ہے جو گمراہی سے ہدایت پر لاتا ہے اور جس پر چاہتا ہے گمراہی خلط ملط کردیتا ہے یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔