Skip to main content

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ اِذْ جَاۤءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ

وَٱضْرِبْ
اور بیان کرو
لَهُم
ان کے لیے
مَّثَلًا
ایک مثال
أَصْحَٰبَ
والوں کی
ٱلْقَرْيَةِ
بستی (والوں کی)
إِذْ
جب
جَآءَهَا
آئے ان کے پاس
ٱلْمُرْسَلُونَ
بھیجے ہوئے (پیغمبر)

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے،

احمد علی Ahmed Ali

اور ان سے بستی والوں کا حال مشال کے طور پر بیان کر جب کہ ان کے پاس رسول آئے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے (١)

١٣۔١ تاکہ اہل مکہ یہ سمجھ لیں کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں، بلکہ رسالت و نبوت کا یہ سلسلہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجیئے جب کہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (ان کو سمجھانے کیلئے) بطورِ مثال ایک خاص بستی کا قصہ سنائیں جب ان کے پاس (ہمارے) پیغام رساں آئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور پیغمبر آپ ان سے بطور مثال اس قریہ والوں کا تذکرہ کریں جن کے پاس ہمارے رسول آئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور آپ اُن کے لئے ایک بستی (انطاکیہ) کے باشندوں کی مثال (حکایۃً) بیان کریں، جب اُن کے پاس کچھ پیغمبر آئے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ایک قصہ پارینہ۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پر جابت پرست تھے۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے۔ صادق، صدوق اور شلوم۔ اللہ کے درود وسلام ان پر نازل ہوں۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی آئے، پہلے دو رسولوں کا نام شمعون اور یوحنا تھا اور تیسرے رسول کا نام بولص تھا۔ ان سب نے کہا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس نے ہماری معرفت تمہیں حکم بھیجا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ حضرت قتادہ بن و عامہ کا خیال ہے کہ یہ تینوں بزرگ جناب مسیح (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے تھے، بستی کے ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو پھر کیا وجہ ؟ کہ تمہاری طرف اللہ کی وحی آئے اور ہماری طرف نہ آئے ؟ ہاں اگر تم رسول ہوتے تو چاہئے تھا کہ تم فرشتے ہوتے۔ اکثر کفار نے یہی شبہ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کے سامنے پیش کیا تھا۔ جیسے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ( ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا ۡ فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ ۝) 64 ۔ التغابن ;6) یعنی لوگوں کے پاس رسول آئے اور انہوں نے جواب دیا کہ کیا انسان ہمارے ہادی بن کر آگئے ؟ اور آیت میں ہے الخ، یعنی تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو تم صرف یہ چاہتے ہو کہ ہمیں اپنے باپ دادوں کے معبودوں سے روک دو ۔ جاؤ کوئی کھلا غلبہ لے کر آؤ۔ اور جگہ قرآن پاک میں ہے یعنی کافروں نے کہا کہ اگر تم نے اپنے جیسے انسانوں کی تابعداری کی تو یقیناً تم بڑے ہی گھاٹے میں پڑگئے۔ اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ آیت ( وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا 94؀) 17 ۔ الإسراء ;94) میں اس کا بیان ہے۔ یہی ان لوگوں نے بھی ان تینوں نبیوں سے کہا کہ تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو اور حقیقت میں اللہ نے تو کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم یونہی غلط ملط کہہ رہے ہو، پیغمبروں نے جواب دیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ ہم اس کے سچے رسول ہیں۔ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ پر جھوٹ باندھنے کی سزا ہمیں اللہ تعالیٰ دے دیتا لیکن تم دیکھو گے کہ وہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں عزت عطا فرمائے گا۔ اس وقت تمہیں خود روشن ہوجائے گا کہ کون شخص بہ اعتبار انجام کے اچھا رہا ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے ( قُلْ كَفٰي باللّٰهِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَهِيْدًا ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا باللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 52؀) 29 ۔ العنکبوت ;52) ، میرے تمہارے درمیان اللہ کی شہادت کافی ہے۔ وہ تو آسمان و زمین کے غیب جانتا ہے۔ باطل پر ایمان رکھنے والے اور اللہ سے کفر کرنے والے ہی نقصان یافتہ ہیں، سنو ہمارے ذمے تو صرف تبلیغ ہے مانو گے تمہارا بھلا ہے نہ مانو گے تو پچھتاؤ گے ہمارا کچھ نہیں بگاڑو گے کل اپنے کئے کا خمیازہ بھگتو گے۔