Skip to main content

فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ

فَقَالَ
تو کہا
إِنِّى
بیشک میں
سَقِيمٌ
بیمار ہوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کہا میری طبیعت خراب ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کہا میری طبیعت خراب ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں

احمد علی Ahmed Ali

پھر کہا بے شک میں بیمار ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کہا میں بیمار ہوں (١)۔

٨٩۔١ آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چنانچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لےآؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک ابراہیم علیہ السلام کے دل کا ایک مستقل روگ تھا جسے دیکھ وہ کڑتے رہتے تھے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورہ انبیاء۔ ٦٣ میں گزر چکی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہا میں تو بیمار ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کہا میں تو بیمار ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کہا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کہا کہ میں بیمار ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کہا: میری طبیعت مُضمحِل ہے (تمہارے ساتھ میلے پر نہیں جاسکتا)،