Skip to main content

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَاۤءَ ۗ قُلْ اَوَلَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔـا وَّلَا يَعْقِلُوْنَ

أَمِ
یا
ٱتَّخَذُوا۟
انہوں نے بنا رکھے ہیں
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
شُفَعَآءَۚ
کچھ سفارشی
قُلْ
کہہ دیجیے
أَوَلَوْ
بھلا اگر
كَانُوا۟
ہوں وہ
لَا
نہ
يَمْلِكُونَ
ملکیت رکھتے
شَيْـًٔا
کسی چیز کی
وَلَا
اور نہ
يَعْقِلُونَ
وہ عقل رکھتے ہوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں،

احمد علی Ahmed Ali

کیا انہوں نے الله کےسوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں کہہ دوکیا اگرچہ وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجئے! کہ گو وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں (١)

٤٣۔١ یعنی شفاعت کا اختیار تو کجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں۔ یا بےخبر ہیں

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنالئے ہیں۔ کہو کہ خواہ وہ کسی چیز کا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ (کچھ) سمجھتے ہی ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شفیع (سفارشی) بنا رکھا ہے آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگرچہ وہ (سفارشی) نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی عقل و شعور رکھتے ہوں؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سفارش کرنے والے اختیار کرلئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ایسا کیوں ہے چاہے یہ لوگ کوئی اختیار نہ رکھتے ہوں اور کسی طرح کی بھی عقل نہ رکھتے ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا انہوں نے اللہ کے اِذن کے خلاف (بتوں کو) سفارشی بنا رکھا ہے؟ فرما دیجئے: اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک بھی نہ ہوں اور ذی عقل بھی نہ ہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مشرکین کی مذمت۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں۔ اس لئے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو ، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کرلے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے، قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہوجاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر وتکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے یعنی ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے۔ چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لئے باطل کو بہت جلد قبول کرلیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔