Skip to main content

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۗ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا ۚ

وَرُسُلًا
اور کئی رسول ہیں
قَدْ
تحقیق
قَصَصْنَٰهُمْ
ذکر کیا ہم نے ان کا
عَلَيْكَ
آپ پر
مِن
سے
قَبْلُ
اس سے پہلے
وَرُسُلًا
اور کئی رسول ہیں
لَّمْ
نہیں
نَقْصُصْهُمْ
ذکر کیا ہم نے ان کا
عَلَيْكَۚ
آپ پر
وَكَلَّمَ
اور کلام کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
مُوسَىٰ
موسیٰ سے
تَكْلِيمًا
کلام کرنا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے فرماچکے اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا

احمد علی Ahmed Ali

اور ایسے رسول بھیجے جن کا حال اس سے پہلےہم تمہیں سنا چکیں ہیں اور ایسے رسول جن کا ہم نے تم سے بیان نہیں کیا اور الله نے موسیٰ سے خاص طور پر کلام فرمایا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں (١) اور بہت کے رسولوں کے نہیں بھی کئے (٢) اور موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالٰی نے صاف طور پر کلام کیا (٣)

١٦٤۔١ جن نبیوں اور رسولوں کے اسمائے گرامی اور ان کے واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد ٢٤ یا ٢٥ ہے (١) آدم (٢) ادریس (٣) نوح (٤) ہود (٥) صالح (٦) ابراہیم (٧) لوط (٨) اسماعیل (٩) اسحاق (١٠) یعقوب (١١) یوسف (١٢) ایوب (١٣) شعیب (١٤) موسیٰ (١٥) ہارون (١٦) یونس (١٧) داؤد (١٨) سلیمان (١٩) الیاس (٢٠) الیسع (٢١) زکریا (٢٢) یحیٰ (٢٣) عیسیٰ (٢٤) ذوالکفل۔ (اکثر مفسرین کے نزدیک (٢٥) حضرت محمد صلوٰت اللہ و سلامہ وعلیہم اجمعین۔
١٦٤۔٢ جن انبیاء رسل کے نام اور واقعات قرآن میں بیان نہیں کئے گئے، ان کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں جو بہت مشہور ہے ایک لاکھ ٢٤ ہزار اور ایک حدیث میں ٨ ہزار تعداد بتلائی گئی ہے۔ قرآن وحدیث سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار وحالات میں مبشرین ومنذرین انبیاء آتے رہے ہیں۔ بالآخر یہ سلسلہ نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا گیا آپ سے پہلے کتنے نبی آئے؟ ان کی صحیح تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے بھی دعویداران نبوت ہو کر گزرے یا ہوں گے، سب کے سب دجال اور کذاب ہیں اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور امت محمدیہ سے الگ ایک متوازی امت ہیں۔ جیسے امت بابیہ، بہائیہ اور امت مرزائیہ وغیرہ اسی طرح مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننے والے لاہوری مرزائی بھی۔
١٦٤۔٣ یہ موسیٰ علیہ السلام کی خاص صفت ہے جس میں وہ دوسرے انبیاء سے ممتاز ہیں۔ صحیح ابن حبان کی ایک روایت کی روح سے امام ابن کثیر نے اس صفت ہم کلامی میں حضرت آدم علیہ السلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک مانا ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ) 3۔ آل عمران;253)۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کچھ پیغمبر وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے پہلے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان نہیں کئے اور اللہ نے موسیٰ سے اس طرح کلام کیا جیساکہ کلام کرنے کا حق ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کچھ رسول ہیں جن کے قصے ّہم آپ سے بیان کرچکے ہیں اور کچھ رسول ہیں جن کا تذکرہ ہم نے نہیں کیا ہے اور اللہ نے موسٰی علیھ السّلام سے باقاعدہ گفتگو کی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (ہم نے کئی) ایسے رسول (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم (اس سے) پہلے آپ کو سنا چکے ہیں اور (کئی) ایسے رسول بھی (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم نے (ابھی تک) آپ کو نہیں سنائے اور اﷲ نے موسٰی (علیہ السلام) سے (بلاواسطہ) گفتگو (بھی) فرمائی،