Skip to main content

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِـيُـطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۗ وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَاۤءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَـهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا

وَمَآ
اور نہیں
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
مِن
کوئی
رَّسُولٍ
رسول
إِلَّا
مگر
لِيُطَاعَ
تاکہ اطاعت کیا جائے
بِإِذْنِ
اذن کے ساتھ
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَلَوْ
اور اگر
أَنَّهُمْ
بیشک وہ۔ واقعی وہ
إِذ
جب
ظَّلَمُوٓا۟
جب انہوں نے ظلم کیا
أَنفُسَهُمْ
اپنے نفسوں پر
جَآءُوكَ
آجاتے تیرے پاس
فَٱسْتَغْفَرُوا۟
پھر بخشش مانگتے
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَٱسْتَغْفَرَ
اور بخشش مانگتا
لَهُمُ
ان کے لیے
ٱلرَّسُولُ
رسول
لَوَجَدُوا۟
البتہ پائے
ٱللَّهَ
اللہ کو
تَوَّابًا
تو بہ قبول کرنے والا
رَّحِيمًا
مہربان

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں

احمد علی Ahmed Ali

اورہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ الله کے حکم سے اس کی تابعداری کی جائے اور جب انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تیرے پاس آتے پھر الله سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کی معافی کی درخواست کرتا تو یقیناًیہ الله کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہم نے ہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس لئے بھیجا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالٰی سے استغفار کرتے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لئے استغفار کرتے (١) تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالٰی کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔

٦٤۔١ مغفرت کے لئے بارگاہ الٰہی میں ہی توبہ استغفار ضروری اور کافی ہے۔ لیکن یہاں ان کو کہا گیا اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! وہ تیرے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور تو بھی ان کے لئے مغفرت کرتا۔ یہ اس لئے کہ چونکہ انہوں نے فصل خصومات (جھگڑوں کے فیصلے) کے لئے دوسروں کی طرف رجوع کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استخفاف کیا تھا۔ اس لئے اس کے ازالے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی تاکید کی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے، تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے واﻻ مہربان پاتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے کاش جب یہ لوگ (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے اگر آپ کے پاس آجاتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے تو یقینا اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان پاتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا ہے مگر صرف اس لئے کہ حکِم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے، اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ضامن نجات ہے
مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتی ہے منصب رسالت یہی ہے کہ اس کے سبھی احکامات کو اللہ کے احکام سمجھا جائے، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں باذن اللہ سے یہ مراد ہے کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ حَتّٰى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ) 3 ۔ آل عمران ;152) یہاں بھی اذن سے مراد امر قدرت اور مشیت ہے یعنی اس نے تمہیں ان پر غلبہ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ عاصی اور خطاکاروں کو ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیے اور خود رسول سے بھی عرض کرنا چاہیے کہ آپ ہمارے لئے دعائیں کیجئے جب وہ ایسا کریں گے تو یقینا اللہ ان کی طرف رجوع کرے گا انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے لکھے ہیں لکھا ہے کہ عتبی کا بیان ہے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا اسلام علیکم یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے یہ اشعار پڑھی
باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ
فطاب من طیبھن القاع والا کم
نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ
فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم
جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئی ہیں اور ان کی خوشبو سے وہ میدان ٹیلے مہک اٹھے ہیں اے ان تمام میں سے بہترین ہستی، میری جان اس قبر پر سے صدقے ہو جس کا ساکن تو ہے جس میں پارسائی سخاوت اور کرم ہے، پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آگئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے فرما رہے ہیں جا اس اعرابی کو خوش خبری سنا اللہ نے اس کے گناہ معاف فرما دئیے ( یہ خیال رہے کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے، بلکہ آیت کا یہ حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ہی تھا وصال کے بعد نہیں جیسے کہ جاءوک کا لفظ بتلا رہا ہے اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے ساتھ منقطع ہوجاتا ہے واللہ اعلم۔ مترجم) پھر اللہ تعالیٰ اپنی بزرگ اور مقدس ذات کی قسم کھا کر فرماتے ہے کہ کوئی شخص ایمان کی حدود میں نہیں آسکتا جب تک کہ تمام امور میں اللہ کے اس آخر الزمان افضل تر رسول کو اپنا سچا حاکم نہ مان لے اور آپ کے ہر حکم ہر فیصلے ہر سنت اور ہر حدیث کو قابل قبول اور حق صریح تسلیم نہ کرنے لگے، دل کو اور جسم کو یکسر تابع رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ بنا دے۔ غرض جو بھی ظاہر و باطن چھوٹے بڑے کل امور میں حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اصل اصول سمجھے وہی مومن ہے۔ پس فرمان ہے کہ تیرے احکام کو یہ کشادہ دلی سے تسلیم کرلیا کریں اپنے دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے ماننے سے رکیں نہ انہیں بےاثر کرنے کے اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے تسلیم کرنے میں جھگڑیں جیسے فرمان رسول ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے جسے میں لایا ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت زبیر (رض) کا کسی شخص سے نالیوں سے باغ میں پانی لینے کے بارے میں جھگڑا ہو پڑا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زبیر (رض) تم پانی پلا لو اس کے بعد پانی کو انصاری کے باغ میں جانے دو اس پر انصاری نے کہا ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تو آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہوسکتا ہے اور فرمایا زبیر تم پانی پلا لو پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو پہلے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں حضرت زبیر (رض) کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہوجائے لیکن جب انصاری نے اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے حضرت زبیر (رض) کو ان کا پورا حق دلوایا حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا) 4 ۔ النسآء ;65) اسی بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ یہ انصاری (رض) بدری تھے اور روایت میں ہے دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے پہلے حضرت زبیر (رض) کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے تھے کہ پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ دونوں دعویدار حضرت زبیر (رض) اور حضرت حاطب بن ابو بلتہ (رض) تھے آپ کا فیصلہ ان میں یہ ہوا کہ پہلے اونچے والا پانی پلا لے پھر نیچے والا۔ دوسری ایک زیادہ غریب روایت میں شان نزول یہ مروی ہے کہ دو شخص اپنا جھگڑا لے کر دربار محمد میں آئے آپ نے فیصلہ کردیا لیکن جس کے خلاف فیصلہ تھا اس نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں حضرت عمر (رض) کے پاس بھیج دیجئے آپ نے فرمایا بہت اچھا ان کے پاس چلے جاؤ جب یہاں آئے تو جس کے موافق فیصلہ ہوا تھا اس نے ساراہی واقعہ کہہ سنایا حضرت عمر (رض) نے اس دوسرے سے پوچھا کیا یہ سچ ہے ؟ اس نے اقرار کیا آپ نے فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کردیتا ہوں تھوڑی دیر میں تلوار تانے آگئے اور اس شخص کی جس نے کہا تھا کہ حضرت ہمیں عمر (رض) کے پاس بھیج دیجئے گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے ہی دوڑا بھاگا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اور کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی، آپ نے فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے گا اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) کو بری کردیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے بعد بھی جاری نہ ہوجائے اس لئے اس کے بعد ہی یہ آیت اتری (وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْھُمْ ) 4 ۔ النسآء ;66) جو آگے آتی ہے ( ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے جو غریب اور مرسل ہے اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے واللہ اعلم۔ دوسری سند سے مروی ہے دو شخص رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنا جھگڑا لائے آپ نے حق والے کے حق میں ڈگری دے دی لیکن جس کے خلاف ہوا تھا اس نے کہا میں راضی نہیں ہوں آپ نے پوچھا تو کیا چاہتا ہے ؟ کہا یہ کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس چلیں دونوں وہاں پہنچے جب یہ واقعہ جناب صدیق (رض) نے سنا تو فرمایا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا وہ اب بھی خوش نہ ہوا اور کہا حضرت عمر (رض) کے پاس چلو وہاں گئے پھر وہ ہوا جو آپ نے اوپر پڑھا ( تفسیر حافظ ابو اسحاق)