Skip to main content

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

فَلَا
پس نہیں
وَرَبِّكَ
قسم ہے تیرے رب کی
لَا
نہیں
يُؤْمِنُونَ
مومن ہوسکتے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يُحَكِّمُوكَ
وہ منصف بنائیں تجھ کو
فِيمَا
اس معاملہ میں جو
شَجَرَ
اختلاف ہوا
بَيْنَهُمْ
ان کے درمیان
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
يَجِدُوا۟
وہ پائیں
فِىٓ
میں
أَنفُسِهِمْ
اپنے نفسوں میں
حَرَجًا
کوئی تنگی
مِّمَّا
اس میں سے جو
قَضَيْتَ
آپ نے فیصلہ کیا
وَيُسَلِّمُوا۟
اور وہ مان لیں
تَسْلِيمًا
پوری طرح مان جانا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں

احمد علی Ahmed Ali

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ۔

٦٥۔١ اس آیت کا شان نزول ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جو بارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسلمان کا سر قلم کر دیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی، صحیح واقعہ یہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا آپ نے صورت حال کاجائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر رضی اللہ کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یہ آیت منکریں حدیث کے لئے لمحہ فکریہ ہے

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

نہیں۔ آپ کے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے۔ جب تک اپنے تمام باہمی جھگڑوں میں آپ کو حَکَم نہ مانیں۔ اور پھر آپ جو فیصلہ کریں (زبان سے اعتراض کرنا تو کجا) اپنے دلوں میں بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس طرح تسلیم کریں جس طرح تسلیم کرنے کا حق ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحبِ ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حکُم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں،