Skip to main content

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلَا فِى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ

لَا
نہیں
جَرَمَ
کوئی شک
أَنَّمَا
بیشک
تَدْعُونَنِىٓ
تم بلاتے ہو مجھ کو
إِلَيْهِ
جس کی طرف
لَيْسَ
نہیں ہے
لَهُۥ
اس کے لیے
دَعْوَةٌ
کوئی دعوت۔ پکار
فِى
میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا
وَلَا
اور نہ
فِى
میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت میں
وَأَنَّ
اور بیشک
مَرَدَّنَآ
پلٹنا ہمارا
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی (طرف ہے)
وَأَنَّ
اور بیشک
ٱلْمُسْرِفِينَ
حد سے بڑھنے والے
هُمْ
وہ
أَصْحَٰبُ
ساتھی ہیں
ٱلنَّارِ
آگ کے (ساتھی ہیں) آگ والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے نہ آخرت میں، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے نہ آخرت میں، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

بے شک تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہو وہ نہ دنیا میں بلانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور بےشک ہمیں الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور بے شک حد سے بڑھنے والے ہی دوزخی ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ یقینی امر ہے (١) کہ مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے (۲) نہ آخرت میں (۳) اور یہ بھی (یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے (٤) اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں۔ (۵)

٤٣۔١ لاجرَمَ یہ بات یقینی ہے، یا اس میں جھوٹ نہیں ہے۔
٤٣ ۔٢ یعنی وہ کسی کی پکار سننے کی استعداد ہی نہیں رکھتے کہ کسی کو نفع پہنچا سکیں یا الوہیت کا استحقاق انہیں حاصل ہو اس کا تقربیا وہی مفہوم ہے جو اس آیت اور اس جیسی دیگر متعدد آیات میں بیان کیا گیا ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الاحقاف;5) (اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ ۚ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ) 35۔فاطر;14) اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن لیں تو قبول نہیں کر سکتے۔
٤٣۔۳ یعنی آخرت میں ہی وہ پکار سن کر کسی کو عذاب سے چھڑانے پر یا شفاعت ہی کرنے پر قادر ہوں؟ یہ بھی ممکن نہیں ہے ایسی چیزیں بھلا اس لائق ہو سکتی ہیں کہ وہ معبود بنیں اور ان کی عبادت کی جائے؟
٤٣۔٤ جہاں ہر ایک کا حساب ہوگا اور عمل کے مطابق اچھی یا بری جزا دی جائے گی۔
٤٣۔۵ یعنی کافر و مشرک جو اللہ کی نافرمانی میں ہر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں اس طرح جو بہت زیادہ گناہ گار مسلمان ہوں گے جن کی نافرمانیاں اسراف کی حد تک پہنچی ہوئی ہوں گی انہیں بھی کچھ عرصہ جہنم کی سزا بھگتنی ہوگی تاہم بعد میں شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ کی مشیت سے ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یقیناً تم مجھے ایسی چیز کی دعوت دیتے ہو جو نہ دنیا میں کارآمد ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف سے اور جو حد سے بڑھنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو وہ نہ دنیا میں پکارنے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت بالآخر اللہ ہی کی طرف ہے اور زیادتی کرنے والے ہی دراصل جہّنم والے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں،