Skip to main content

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّأْتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ فَاِذَا جَاۤءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجے ہم نے
رُسُلًا
کئی رسول
مِّن
سے
قَبْلِكَ
آپ سے پہلے
مِنْهُم
ان میں سے بعض ایسے ہیں
مَّن
جن کو
قَصَصْنَا
بیان کیا ہم نے
عَلَيْكَ
آپ پر
وَمِنْهُم
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں
مَّن
جن کو
لَّمْ
نہیں
نَقْصُصْ
ہم نے بیان کیا
عَلَيْكَۗ
آپ پر
وَمَا
اور نہ
كَانَ
تھا
لِرَسُولٍ
(اختیار) کسی رسول کے لیے
أَن
کہ
يَأْتِىَ
لے آتا
بِـَٔايَةٍ
کوئی نشانی
إِلَّا
مگر
بِإِذْنِ
ساتھ اذن سے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آگیا
أَمْرُ
حکم
ٱللَّهِ
اللہ کا
قُضِىَ
فیصلہ کردیا گیا
بِٱلْحَقِّ
ساتھ حق کے
وَخَسِرَ
اور خسارے میں پڑگئے
هُنَالِكَ
وہاں
ٱلْمُبْطِلُونَ
غلط کار

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،

احمد علی Ahmed Ali

اورہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے تھے بعض ان میں سے وہ ہیں جن کا حال ہم نے آپ پر بیان کر دیا اور بعض وہ ہیں کہ ہم نے آپ پر انکا حال بیان نہیں کیا اور کسی رسول سے یہ نہ ہو سکا کہ کوئی معجزہ اذنِ الہیٰ کے سوا ظاہر کر سکے پھر جس وقت الله کا حکم آئے گا ٹھیک فیصلہ ہو جائے گا اوراس وقت باطل پرست نقصان اٹھائیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کئے (١) اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لا سکے (۲) پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا (۳) حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا (٤) اور اس جگہ اہل باطن خسارے میں رہ جائیں گے۔

٧٨۔١ اور یہ تعداد میں، بہ نسبت ان کے جن کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے کہ قرآن کریم میں تو صرف ٢٥، انبیاء و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کئے ہیں۔
٧٨۔٢ آیت سے مراد یہاں معجزہ اور خرق عادت واقعہ ہے جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے کفار پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ جیسے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل سورہ بنی اسرائیل میں موجود ہے اللہ تعالٰی فرما رہا ہے کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزہ صادر کر کے دکھلادے یہ صرف ہمارے اختیار میں تھا بعض نبیوں کو تو ابتدا ہی سے معجزے دے دیے گئے تھے بعض قوموں کو ان کے مطالبے پر معجزہ دکھلایا گیا اور بعض کو مطالبے کے باوجود نہیں دکھلایا گیا ہماری مشیت کے مطابق اس کا فیصلہ ہوتا تھا کسی نبی کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ جب چاہتا معجزہ صادر کر کے دکھلا دیتا اس سے ان لوگوں کی واضح تردید ہوتی ہے جو بعض اولیاء کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے ہیں کہ وہ جب چاہتے اور جس طرح کا چاہتے خرق عادت امور کا اظہار کردیتے تھے جیسے شیخ عبد القادر جیلانی کے لیے بیان کیا جاتا ہے یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں ہیں جب اللہ نے پیغمبروں کو یہ اختیار نہیں دیا جن کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے اس کی ضرورت بھی تھی تو کسی ولی کو یہ اختیار کیوں کر مل سکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ ولی کو اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ نبی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اس لیے معجزہ ان کی ضرورت تھی لیکن اللہ کی حکمت ومشیت اس کی متقصضی نہ تھی اس لیے یہ قوت کسی نبی کو نہیں دی گئی ولی کی ولایت پر ایمان رکھنا ضروری نہیں ہے اس لیے انہیں معجزے اور کرامات کی ضرورت ہی نہیں ہے انہیں اللہ تعالٰی یہ اختیار بلا ضرورت کیوں عطا کر سکتا ہے؟
‏٧٨۔۳ یعنی دنیا یا آخرت میں جب ان کے عذاب کا وقت معین آجائے گا۔ ٧٨۔٤ یعنی ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اہل حق کو نجات اور اہل باطل کو عذاب۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہم نے آپ(ص) سے پہلے بہت سے رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات آپ سے بیان کر دیئے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کے حالات آپ سے بیان نہیں کئے اور کسی رسول کیلئے یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ کے اذن (حکم) کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے اور جب اللہ کا حکم آجائے گا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس وقت باطل والے خسارے میں رہیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے اور کسی رسول کے امکان میں یہ بات نہیں ہے کہ خدا کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے پھر جب حکم خدا آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت اہل باطل ہی خسارہ میں رہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اﷲ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اﷲ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہے،