Skip to main content

ثُمَّ اسْتَـوٰۤى اِلَى السَّمَاۤءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا ۗ قَالَتَاۤ اَتَيْنَا طَاۤٮِٕعِيْنَ

ثُمَّ
پھر
ٱسْتَوَىٰٓ
متوجہ ہوا
إِلَى
طرف
ٱلسَّمَآءِ
آسمان کی
وَهِىَ
اور وہ
دُخَانٌ
دھواں تھا
فَقَالَ
تو اس نے کہا
لَهَا
اس سے
وَلِلْأَرْضِ
اور زمین سے
ٱئْتِيَا
دونوں آجاؤ
طَوْعًا
خوشی سے
أَوْ
یا
كَرْهًا
ناخوشی سے۔ مجبوری سے
قَالَتَآ
دونوں نے کہا
أَتَيْنَا
ہم آگئے
طَآئِعِينَ
فرمانبرداروں کی طرح

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا "وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو" دونوں نے کہا "ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا "وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو" دونوں نے کہا "ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے،

احمد علی Ahmed Ali

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھؤاں تھا پس اس کو اور زمین کو فرمایا کہ خوشی سے آؤ یا جبر سے دونوں نے کہا ہم خوشی سے آئے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر آسمانوں کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے (١) دونوں نے عرض کیا بخوشی حاضر ہیں۔

١١۔١ یہ آنا کس طرح تھا؟ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ دونوں اللہ کے پاس آئے جس طرح اس نے چاہا، بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کی اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضر ہیں، چنانچہ اللہ نے آسمانوں کو حکم دیا، سورج،چاند ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کر دے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یہ مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آ جاؤ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھوئیں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا کہ تم خوشی سے آؤ یا نخوشی سے تو دونوں نے کہا ہم خوشی خوشی آتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس کے بعد اس نے آسمان کا رخ کیا جو بالکل دھواں تھا اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بہ کراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں،