Skip to main content

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ

هَلْ
نہیں
يَنظُرُونَ
وہ انتظار کرتے
إِلَّا
مگر
ٱلسَّاعَةَ
قیامت کا
أَن
کہ
تَأْتِيَهُم
آجائے ان کے پاس
بَغْتَةً
اچانک
وَهُمْ
اور وہ
لَا
نہ
يَشْعُرُونَ
شعور رکھتے ہوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،

احمد علی Ahmed Ali

کیا وہ قیامت کے ہی منتظر ہیں کہ ان پر یکایک آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک قیامت آجائے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہوسکے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہ لوگ کیا انتظار کر رہے ہیں (بس یہی) کہ قیامت اُن پر اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جنت میں جنت کے حقدار
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔