Skip to main content

وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـِٕدَةً ۖ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَلَاۤ اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَىْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْحَدُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
مَكَّنَّٰهُمْ
بسایا ہم نے ان کو
فِيمَآ
اس میں جو
إِن
نہیں
مَّكَّنَّٰكُمْ
بسایا ہم نے تم کو
فِيهِ
اس میں
وَجَعَلْنَا
اور بنائے ہم نے
لَهُمْ
ان کے لیے
سَمْعًا
کان
وَأَبْصَٰرًا
اور آنکھیں
وَأَفْـِٔدَةً
اور دل
فَمَآ
تو نہ
أَغْنَىٰ
کام آئے
عَنْهُمْ
ان کو
سَمْعُهُمْ
ان کے کان
وَلَآ
اور نہ
أَبْصَٰرُهُمْ
ان کی نگاہیں۔ آنکھیں
وَلَآ
اور نہ
أَفْـِٔدَتُهُم
ان کے دل
مِّن
کچھ
شَىْءٍ
بھی
إِذْ
جب
كَانُوا۟
تھے وہ
يَجْحَدُونَ
وہ انکار کرتے
بِـَٔايَٰتِ
آیات کا
ٱللَّهِ
اللہ کی
وَحَاقَ
اور گھیر لیا
بِهِم
ان کو
مَّا
جو
كَانُوا۟
تھے وہ
بِهِۦ
ساتھ اس کے
يَسْتَهْزِءُونَ
وہ مذاق اڑاتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی کہ تمہیں ان باتوں میں قدرت نہیں دی اور ہم نے انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے پھر نہ تو ان کے کان ہی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں ہی کام آئیں او رنہ ان کے دل ہی کچھ کام آئے کیوں کہ وہ الله کی آیتوں کو انکار ہی کرتے رہے اور جس عذاب کا وہ ٹھٹھا اڑیا کرتے تھے ان پر آن پڑا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وہ مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا (۱) جبکہ اللہ تعالٰی کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی (۲)۔

۲ ٦ ۔۱ یہ اہل مکہ کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو تم سے پہلی قومیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا قوت وشوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں آنکھ کان اور دل کو حق کے سننے دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آ سکیں ۔
٢٦۔ یعنی جس عذاب کو وہ انہونا سمجھ کر بطور مذاق کہا کرتے تھے کہ لے آ اپنا عذاب! جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے، وہ عذاب آیا اور اس نے انہیں ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور بالیقین ہم نے (قوم عاد) کو وه مقدور دیئے تھے جو تمہیں تو دیئے بھی نہیں اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل بھی دے رکھے تھے۔ لیکن ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ بھی نفع نہ پہنچایا جبکہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنے لگے اور جس چیز کا وه مذاق اڑایا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہم نے ان لوگوں کو ان کاموں کی قدرت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے مگر ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا کیونکہ وہ آیاتِ الہیہ کا انکار کیا کرتے تھے اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یقینا ہم نے ان کو وہ اختیارات دیئے تھے جو تم کو نہیں دیئے ہیں اور ان کے لئے کان, آنکھ, دل سب قرار دیئے تھے لیکن نہ انہیں کانوں نے کوئی فائدہ پہنچایا اور نہ آنکھوں اور دلوں نے کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرنے والے افراد تھے اور انہیں عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے اہلِ مکہّ!) درحقیقت ہم نے ان کو ان امور میں طاقت و قدرت دے رکھی تھی جن میں ہم نے تم کو قدرت نہیں دی اور ہم نے انہیں سماعت اور بصارت اور دل و دماغ (کی بے بہا صلاحیتوں) سے نوازا تھا مگر نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ (ہی) ان کے دل و دماغ جبکہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے اور (بالآخر) اس (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی
ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضرموت کے علاقہ میں ہے یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لئے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کردیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الہٰی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی ؟ ہرگز نہیں بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہوگئے ان سے بھاگ گئے ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے، واللہ اعلم۔