Skip to main content

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرٰٮهُۗ قُلْ اِنِ افْتَـرَيْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِىْ مِنَ اللّٰهِ شَيـــًٔا ۗ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيْضُوْنَ فِيْهِۗ كَفٰى بِهٖ شَهِيْدًاۢ بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ ۗ وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ

Or
أَمْ
یا
they say
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
"He has invented it"
ٱفْتَرَىٰهُۖ
کہ اس نے گھڑ لیا ہے اس کو
Say
قُلْ
کہہ دیجیے
"If
إِنِ
اگر
I have invented it
ٱفْتَرَيْتُهُۥ
میں نے گھڑ لیا ہے اس کو
then not
فَلَا
تو نہیں
you have power
تَمْلِكُونَ
تم مالک ہوسکتے
for me
لِى
میرے لیے
against
مِنَ
سے
Allah
ٱللَّهِ
اللہ کے مقابلے میں
anything
شَيْـًٔاۖ
کسی چیز کے
He
هُوَ
وہ
knows best
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
of what
بِمَا
ساتھ اس کے جو
you utter
تُفِيضُونَ
تم پڑحتے ہو۔ تم شروع کرتے ہو۔ تم گھستے ہو۔ تم پلٹتے ہو
concerning it
فِيهِۖ
اس میں
Sufficient is He
كَفَىٰ
کافی
Sufficient is He
بِهِۦ
ساتھ اس کے
(as) a Witness
شَهِيدًۢا
گواہ ہونا
between me
بَيْنِى
میرے درمیان
and between you
وَبَيْنَكُمْۖ
اور تمہارے درمیان
and He
وَهُوَ
اور وہ
(is) the Oft-Forgiving
ٱلْغَفُورُ
غفور
the Most Merciful
ٱلرَّحِيمُ
رحیم ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، "اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"

English Sahih:

Or do they say, "He has invented it"? Say, "If I have invented it, you will not possess for me [the power of protection] from Allah at all. He is most knowing of that in which you are involved. Sufficient is He as Witness between me and you, and He is the Forgiving, the Merciful."

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، "اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے

احمد علی Ahmed Ali

کیا وہ کہتے ہیں آپ نے اسے خود بنا لیا ہے کہہ دو اگر میں نے اسے خود بنا لیا ہے تو تم مجھے الله سے بچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے وہی بہتر جانتا ہے جو باتیں تم اس میں بناتے ہو میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا (۱) ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا لایا ہوں تو میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے (۲) تم اس قرآن کے بارے میں جو کچھ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے (۳) میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے (٤) اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (۵)

۸۔۱ اس حق سے مراد جو ان کے پاس آیا قرآن کریم ہے اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے پھر اس سے بھی انحراف کر کے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے ۔
۸۔۲یعنی اگر تماری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے پھر تو یقینا میں بڑا مجرم ہوں اللہ تعالٰی اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرتا بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ؀ۙ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ 45؀ۙ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ 46؀ڮ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ 47؀ ) 69۔ الحاقہ;44)
٨۔۳ یعنی جس جس انداز سے بھی تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو، کبھی اسے جادو، کبھی کہانت اور کبھی گھڑا ہوا کہتے ہو۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے یعنی وہی تمہاری ان مذموم حرکتوں کا تمہیں بدلہ دے گا
۔ ٨۔٤ وہ اس بات کی گواہی کے لئے کافی ہے کہ یہ قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور وہی تمہاری تکذیب و مخالفت کا بھی گواہ ہے۔ اس میں بھی ان کے لئے سخت وعید ہے۔
۸۔۵ اس کے لیے جو توبہ کر لے ایمان لے آئے اور قرآن کو اللہ تعالٰی کا سچا کلام مان لے مطلب ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کر کے اللہ کی مغفرت و رحمت کے مستحق بن جاؤ۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو از خود بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے میرے (بچاؤ کے) لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اس کے بارے میں کرتے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا وه کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا ﻻیا ہوں تو تم میرے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ کہہ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے، اور وه بخشنے واﻻ مہربان ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ(ص) کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ اللہ کے مقابلہ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے (ذرا بھی مجھے نہیں بچا سکتے) (قرآن کے متعلق) تم جن باتوں میں مشغول ہو وہ (اللہ) ان کو خوب جانتا ہے اور وہی میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول نے افترا کیا ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو تم میرے کام آنے والے نہیں ہو اور خدا خوب جانتا ہے کہ تم اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہو اور میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے اور وہی بہت بخشنے والا اور مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،