المائدہ آية ۲۷
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَىْ اٰدَمَ بِالْحَـقِّۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِۗ قَالَ لَاَقْتُلَـنَّكَۗ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ
طاہر القادری:
(اے نبی مکرم!) آپ ان لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کی خبر سنائیں جو بالکل سچی ہے۔ جب دونوں نے (اﷲ کے حضور ایک ایک) قربانی پیش کی سو ان میں سے ایک (ہابیل) کی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) سے قبول نہ کی گئی تو اس (قابیل) نے (ہابیل سے حسداً و انتقاماً) کہا: میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا، اس (ہابیل) نے (جواباً) کہا: بیشک اﷲ پرہیزگاروں سے ہی (نیاز) قبول فرماتا ہے،
English Sahih:
And recite to them the story of Adam's two sons, in truth, when they both made an offering [to Allah], and it was accepted from one of them but was not accepted from the other. Said [the latter], "I will surely kill you." Said [the former], "Indeed, Allah only accepts from the righteous [who fear Him].
1 Abul A'ala Maududi
اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا "میں تجھے مار ڈالوں گا" اس نے جواب دیا "اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، سے ڈر ہے
3 Ahmed Ali
تو اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھکر سنا دے جب ان دونوں نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نہ ہوئی اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا اس نے جواب دیا الله پرہیز گاروں ہی سے قبول کرتا ہے
4 Ahsanul Bayan
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو (١) ان دونوں نے اہک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر قبول ہو گئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی (٢) تو کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالٰی تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔
٢٧۔١ آدم علیہ السلام کے ان دو بیٹوں کے نام ہابیل اور قابیل تھے۔
٢٧۔٢ یہ نذرانہ یا قربانی کس لئے پیش کی گئی؟ اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتداء میں حضرت آدم وحوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی۔ دوسرے حمل سے پھر لڑکا اور لڑکی ہوتی، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بھائی بہن سے کر دیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی، جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کی بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ جو خوبصورت تھی نکاح کرے۔ آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا، لیکن وہ نہ سمجھا بالا خر حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہو جائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا، ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ویسے ہی دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کی بارگاہ میں نذر پیش کی، ہابیل نے ایک عمدہ دنبہ کی قربانی اور قابیل نے گندم کی بالی قربانی میں پیش کی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہوگیا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے
6 Muhammad Junagarhi
آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو، ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی تو وه کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
(اے رسول(ص)) آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا سچا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے) نے کہا میں تمہیں ضرور قتل کروں گا۔ پہلے نے کہا اللہ تو صرف متقیوں (پرہیزگاروں) کا عمل قبول کرتا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور پیغمبر علیھ السّلامآپ ان کو آدم علیھ السّلامکے دونوں فرزندوں کا سچا ّقصّہ پڑھ کر سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا تو دوسرے نے جواب دیا کہ میرا کیا قصور ہے خدا صرف صاحبان ه تقوٰی کے اعمال کو قبول کرتا ہے
9 Tafsir Jalalayn
اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔
آیت ٢٧ تا ٣٤
ترجمہ : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟ (جواب دیا) کہ تیری قربانی قبول ہوئی میری نہیں ہوئی، ھابیل نے کہا اللہ تو خدا پرستوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھائیگا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، لئن میں لام قسمیہ ہے، میں تیرے قتل کے معاملہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور میں تو یوں چاہتا ہوں کہ تو میرے قتل کا گناہ اور اپنے گناہ جن کا تو پہلے سے ارتکاب کرچکا ہے، مثلاً (حسد اور نافرمانی والدین وغیرہ کا گناہ) اپنے سر لے اور دوزخیوں میں سے ہوجائے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ کو قتل کرکے تیرے قتل کا گناہ اپنے سر لوں جس کی وجہ سے دوزخیوں میں ہوجاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ظالموں کے ظلم کی یہی سزا ہے، چناچہ اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا آخر کار اس کو قتل کر ہی ڈالا، تو وہ اس کے قتل کی وجہ سے زیاں کاروں میں شامل ہوگیا، اور اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس میت کے ساتھ کیا کرے ؟ اس لئے کہ روئے زمین پر یہ بنی آدم کی پہلی میت تھی، چناچہ اس کو اپنی پشت پر اٹھا لیا، آخر اللہ نے ایک کوا بھیجا کہ جو اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید رہا تھا، اور اپنے ساتھی دوسرے کوے کی میت پر (مٹی) ڈال رہا تھا، یہاں تک کہ اس کو چھپا دیا، تاکہ وہ (قابیل) کو دکھائے کہ اپنے بھائی کی میت کو کس طرح چھپائے، یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوا کہ اپنے بھائی کی میت کو چھپا سکتا تو وہ اپنے بھائی کی میت کو اپنی پشت پر اٹھائے پھرنے پر شرمندہ ہوا (دوسرا ترجمہ) تو وہ اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ ہونے پر پچھتایا، اور اس کے لئے گڑھا کھودا اور اس میں چھپا دیا، اور اسی حرکت کی وجہ سے جو قابیل نے کی بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا، کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا کفر کے ذریعہ یا زنا یا رہزنی وغیرہ کے ذریعہ فساد برپا کرنے والا ہو، قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس طریقہ پر کہ اس کے قتل سے باز رہا تو اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بچائی ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ حکم نفس کی بےحرمتی اور اس کی حفاظت کے اعتبار سے ہے، اور ان کے یعنی بنی اسرائیل کے پاس ہمارے رسول معجزات لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ظلم و زیادتی کرنے والے رہے یعنی کفر اور قتل وغیرہ کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والے رہے، آئندہ آیت قبیلہ عرینہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ وہ مدینہ آئے اور وہ مریض تھے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بات کی اجازت دیدی کہ وہ اونٹوں کی طرف جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، چناچہ جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہنکالے گئے، ان لوگوں کی سزا جو مسلمانوں سے محاربہ کرکے اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کریں اور رہزنی کے ذریعہ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں، یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے اور سولی دی جائے اور ان کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کاٹ دئیے جائیں یعنی ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پیر کاٹے جائیں) یا انہیں جلاوطن کردیا جائے، اَوْ ترتیب احوال کیلئے ہے قتل اس کیلئے ہے جس نے فقط قتل کیا ہو اور سولی اسکے لئے ہے جس نے قتل کیا ہو اور مال لیا ہو اور قطع اس کے لئے ہے جس نے مال لیا ہو اور قتل نہ کیا ہو، اور جلاوطنی اس کے لئے ہے جس نے صرف خوف زدہ کیا ہو، یہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول یہ ہے کہ قتل کے بعد تین دن تک سولی پر آویزاں رکھنا چاہیے اور کہا گیا ہے کہ قتل سے قبل تھوڑی دیر کیلئے سولی پر آویزوں رکھنا چاہیے اور جلاوطنی کے ساتھ اس کو بھی شامل کرلیا جائیگا جو سزا میں جلاوطنی کے مانند ہو، وہ سزا حبس وغیرہ ہے، یہ مذکورہ سزا ان کیلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں ان کیلئے عظیم عذاب ہے اور وہ آگ کا عذاب ہے، مگر محاربین اور راہزنوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارے انھیں گرفتار کرنے سے پہلے توبہ کرلی، تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں اس گناہ کو جس کا نہوں نے ارتکاب کیا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں۔
اِنَّ اللہ غفور رحیم، سے تعبیر فرمایا نہ کہ فلا تحدّوھم سے، تاکہ کلام اس بات کا فائدہ دے کہ توبہ سے صرف حدود اللہ معاف ہوتی ہیں نہ کہ حقوق العباد، میری سمجھ میں ایسا ہی آیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور نہ اس (نکتہ) سے تعرض کیا ہو، اور اللہ بہتر جاننے والا ہے، چناچہ جب قتل کیا اور مال لیا تو قتل کیا جائیگا اور (ہاتھ) بھی کاٹا جائیگا، اور سولی نہیں دیا جائیگا، اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول ہے اور گرفتاری کے بعد ذاکو کو اس کی توبہ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ
کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اُتْلُ ، تو پڑھ، تو تلاوت کر، تِلَاوَۃ، سے واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔
قولہ : تَبُوْءَ ، بَوْءٌ (ن) مضارع واحد مذکر غائب، تو حاصل کرے، تو سمیٹے، تو کمائے، تو لوٹے۔
قولہ : طَوَّعت تَطْوِیْعٌ، (تفعیل) سے ماضی واحد مؤنث غائب، اس نے رغبت دلائی، اس نے راضی کیا، اس نے آمادہ کیا، اس نے آسان کردیا، (وسَّعَتْ وزیّنَتْ مِنْ طاعَ الموعی لہ، اِذَا اتَّسَعَ ) ۔ (اعراب القرآن للدرویش) ۔ قولہ : سَوْءۃ، لاش، عیب، ستر۔
قولہ : علیٰ حملہٖ ، ای حمل الجسدِ علی ظھرہٖ ، یعنی اپنے بھائی ھابیل کو اپنی پشت پر اٹھائے پھرنے اور دفن کا طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے نادم ہوا، علی حملہٖ کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حملہٖ کی ضمیر کا مرجع قتل کو قرار دیا جائے اور ترجمہ یہ ہو کہ قابیل اپنے نفس کے ھابیل کو قتل پر آمادہ کرنے پر نادم ہوا۔
قولہ : من حیث اِنتِھَاکِ حُرْمَتِھا، اس کا تعلق کانما قَتَلَ الناسَ جمیعا، سے ہے، یعنی جس نے ایک نفس کو قتل کرکے اس کی بےحرمتی کی تو گویا اس نے تمام نفوس کی بےحرمتی کی۔
قولہ : وصونِھَا، اس کا تعلق، فکانّما احیا الناس جمیعا، سے ہے یعنی جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی، مِنْ حیثُ انتھاکِ حُرمَتِھَا وصَوْنِھَا، یہ جملہ لف و نشر مرتب کے طور پر ہے۔
قولہ : عُرنِیّیِیْنَ ، یہ عُرَنِییٌّ، کی جمع ہے یہ عرب کے ایک قبیلہ عرینۃ، کی طرف منسوب ہے عُرنیِین میں یاء نسبی ہے، جیسا کہ جَھَنِیٌّ قبیلہ جہینہ کی طرف منسوب ہے (جمل) عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ اور ابن جریر نے انس کی روایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بحرین کے باشندے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مراد ہیں۔ (احسن التفاسیر)
قولہ : اَوْ لِتَرْتِیْبِ الاَحْوَالِ ، یعنی اَوْ قرآن میں جہاں کہیں آیا ہے وہ تخییر کیلئے ہے سوائے یہاں ترتیب کیلئے ہے۔
تفسیر و تشریح
وَاتلُ ، اس کا عطف سابق میں اُذْکر مقدر پر ہے، ای ذکر اِذ قال موسیٰ لقومہٖ وَاتل عَلَیْھم نَبأَ ابنَیْ آدمَ ، دونوں میں ربط ظاہر ہے معطوف علیہ میں جُبْن عن القتل جہاد سے جی چرانے کا ذکر ہے اور معطوف میں جرأۃ علی القتل قتل ناحق کا ذکر ہے، یہ دونوں باتیں ہی معصیت ہیں۔
نَبَأ ابنَیْ آدمَ سے قابیل وھابیل حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے مراد ہیں، قابیل بڑے تھے ان کا ذریعہ معاش کاشتکاری تھا اور ھابیل چھوٹے تھے ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔ حسن نے کہا ہے کہ مذکورہ دونوں شخص بنی اسرائیل کے فرد تھے مگر صحیح اول ہے اسلئے کہ اسی آیت کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ قاتل کو دفن کا طریقہ معلوم نہیں تھا، ایک کوے سے رہنمائی حاصل کرکے دفن کیا، اگر بنی اسرائیل کا واقعہ ہوتا تو دفن کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے تھا اس لئے کہ ہزار ہا انسان اس سے پہلے انتقال کرچکے ہوں گے
(روح المعانی ملخصاً واضافۃ)
قابیل و ھابیل کا واقعہ : قرآن کریم میں دونوں کے نذر ماننے اور ایک کی نذر قبول ہونے کا ذکر ہے مگر یہ نذر کس لئے مانی گئی تھی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود (رض) کی جو روایتیں ہیں ان کے مطابق واقعہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح ضرورۃً جائز تھا۔ اس لئے کہ بہن بھائیوں کے علاوہ اس وقت کوئی دوسری نسل موجود نہیں تھی، البتہ اس قدر احتیاط کی جاتی تھی کہ ایک بطن کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا، کہا گیا ہے کہ قابیل کی بہن خوبصورت تھی اور ھابیل کی بہن بدصورت، ھابیل کا نکاح قابیل کی بہن سے اور قابیل کا نکاح ھابیل کی بہن سے ہونا تھا مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور اپنی ہی بہن سے نکاح پر مصر رہا، تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بھائی اللہ کی راہ میں نذر پیش کریں جس کی نذر قبول ہوجائے وہ خوبصورت لڑکی سے نکاح کرے، کہا گیا ہے کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام اقلیما تھا اور ھابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام لیوذا تھا۔
قابیل اپنے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی اقلیما سے نکاح کرنے پر مصر رہا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے دونوں کو نذر ماننے کا حکم دیا، قابیل چونکہ زراعت کا پیشہ کرتے تھے وہ گندم کی بالوں کا مٹھا نذر کیلئے لائے اور ھابیل چونکہ گلہ بانی کا پیشہ کرتے تھے تو وہ ایک عمدہ قسم کا دنبہ لائے، اس زمانہ میں نذر قبول کئے جانے کی یہ علامت تھی کہ جس کی نذر قبول ہوتی تھی آسمانی آگ آکر اسے جلا دیتی تھی چناچہ ھابیل کی قربانی بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئی جس کی وجہ سے قابیل کو ھابیل پر حسد ہوا جس کی وجہ سے قابیل نے ھابیل کو قتل کرنے کی ٹھان لی اور ایک روز جبکہ حضرت آدم (علیہ السلام) حج کے لئے تشریف لے گئے تھے ان کی عدم موجودگی میں قابیل نے ھابیل کو قتل کردیا، بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ قابیل نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا لہٰذا قیامت تک ناحق ہونے والے قتل کا گناہ قابیل کے اعمال نامے میں بھی لکھا جائیگا، اس وقت تک مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ جاری نہیں ہوا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کی معرفت دفن کا طریقہ سکھایا، قابیل کوے سے دفن کا طریقہ دیکھ کر بہت نادم ہوا کہ میرے اندر ایک جانور کے برابر بھی سمجھ نہیں، ھابیل چونکہ نبی کے حکم پر تھا اس لئے خود کو اس نے خدا ترس بتایا،۔۔۔۔۔ باثمی واثمکَ ، کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ذاتی گناہوں کے علاوہ میرے خون ناحق کا وبال بھی تیرے ذمہ ہوگا، اور بعض حضرات نے، باثمی، کا مطلب یہ لیا ہے کہ قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت اس ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا قاتل کا جہنم جانا تو سمجھ میں آتا ہے مقتول جہنم میں کیوں جائیگا، آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا۔ (بخاری و مسلم)
اس موقع پر اس واقعہ کا ذکر کرنے کا مقصد : یہاں اس واقعہ قابیل و ھابیل کو ذکر کرنے کا مقصد یہود کو ان کی سازش اور حسد پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے، عبد اللہ بن مسعود نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے، اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے عین وقت پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی سازش کا علم ہوگیا اور دعوت پر تشریف نہ لے گئے، اور یہ سازش محض حسد کی بناء پر رھی یہ آخری نبی بنواسرائیل میں آنے کے بجائے بنو اسماعیل میں کیوں آگیا ؟ حالانکہ وہ آپکا نبی ہونا یقین اور وثوق کے ساتھ پہچانتے تھے۔ (یعرفونہ کما یعرفون ابناءھم) ۔
10 Tafsir as-Saadi
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں“ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا ﴾ ”جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔“ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ ﴾ ” پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نامقبول“ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔
﴿قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا : ﴿لَأَقْتُلَنَّكَ ﴾” میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔“ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا :﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴾ ” اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے“ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ” متقین“ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہو۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur ( aey payghumber ! ) inn kay samney Adam kay do beton ka waqiaa theek theek parh ker sunao . jab dono ney aik aik qurbani paish ki thi , aur unn mein say aik ki qurbani qubool hogaee , aur doosray ki qubool naa hoi . uss ( doosray ney pehlay say ) kaha kay mein tujhay qatal ker daalun ga . pehlay ney kaha kay Allah to unn logon say ( qurbani ) qubool kerta hai jo muttaqi hon .
12 Tafsir Ibn Kathir
حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو ۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)