تم دونوں پر آگ کے خالص شعلے بھیج دیئے جائیں گے اور (بغیر شعلوں کے) دھواں (بھی بھیجا جائے گا) اور تم دونوں اِن سے بچ نہ سکو گے،
English Sahih:
There will be sent upon you a flame of fire and smoke, and you will not defend yourselves.
1 Abul A'ala Maududi
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے
2 Ahmed Raza Khan
تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلا نہ لے سکو گے
3 Ahmed Ali
تم پر آگے کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم بچ نہ سکو گے
4 Ahsanul Bayan
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا (١) پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے۔ (۲)
٣٥۔١ مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے ۔ نحاس کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کئے گئے ہیں۔ ٣٥۔٢ یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
6 Muhammad Junagarhi
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے
7 Muhammad Hussain Najafi
تم دونوں پر آگ کاشعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اپنا بچاؤ نہ کر سکو گے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
تمہارے اوپر آگ کا سبز شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو تم دونوں کسی طرح نہیں روک سکتے ہو
9 Tafsir Jalalayn
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے یرسل علیکما شواظ (الآیۃ) حضرت ابن عباس اور دیگر ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ ضمہ شین کے ساتھ، آگ کا وہ شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھوئیں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو مخاطب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جہنم کے مجرمین کو مذکورہ دونوں قسم کا عذاب دیا جائے اور عض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار دیکر یہ معنی کئے ہیں کہ اے جن و انسانو ! آسمانوں کی حدود سے نکل جانا تمہارے بس کی بات نہیں، اگر تم ایسا ارادہ کر بھی لو تو جس طرف تم بھاگ کر جائو گے تو آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بگولے تمہیں گھیر لیں گے (ابن کثیر) اس وقت تمہاری کوئی مدد نہ کرے گا۔
10 Tafsir as-Saadi
یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَّنُحَاسٌ﴾ ’’اور دھواں۔‘‘ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑ دی جائیں گی جو تمہیں گھیر لیں گی پس تم خود مدد کرسکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہاری مدد کرسکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انہیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر فرماتے ہوئے کہا: ﴿فَبِاَیِّ اٰلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
11 Mufti Taqi Usmani
tum per aag ka shola aur tanbay kay rang ka dhuwan chorra jaye ga , phir tum apna bachao nahi ker-sako gay .