Skip to main content

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَۙ

فَأَمَّآ
پھر اگر
إِن
اگر
كَانَ
ہے وہ
مِنَ
میں سے
ٱلْمُقَرَّبِينَ
مقربین

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے

احمد علی Ahmed Ali

پھر (جب قیامت آئے گی) اگر وہ مقربین میں سے ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس جو کوئی بارگاہ الٰہی سے قریب ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر اگر مرنے والا مقربین میں سے ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر اگر وہ (وفات پانے والا) مقرّبین میں سے تھا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

احوال موت
یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مرقب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گذری کہ رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کی طرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ روح سے مرد راحت ہے اور ریحان سے مراد آرام ہے۔ غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے (یا اللہ ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضامندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین) گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورة ابراہیم کی آیت ( يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ 27؀ ) 14 ۔ ابراھیم ;27) ، کی تفسیر میں وارد کرچکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لئے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ حضرت ملک الموت (علیہ السلام) سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ میں نے اسے رنج راحت و آرام تکلیف خوشی ناخوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔ ملک الموت پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں، الخ۔ مسند احمد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت فروح رے کے پیش سے تھی۔ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی فروح مسند میں ہے حضرت ام ہانی نے رسول مقبول (علیہ السلام) سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے ؟ اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا روح ایک پرند ہوجائے گی جو درختوں کے میوے چگے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائیگی، اس حدیث میں ہر مومن کے لئے بہت بڑی بشارت ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے اور صحیح روایت میں ہے شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلی ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے صحابہ یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا روتے کیوں ہوں ؟ صحابہ نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھلا موت کون چاہتا ہے ؟ فرمایا سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تاکہ ان نعمتوں سے مالا مال ہوجائے پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بیزار نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں تجھ پر سلامتی ہو تو اصحاب یمین میں سے ہے، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ 13؀ۚ ) 46 ۔ الأحقاف ;13) یعنی سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں کچھ رنج غم نہ کر جنت تیرے لئے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لئے موجود ہیں جو تمہارا جی چاہے تمہارے لئے موجود ہے جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو۔ بخاری میں ہے یعنی تیرے لئے مسلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو، واللہ اعلم اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم حمیم سے ہوگی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔ پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔ مسند میں ہے اس آیت کے اترنے پر آپ نے فرمایا اسے رکوع میں رکھو اور آیت (سبح اسم ربک الاعلی) اترنے پر فرمایا اسے سجدے میں رکھو۔ آپ فرماتے ہیں جس نے حدیث (سبحان اللہ العظیم وبحمدہ) کہا اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا (ترمذی) صحیح بخاری شریف کے ختم پر یہ حدیث ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں۔ دعا (سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم) الحمد للہ سورة واقعہ کی تفسیر ختم ہوئی اللہ قبول فرمائے (اور ہمارے کل واقعات کا انجام بھلا کرے۔ )