Skip to main content

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

تَرْجِعُونَهَآ
تم لوٹاتے اس کو
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
صَٰدِقِينَ
سچے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو

احمد علی Ahmed Ali

تو تم اس روح کو کیوں نہیں لوٹا دیتے اگر تم سچے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ (١)۔

٨٧۔١ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ما تحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگر تم ایسا نہیں کر سکتے اس کا مطلب تمہارا گمان باطل ہے۔ یقینا تمہارا ایک آقا ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اسکے عمل کی جزا دے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تو پھر اس (روح) کو کیوں واپس لوٹا نہیں لیتے اگر تم (اس انکار میں) سچے ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تو اس روح کو کیوں نہیں پلٹا دیتے ہو اگر اپنی بات میں سچے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کہ اس (رُوح) کو واپس پھیر لو اگر تم سچّے ہو،