Skip to main content

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَٮِٕنْ جَاۤءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۗ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَاۤ اِذَا جَاۤءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ

وَأَقْسَمُوا۟
اور انہوں نے قسمیں کھائیں
بِٱللَّهِ
اللہ کی
جَهْدَ
اپنی پکی
أَيْمَٰنِهِمْ
قسمیں
لَئِن
البتہ
جَآءَتْهُمْ
آئی ان کے پاس
ءَايَةٌ
کوئی نشانی
لَّيُؤْمِنُنَّ
تو ضرور ایمان لائیں گے
بِهَاۚ
اس پر
قُلْ
کہہ دیجیے
إِنَّمَا
بیشک
ٱلْءَايَٰتُ
نشانیاں
عِندَ
پاس ہیں
ٱللَّهِۖ
اللہ کے
وَمَا
اور کیا
يُشْعِرُكُمْ
چیز سمجھائے تم کو۔ شعور دے تم کو
أَنَّهَآ
بیشک وہ
إِذَا
جب
جَآءَتْ
آگئیں
لَا
نہیں
يُؤْمِنُونَ
وہ ایمان لائیں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، م فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے

احمد علی Ahmed Ali

اور وہ الله کے نام کی پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو اس پر ضرور ایمان لاویں گے ان سے کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ کے ہاں ہیں اور تمہیں اے مسلمانو کیا خبر ہے کہ جب نشانیاں آہیں گی تو یہ لوگ ایمان لے ہی آئیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالٰی کی قسم کھائی (١) اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے (٢) تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضہ میں ہیں (٣) اور تم کو اس کی کیا خبر وہ نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ لائیں گے۔

١٠٩۔١ جھد ایمانہم، ای ; حلفوا ایمانا مؤکدۃ بڑی تاکید سے قسمیں کھائیں۔
١٠٩۔٢ یعنی کوئی بڑا معجزہ جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، جیسے عصائے موسیٰ علیہ السلام۔ احیائے موتی اور ناقہء خمود وغیرہ جیسا۔
١٠٩۔٣ ان کا یہ مطالبہ خرق عادت تعنت و عناد کے طور پر ہے، طلب ہدایت کی نیت سے نہیں ہے۔ تاہم ان نشانیوں کا ظہور تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے، وہ چاہے تو ان کا مطالبہ پورا کردے۔ بعض مرسل روایات میں ہے کہ کفار نے مطالبہ کیا تھا کہ صفا پہاڑ سونے کا بنا دیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے، جس پر جبرائیل علیہ السلام نے آکر کہا کہ اگر اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر انھیں ہلاک کر دیا جائے گا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہ فرمایا۔ (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وه ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضے میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر کہ وه نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ ﻻئیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور انہوں نے اللہ کے نام کی بڑی سخت قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق کوئی معجزہ ان کے پاس آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ کہہ دیجیے کہ معجزہ تو بس اللہ ہی کے پاس ہے جب کوئی ایسا معجزہ آبھی جائے گا تو یہ جب بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان لوگوں نے اللہ کی سخت قسمیں کھائیں کہ ان کی مرضی کی نشانی آئی تو ضرور ایمان لے آئیں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں اور تم لوگ کیا جانو کہ وہ آبھی جائیں گی تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ بڑے تاکیدی حلف کے ساتھ اللہ کی قَسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی (کھلی) نشانی آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہہ دو کہ نشانیاں توصرف اﷲ ہی کے پاس ہیں، اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا خبر کہ جب وہ نشانی آجائے گی (تو) وہ (پھر بھی) ایمان نہیں لائیں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

معجزوں کے طالب لوگ
صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لئے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑجائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ کی نبوت کو مان لیں گے، آپ نے فرمایا کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنادیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں حضرت جبرائیل آئے اور فرمانے لگے سنئے اگر آپ چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آجائیں، آپ نے فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں جاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما۔ اسی پر یہ آیتیں (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ ) 6 ۔ الانعام ;111) تک نازل ہوئیں یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں چناچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ ) 17 ۔ الاسراء ;59) یعنی معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلا یا۔ انھا کی دوسری قرأت انھا بھی ہے اور لا یومنون کی دوسری قرأت لا تو منون ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آجانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی اے مسلمانو تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بےایمان ہی رہیں گے۔ اس صورت میں انھا الف کے زیر کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی یشعر کم کا معمول ہو کر اور لا یومنون کا لام اس صورت میں صلہ ہوگا جیسے آیت (قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ ) 7 ۔ الاعراف ;12) میں۔ اور آیت (وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء ;95) میں تو مطلب یہ ہوتا کہ اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھا معنی میں لعلھا کے ہے بلکہ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں انھا کے بدلے لعلھا ہی ہے، عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جرید (رح) اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں، واللہ اعلم پھر فرماتا ہے کہ ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں۔ ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہوچکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بےایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے ؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے ؟ اسی لئے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہوگا فرماتا ہے آیت (وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ ) 35 ۔ فاطر ;14) اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے ؟ اس نے فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے، یہاں بھی فرمایا کہ معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لئے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین ) ۔