Skip to main content

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰٮهُمُ الْحَـقِّۗ اَلَا لَهُ الْحُكْمُۗ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِيْنَ

ثُمَّ
پھر
رُدُّوٓا۟
وہ لوٹائے جائیں گے
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی
مَوْلَىٰهُمُ
جو مولا ہے ان کا
ٱلْحَقِّۚ
سچا
أَلَا
خبردار
لَهُ
اسی کے لیے ہے
ٱلْحُكْمُ
فیصلہ ۣ
وَهُوَ
اور وہ
أَسْرَعُ
سب سے تیز ہے
ٱلْحَٰسِبِينَ
حساب لینے والوں میں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولیٰ اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا

احمد علی Ahmed Ali

پھر الله کی طرف پہنچائیں جائیں گے جو ا نکا سچا مالک ہے خوب سن لو کہ فیصلہ الله ہی کا ہوگا اور بہت جلدی حساب لینے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جائیں گے (١) خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔

٦٢۔١ آیت میں ردوا (لوٹائے جائیں گے) کا مرجع بعض نے فرشتوں کو قرار دیا ہے۔ یعنی قبض روح کے بعد فرشتے اللہ کی بارگاہ لوٹ جاتے ہیں۔ اور بعض نے اس کا مرجع تمام لوگوں کو بنایا ہے۔ یعنی سب لوگ حشر کے بعد اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے (پیش کئے جائیں گے) پھر وہ سب کا فیصلہ فرمائے گا۔ آیت میں روح قبض کرنے والے فرشتوں کو رسل (جمع کے صیغے کے ساتھ) بیان کیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں متعدد ہیں۔ اس کی تشریح بعض مفسرین نے اسطرح کی ہے کہ قرآن مجید میں روح قبض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف بھی ہے۔ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر)" اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کر لیتا ہے " اور اس کی نسبت ایک فرشتے (ملک الموت) کی طرف بھی کی گئی ہے ـ قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (الم السجدہ) ' کہہ دو تمہاری روحیں وہ فرشتہ موت قبض کرتا ہے جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے ' اور اس کی نسبت متعدد فرشتوں کی طرف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ اس مقام پر ہے اور اسی طرح سورہ نساء آیت ٩٧ اور الانعام آیت ٩٣ میں بھی ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی کی طرف اس کی نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہی اصل امر (حکم دینے والا) بلکہ فاعل حقیقی ہے۔ متعدد فرشتوں کی طرف نسبت اس لحاظ سے ہے کہ وہ ملک الموت کے مددگار ہیں وہ رگوں شریانوں پٹھوں سے روح نکالنے اور اس کا تعلق ان تمام چیزوں سے کاٹنے کا کام کرتے ہیں اور ملک الموت کی طرف نسبت کے معنی یہ ہیں کہ پھر آخر میں وہ روح قبض کر کے آسمانوں کی طرف لے جاتا ہے (تفسیر روح المعانی جلد ۵ ) حافظ ابن کثیر امام شوکانی اور جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ملک الموت ایک ہی ہے جیسا کہ سورہ الم السجدہ کی آیت سے اور مسند احمد میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے اور جہاں جمع کے صیغے میں ان کا ذکر ہے تو وہ اس کے اعوان و انصار ہیں اور بعض آثار میں ملک الموت کا نام عزرائیل بتلایا گیا ہے تفسیر ابن کثیر واللہ اعلم

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس ﻻئے جائیں گے۔ خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وه بہت جلد حساب لے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر وہ اللہ کے پاس جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جاتے ہیں۔ خبردار فیصلہ کرنے کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دئیے جاتے ہیں .... آگاہ ہوجاؤ کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بہت جلدی حساب کرنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر وہ (سب) اللہ کے حضور لوٹائے جائیں گے جو ان کا مالکِ حقیقی ہے، جان لو! حکم (فرمانا) اسی کا (کام) ہے، اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے،