Skip to main content

وَهُوَ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۤءِ مَاۤءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَىْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا ۚ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَيَنْعِهٖ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰ لِكُمْ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ

وَهُوَ
اور وہ
ٱلَّذِىٓ
اللہ وہ ذات ہے
أَنزَلَ
جس نے نازل کیا
مِنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان سسے
مَآءً
پانی
فَأَخْرَجْنَا
پھر نکالی ہم نے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
نَبَاتَ
پیدوار
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کی
فَأَخْرَجْنَا
پھر نکالا ہم نے
مِنْهُ
اس سے
خَضِرًا
سبزہ
نُّخْرِجُ
ہم نکالتے ہیں
مِنْهُ
اس سے
حَبًّا
دانے
مُّتَرَاكِبًا
ایک پر ایک چڑھے ہوئے
وَمِنَ
اور میں سے
ٱلنَّخْلِ
کھجور
مِن
میں سے
طَلْعِهَا
اس کے شگوفوں
قِنْوَانٌ
گچھے
دَانِيَةٌ
لٹکتے ہوئے
وَجَنَّٰتٍ
اور باغات
مِّنْ
کے
أَعْنَابٍ
انگوروں
وَٱلزَّيْتُونَ
اور زیتون کے
وَٱلرُّمَّانَ
اور انار کے
مُشْتَبِهًا
کچھ ملتے جلتے
وَغَيْرَ
اور (کچھ) نہیں بھی
مُتَشَٰبِهٍۗ
ملتے جلتے
ٱنظُرُوٓا۟
دیکھو
إِلَىٰ
طرف
ثَمَرِهِۦٓ
اس کے پھلوں کی
إِذَآ
جب
أَثْمَرَ
وہ پھل لائے
وَيَنْعِهِۦٓۚ
اور اس کے پکنے کی طرف
إِنَّ
بیشک
فِى
اس میں
ذَٰلِكُمْ
البتہ
لَءَايَٰتٍ
نشانیاں ہیں
لِّقَوْمٍ
اس قوم کے لیے
يُؤْمِنُونَ
جو ایمان رکھتی ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اُتارا، تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ، اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،

احمد علی Ahmed Ali

اور اسی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے ہر چیز اگنے والی نکالی پھر ہم نے اس سے سبز کھیتی نکالی جس سے ہم ایک دوسرے پرچڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفوں میں سے پھل کے جھکے ہوئے گچھے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی ہر ایک درخت کے پھل کو دیکھو جب وہ پھل لاتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان چیزوں میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور وہ ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات کو نکالا (١) پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی (٢) کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں (٣)۔ اور کھجور کے درختوں سے ان کے گچھے میں سے، خوشے ہیں جو نیچے کو لٹک جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتوں اور انار کے بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان میں دلائل ہیں (٤) ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔

٩٩۔١ يہاں سے اس کی ایک اور عجیب صنعت (کاریگری) کا بیان ہو رہا ہے یعنی بارش کا پانی جس سے وہ ہر قسم کے درخت پیدا فرماتا ہے۔
٩٩۔١ اس سے مراد سبز شاخیں اور کونپلیں ہیں جو زمین میں دبے ہوئے دانے سے اللہ تعالٰی زمین کے اوپر ظاہر فرما رہا ہے، پھر وہ پودا یا درخت نشو نما پاتا ہے۔
٩٩۔٢ یعنی ان سبز شاخوں سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ جس طرح گندم اور چاول کی بالیاں ہوتی ہیں۔ مراد یہ سب غلہ جات مثلاً جو، جوار، باجرہ، مکئی، گندم اور چاول وغیرہ۔
٩٩۔٣ قنوان قنو کی جمع ہے جیسے صٓنو اور صنوان ہے مراد خوشے ہیں۔ طَلْع،ُ وہ گابھا یا گچھا ہے جو کھجور کی ابتدائی شکل ہے، یہی بڑھ کر خوشہ بنتا ہے اور پھر رطب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دنِیَۃُ، سے مراد وہ خوشے ہیں جو قریب ہوں۔ اور کچھ خوشے دور ہوتے ہیں جن تک ہاتھ نہیں پہنچتے بطور امتنان دانیۃ کا ذکر فرما دیا ہے مطلب ہے منھا دانیہ ومنھا بعیدۃ (کچھ خوشے قریب ہیں اور کچھ دور) بَعِیدۃُ، مخدوف ہے۔ (فتح الْقدیر)۔ ٩٩۔٤ جنات زیتون اور رمان یہ سب منصوب ہیں جن کا عطف نبات پر ہے یعنی فاخرجنا بہ جنات یعنی بارش کے پانی سے ہم نے انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار پیدا کیے۔
٩٩۔٤ یعنی بعض اوصاف میں یہ باہم ملتے جلتے ہیں اور بعض میں ملتے جلتے نہیں ہیں یا ان کے پتے ایک دوسرے سے ملتے ہیں پھل نہیں ملتے یا شکل میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن مزے اور ذائقے میں باہم مختلف ہیں۔
٩٩۔٤ یعنی مذکورہ تمام چیزوں میں خالق کائنات کے کمال قدرت اور اس کی حکمت و رحمت کے دلائل ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور وه ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نبات کو نکالا پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھے میں سے، خوشے ہیں جو نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار کہ بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وه پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان میں دﻻئل ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ وہی تو ہے جس نے آسمان کی (بلندی) سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات اگائے پھر اس سے ہری بھری شاخیں نکالیں کہ ہم اس سے تہہ بہ تہہ (گھتے ہوئے) دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے شگوفوں سے گچھے نکالتے ہیں جو زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ہم نے انگور، زیتون اور انار کے باغات پیدا کئے جو باہم مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی اور اس کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے (پکنے کی کیفیت) کو دیکھو اور بے شک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے (اللہ کی توحید و قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہی خدا وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر ہم نے ہر شے کے کوئے نکالے پھر ہری بھری شاخیں نکالیں جس سے ہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفے سے لٹکتے ہوئے گچھےّ پیدا کئے اور انگور و زیتون اور انار کے باغات پیدا کئے جو شکل میں ملتے جلتے اور مزہ میں بالکل الگ الگ ہیں -ذرا اس کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف غور سے دیکھو کہ اس میں صاحبان هایمان کے لئے کتنی نشانیاں پائی جاتی ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا پھر ہم نے اس (بارش) سے ہر قسم کی روئیدگی نکالی پھر ہم نے اس سے سرسبز (کھیتی) نکالی جس سے ہم اوپر تلے پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار (بھی پیدا کئے جو کئی اعتبارات سے) آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کو (بھی دیکھو)، بیشک ان میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں،