Skip to main content

يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ

يُسَبِّحُ
تسبیح کررہی ہے
لِلَّهِ
اللہ ہی کے لیے
مَا
ہر وہ چیز جو
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمان میں ہے
وَمَا
اور جو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین میں ہے
ٱلْمَلِكِ
جو بادشاہ ہے
ٱلْقُدُّوسِ
نہایت پاکیزہ
ٱلْعَزِيزِ
زبردست
ٱلْحَكِيمِ
حکمت والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست اور حکیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست اور حکیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،

احمد علی Ahmed Ali

جو مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے الله کی تسبیح کرتی ہے وہ بادشاہ پاک ذات غالب حکمت والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ساری چیزیں) جو آسمان اور زمین میں ہیں اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاہ نہایت پاک (ہے) غالب و با حکمت ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

(ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ سب چیزیں جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اس اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو بادشاہ ہے (اور نقائص سے) پاک ہے زبردست ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

زمین و آسمان کا ہر ذرہ اس خدا کی تسبیح کررہا ہے جو بادشاہ پاکیزہ صفات, اور صاحب هعزت اور صاحب هحکمت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ہر چیز) جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے (جو حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے، عزت و غلبہ والا ہے بڑی حکمت والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے
اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔ امیون سیم راد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ الخ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہوجائیں تو وہ راہ راست پر ہیں اور اگر منہ پھیر لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور بندوں کی پوری دیکھ بھال کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ یہاں عرب کا ذکر کرنا اس لئے نہیں کہ غیر عرب کی نفی ہو بلکہ صرف اس لئے کہ ان پر احسان و اکرام بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ہے۔ جیسے اور جگہ ہے وانہ لذکر لک ولقومک یعنی یہ تیرے لئے بھی نصیحت ہے اور تیری قوم کے لئے بھی، یہاں بھی قوم کی خصوصیت نہیں کیونکہ قرآن کریم سب جہان الوں کے لئے نصیحت ہے اسی طرح اور جگہ فرمان ہے (ترجمعہ) اپنے قرابت دار اور کنبہ والوں کو ڈرا دے، یہاں بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کی تنبیہہ صرف اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ عام ہے، ارشاد باری ہے۔ (ترجمہ) لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور جگہ فرمان ہے (ترجمہ) یعنی اس کے ساتھ میں تمہیں خبردار کر دوں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے، اسی طرح قرآن کی بات فرمایا (ترجمہ) تمام گروہ میں سے جو بھی اس کا انکار کرے وہ جہنمی ہے، اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن سے صاف ثابت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت روئے زمین کی طرف تھی، کل مخلوق کے آپ پیغمبر تھے، ہر سرخ و سیاہ کی طرف آپ نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ (ترجمہ) سورة انعام کی تفسیر میں اس کا پورا بیان ہم کرچکے ہیں اور بہت سی آیات و احادیث وہاں وارد کی ہیں فالحمد اللہ یہاں یہ فرمانا کہ ان پڑھوں یعنی عربوں میں اپنا رسول بھیجا اس لئے ہے کہ حضرت خلیل اللہ کی دعا کی قبولیت معلوم ہوجائے، آپ نے اہل مکہ کے لئے دعا ماگنی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان میں ایک رسول ان ہی میں سے بھیجے جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی، انہیں پاکیگی سکھائے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور جبکہ مخلوق کو نبی اللہ کی سخت حاجت تھی سوائے چند اہل کتاب کے جو حضرت عیسیٰ کے سچے دین پر قائم تھے اور افراط تفریط سے الگ تھی باقی تمام دنیا دین حق کو بھلا بیٹھی تھی اور اللہ کی نامرضی کے کاموں میں مبتلا تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا، آپ نے ان ان پڑھ کو اللہ کے کلام کی آیتیں پڑھ سنائیں انہیں پاکیزگی سکھائی اور کتاب و حکمت کا معلم بنادیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے، سنئے عرب حضرت ابراہیم کے دین کے دعویدار تھے لیکن حالت یہ تھی کہ اصل دین کو خورد برد کرچکے تھے اس میں اس قدر تبدل تغیر کردیا تھا کہ توحید شرک سے اور یقین شک سے بدل چکا تھا ساتھ ہی بہت سی اپنی ایجاد کردہ بدعتیں دین اللہ میں شامل کردی تھیں، اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنی کتابوں کو بدل دیا تھا ان میں تحریف کرلی تھی اور متغیر کردیا تھا ساتھ ہی معنی میں بھی الٹ پھیر کرلیا تھا پس اللہ پاک نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عظیم الشان شریعت اور کامل مکمل دین دے کر دنیا والوں کی طرف بھیجا کہ اس فساد کی آپ اصلاح کریں، اہل دنیا کو اصل احکام الٰہی پہنچائیں اللہ کی مرضی اور نامرضی کے احکام لوگوں کو معلوم کرا دیں، جنت سے قریب کرنے والے عذاب سے نجات دلوانے والے تمام اعمال بتائیں، ساری مخلوق کے ہادی بنیں اصول و فروق سب سکھائیں، کوئی چھوٹی بڑی بات باقی نہ چھوڑیں۔ تمام تر شکوک و شبہات سب کے دور کردیں اور اس دین پر لوگوں کو ڈال دیں جن میں ہر بھلائی موجود ہو، اس بلند وبالا خدمت کے لئے آپ میں وہ برتریاں اور بزرگیاں جمع کردیں جمع کردیں جو نہ آپ سے پہلے کسی میں تھیں نہ آپ کے بعد کسی میں ہو سکیں، اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ ہمیشہ درود وسلام نازل فرماتا رہے آمین ! دوسری آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة جمعہ نازل ہوئی جب آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو لوگوں نے پوچھا کہ اخرین منھم سے کیا مراد ہے تین مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال ہوا تب آپ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسی (رض) کے سر پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس ہوتا تو بھی ان لوگوں میں سے ایک یا کئی ایک پالیتے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیغمبری تمام دنیا والوں کی طرف ہے صرف عرب کے لئے مخصوص نہیں کیونکہ آپ نے اس آیت کی تفسیم میں فارس والوں کو فرمایا۔ اسی عام بعثت کی بناء پر آپ نے فارس و روم کے بادشاہوں کے نام اسلام قبول کرنے کے فرامین بھیجے۔ حضرت مجاہد وغیرہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی رب کے سوا کے جو لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور آپ کی وحی کی تصدیق کریں۔ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ اب سے تین تین پشتوں کے بعد آنے والے میرے امتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ اللہ عزت و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اور اپنی تقدیر میں غالب با حکمت ہے، پھر فرمان ہے یہ اللہ کا فضل ہے یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی زبردست عظیم الشان نبوت کے ساتھ سرفراز فرمانا اور اس امت کو اس فضل عظیم سے بہرہ ور کرنا، یہ خاص اللہ کا فضل ہے، اللہ اپنا فضل جسے چاہے دے، وہ بہت بڑے فضل و کرم والا ہے۔